سکھ فسادات 1984:34سال بعد آیافیصلہ، ایک قصوروارکوپھانسی تودوسرے کوعمرقید

sikh
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 1984سکھ فسادات معاملے میں 34سال بعد قصوروار نریش سہراوت کوعمرقید اوریشپال سنگھ کوپھانسی کی سزاسنائی ہے۔یہ معاملہ جنوبی دہلی کے مہیپال پور علاقے میں سکھ دنگے کے دوران 2سکھوں کی موت سے جڑا تھا۔ نریش سہراوت اوریشپال سنگھ گذشتہ دنوں قصوروارٹھہرایاتھا۔ عدالت نے دونوں قصورواروں پر35۔35 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج اجے پانڈے نے یہ فیصلہ کیا۔ فسادات کے دوران دو سکھوں، اوتارسنگھ اورہردیو سنگھ کے گھرجلانے اورقتل کے معاملے میں 14 نومبرکوپٹیالہ ہاوس کورٹ نے دونوں کوقصوروارقرار دیا۔قصورنریش سہراوت کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مہیپال پورمیں دوسکھوں کے گھرجلانے اورقتل کے معاملے میں 14 نومبرکوپٹیالہ ہاوس کورٹ نے دونوں کو قصوروارقرار دیا تھا۔ ہلاک ہونے والے اوتارسنگھ اورہردیوسنگھ کے قتل اورگھرجلانے کے معاملے میں دونوں قصورواروں کوعمرقید کی سزا سنائی۔اس معاملے میں پہلی بار کسی کوموت کی سزاسنائی گئی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *