اردو کے بغیر ہندوستان کا تصور ادھورا ہے:منیش سسودیا

manish
ادارہ کوئی بھی ہو، اس کی پہچان اس کے کام سے ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جامعہ عثمانیہ حیدرآبادکی پہچان اس کے دارالترجمہ سے تھی، لیکن دھیرے دھیرے اس کی یہ پہچان لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگی ہے۔ اردو اکادمی، دہلی مسلسل ادبی، ثقافتی اور علمی پروگرام کا انعقاد کرتی ہے۔ اسی لیے اس کی پہچان ایک فعال اکادمی کے طور پر ہوتی ہے۔ اکادمی صرف پروگرام کا ہی انعقاد نہیں کرتی ہے، بلکہ شاعروں، ادیبوں اور نقادوں کو ایوارڈ سے بھی نوازتی ہے، ساتھ ہے اردو کے فروغ کے لیے مختلف کورسز بھی کراتی ہے تاکہ اردو زبان کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کی چاشنی اور تہذیب وثقافت سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ ان سب کا امکان تبھی ہو سکتا ہے جب اس ادارے کے کارکنان فعال ہوں۔ جشن وراثت اردو میں اکادمی کے کارکنان نے جس محنت ولگن کا ثبوت دیا ہے، وہ یقیناً قابل تعریف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے پروگرام کابحسن و خوبی اختتام ہوا۔جشن وراثت اردو میں ساری چیزوں کو اس خوبصورتی سے سجایا گیا ہے کہ لوگ خود اس کی جانب متوجہ ہوں۔ جس طرح سے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک کو پینٹنگ کے بہترین نمونے سے مزین کیا گیا تھا، وہ منہ بولتی تصویر ہے۔ تہذیب وثقافت کا تعلق جہاں ہماری تاریخ سے ہے، وہیں وہ ہمارے دل کی آواز بھی ہے۔ جشن وراثت اردو میں سامعین و ناظرین اردو کی تہذیبی روایت سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ اس جشن میں دہلی کی تہذیب کو بھی لوگوں نے ملاحظہ فرمایا۔ پروگرام کی رنگا رنگ کیفیت نے اس جشن کو لوگوں کے دلوں سے قریب تر کر دیا ۔ چھ دن تک یہ یادگاری اور تاریخی پروگرام کا اختتام اس خوبی سے ہوا کہ لوگوں کو بہت دنوں تک یاد رہے گا۔اس پورے پروگرام میں ریشما فاروقی اور اطہر سعید نے بہت خوبی سے نظامت کے فرائض انجام دیے ساتھ ہی فنکاروں کا بہت ہی خوبی سے دونوں نے تعارف بھی پیش کیا۔ ان کے اختصاص سے سامعین کو روشناس کرایا۔
جشن وراثت اردو میں دہلی کے مختلف وزرا ، ایم۔ایل۔اے کے علاوہ نائب وزیر اعلی جناب منیش سسودیا نے مختلف پروگرام میں شرکت کی۔ تقسیم انعامات کی تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ کا آناطلباو طالبات کے لیے حوصلہ افزا رہا۔ منیش سسودیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ سال اس پروگرام کو اور بھی بہتر طریقے سے پیش کریں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اردو کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے یہ اسی طرح پھلتی پھولتی رہے گی۔ انھوں نے اردو کے فروغ کے لیے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کی اور یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کا اس طرح کے پروگرام میں آنا اردو کے لیے خوش آئین ہے۔ جشن وراثت اردومیں مسز انڈیا(برطانیہ)موہینی شری نواسن، رضوانہ شہپر اور شکیلہ حیات کے علاوہ گورننگ کونسل کے ممبران نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ مختلف معزز شخصیات اور زبان و ادب، تہذیب وثقافت سے دلچسپی رکھنے والے کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور چھ دنوں تک مسلسل چلنے والے جشن وراثت اردو کے مختلف پروگرام سے خوب لطف اندوز ہوئے۔
جشن وراثت اردو میں اردو کی تہذیبی روایات کی بھر پور نمائندگی ہوئی۔دہلی حکومت کی جوکوشش ہے کہ شہر دہلی کی سماجی اور تہذیبی وراثت کا فروغ ہو،حکومت دہلی کے اس مشن میں اردو اکادمی نے بھر پور تعاون پیش کیا۔ اپنی پہچان کا تحفظ ہر حال میں باقی رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔اردو زبان کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبان لوگوں کے جذبات واحساسات کی بھر پور ترجمان ہے۔ باہمی تعلقات اور یگانگت کو استوار کرنے میں جشن وراثت اردو جیسے پروگرام کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح کے پروگرام سے دلوں کی دوری کم ہوگی اور ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا۔کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں پروگرام کو منتقل کرنے کا اکادمی کا جو مقصد تھا، اس میں کامیابی ملی۔ کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جشن وراثت اردومیں شرکت کرکے اکادمی کے ذمہ داران اور حکومت دہلی کے فیصلے کودرست ٹھہرایا۔جشن وراثت اردو کو جس وسیع پیمانے پر منعقد کیا گیا اور جس طرح سے اہم فنکاروں کو اس پروگرام کے ذریعے سامعین وناظرین کے روبرو کیاگیا، وہ ایک تاریخ ساز کام ہے۔جس امید کے ساتھ سے جشن وراثت اردو کا انعقاد کیاگیا تھا،اس مقصد کی تکمیل جشن وراثت اردو میں بخوبی ہوئی۔
دوپہربارہ بجے جشن وراثت اردو کے چھٹے دن کا آغاز قصہ’’قصہ پہیلیوں کا‘‘ سے ہوا۔ جسے ٹیلنٹ گروپ نے پیش کیا۔ اس گروپ میں معصوم بچوں نے بہترین فنکاری کا ثبوت دیا۔ناظرین نے ان بچوں کی خوب حوصلہ افزائی کی۔دراصل یہ گروپ پہلے دن سے کسی ایک اہم موضوع پر قصہ کی شکل میں اپنی فنکاری کا ثبوت دے رہا ہے۔الگ الگ موضوع پر بلاناغہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو تیار کرنا کسی بھی طور آسان کام نہیں ہے، لیکن ان بچوں نے اپنی محنت اور لگن سے خود کو اس کے لیے تیار کیا۔ناظرین نے ان بچوں کی اداکاری اور فنکاری کو خوب سراہا۔اس کے معاً بعد دہلی کی مختلف جامعات کے طلبا کے کے درمیان مباحثہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مباحثے میں کل تین ٹیموں نے حصہ لیا۔ یہ حصہ اس اعتبار سے بہت دلچسپ رہا کہ جشن وراثت اردو میںیہ اپنی نوعیت کا مختلف پروگرام تھا۔ ادب اور سماج کے موضوع پر دلچسپ مباحثے سے لوگ محظوظ ہوئے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر اردو کے اہم ناقدین نے قلم اٹھایا، ان میں احتشام حسین اورپروفیسرمحمد حسن سر فہرست ہیں۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید حسن نے انجام دیے۔اس مباحثے میں جج کے فرائض ڈاکٹر ابو بکرعباد اور ڈاکٹرشفیع ایوب نے ادا کیے۔انعامات کے اعلان سے پہلے دونوں جج صاحبان نے مباحثے کے تعلق سے اہم گفتگوکی ۔اس مباحثے میں انعام ٹیم کو نہیں دیا گیا، بلکہ انفرادی انعام دیا گیا۔ مباحثے میں وسیم احمد علیمی(جامعہ ملیہ اسلامیہ)، خبیب احمد(جامعہ ہمدرد)، محمد اشرف(جواہر لال نہرو یونیورسٹی) خطیب الرحمن (جامعہ ملیہ اسلامیہ)کو بالترتیب اول، دوم،سوم اور حوصلہ افزائی کے انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ محفل غزل کے تحت سیف علی خاں(دہلی) نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔جلسہ تقسیم انعامات میں ان طلبا کو چیک،شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا، جنھوں نے غزل سرائی،امنگ پینٹنگ اور بیت بازی میں حصہ لیاتھا اوران میں سے جنھیں اول ،دوم، سوم اور حوصلہ افزائی انعام کا مستحق قرار دیا گیاتھا۔ یہ انعام دہلی کے نائب وزیر اعلی جناب منیش سسودیا، اردواکادمی دہلی کے سابق وائس چیئر مین پروفیسر خالد محموداور اردو اکادمی، دہلی وائس چیئر مین پروفیسر شہپرر سول کے دست مبارک سے دیا گیا۔ اس کے بعد صوفی محفلیں منعقد ہوئیں۔ جس میں پہلی صوفی محفل گریش سدھوانی (ممبئی)نے اپنی خوبصورت آوازاور کلام سے محفل کو اور بھی پر کشش بنا دیا، اس کے بعدصوفی بینڈ(ممبئی)میں ایم آئی ایف تپس نے اپنے فن کا اس طرح سے جوہر دکھایا کہ لوگوں پر وجد طاری ہوگیا۔ظاہر ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا مختلف پروگرام تھااور اس کا تعلق براہ راست عقیدت سے ہے، اس لیے بھی لوگوں نے اس صوفی بینڈ سے خوب لطف لیا۔ شام ڈھلتے ڈھلتے صوفی محفل کے تحت فلمی دنیا کے معروف موسیقاراور مختلف موسیقی کے مقابلے کے جج جاوید علی(ممبئی)نے اپنی آواز کا وہ جادو بکھیراکہ کناٹ پلیس کا سینٹرل پارک کی فضا کا ایک دوسرا ہی نظارہ معلوم ہونے لگا۔ آخر میں معروف شاعر جناب اظہر عنایتی کی صدارت میں ایک شاندارکل ہند مشاعرہ کاانعقاد کیا گیا۔ اس مشاعرہ کی نظامت کے فرائض معروف شاعر اور ناظم مشاعرہ جناب معین شاداب نے انجام دیے۔اس مشاعرے میں راحت اندوری، راجیش ریڈی، شعیب نظام، شکیل اعظمی، مختار یوسفی، عزم شاکری، فاروق جائسی، شرف نانپاروی، نسیم نکہت اورشبینہ ادیب جیسے شعرا نے شرکت کی۔ شعرا نے سامعین کے جذبات کی قدردانی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور سامعین نے بھی شعرا کوخوب دادو تحسین سے نوازا۔ جشن وراثت اردو کے چھٹے اور آخری دن مختلف معزز شخصیات کے علاوہ ادب و ثقافت سے دلچسپی رکھنے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *