بابری مسجد کی منتقلی 

Share Article

babri-masjid-ram-mandir
بابری مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز پیش کرکے مولانا سلمان حسینی ندوی سخت تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔یہ دوسری مرتبہ ہے جب انہوں نے اس طرح کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے میں حرج ہی کیا ہے جبکہ ایسا کرکے ملک و قوم کا بہت سنگین مسئلہ حل کیا جاسکتاہے۔سوشل میڈیا پر وائرل خبر کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار بیکار ہے ،اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اجودھیا میں متعلقہ مقام پر رام مندر بنانے کی جو خطرناک تحریک 1990 میں شروع کی گئی تھی ۔آج دوبارہ اسی طرح کی تحریک پھر شروع کی جارہی ہے۔ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایسی تحریک 1992 میں نہ صرف مسجد کی شہادت کا سبب بنی تھی بلکہ ہزاروں مسلمانوں کو جان و مال بھی گنوانا پڑا تھا اور اس کی ٹیس سے آج تک ملک کے لوگ بھلا نہیں پائے ہیں۔
مولانا ندوی کے اس بیان کی ہر طرف سے تنقید ہورہی ہے۔ علمائے ہریانہ نے مولانا ندوی کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جو موصوف نے بغیر کسی کے دریافت کئے ہی بابری مسجد کے حوالہ سے بیان دے دیاہے۔ پریس کو جاری بیان میں مدینہ مسجد کے خطیب قاری نسیم احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا سلمان کے مطابق ہمیں صلح حدیبیہ کی طرز پر مفاہمتی عمل جاری رکھتے ہوئے دوسرے مذہبی مقامات کے تحفظ کی ضمانت پر بابری مسجد کو مندر بنانے کے لئے اور ان کو دے دینی چاہئے ،یہی وہ خطرناک بیان ہے جوکہ مولانا کے دماغ کی پیداوار ہے اور یہ بیان بے دلیل ہے۔
انہوں نے کہا یہ صرف اور صرف مولانا دماغ کی پیداوار ہے اور یہ بیان بلا دلیل ہے۔ انہوں نے کہا توحید و رسالت اسلام مذہب کے بنیادی عقائد میں شامل ہے ۔پوری اسلامی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ توحید کے منافی کاموں شرک وغیرہ کے لئے کوئی مسجد کسی دوسری جگہ منتقل کی گئی اور مولانا راشد وفا ندوی نے کہاکہ ہم حیرت زدہ ہیں کہ مولانا ندوی کس طرح کے اوٹ پٹانگ بیان دے رہے ہیں اور عبادت گاہ کو توحید کے خلاف کاموں کے لئے سپرد کرنے کی تجویز پیش کررہے ہیں۔مولانا نے کہا کہ زبردستی مسجد گرانی یا زبردستی مندر بنا دینے اور برضا مسجد مندر کے لئے سونپنے میں توزمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ عقیدہ کا فرق ہے ۔کوئی کلمہ گو ایمان کی حالت میں شرکیہ کاموں کے لئے مسجد کی منتقلی کی بات کیسے سوچ سکتاہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *