جمہوریت کی بقا اب اس ملک کے 125 کروڑ کے ہاتھوں میں ہے

31 سال کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے ہاشم پورہ میں مارے گئے لوگوں کو تھوڑا سا انصاف دینے کی کوشش کی ہے۔ 31 سال پہلے ہمارے پاس ایک خبر آئی اور صحیح کہیں تو خبر خود چل کر آئی، غازی آباد کے اس وقت کے ایس ایس پی وی این رائے ’چوتھی دنیا ‘ کے دفتر میں آئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ہاشم پورہ کے لوگوں کو لائن سے کھڑا کیا، گولی ماری اور لاشیں بہا دی۔ انہوں نے کہا کہ اس خبرکو انہوں نے اس وقت کے ایک معروف روزنامہ کو دی تو اس نے چھاپنے سے منع کر دیا۔ پھر یہ خبر انہوں نے کئی لوگوں کو بتائی لیکن سب نے چھاپنے سے منع کردیا، تب وہ ’چوتھی دنیا ‘ کے دفتر میں آئے۔جیسے ہی انہوں نے پورا واقعہ بتایا ، میں سمجھ نہیں پایا کہ کیا کرنا چاہئے اور تب اس خبر کو لے کر ہم نے وریندر سینگر سے کہا کہ وہ اس خبر کی تہہ تک جائیں ، اس خبر کو ہم ضرور چھاپیں گے۔
اس وقت ملک کے وزیر اعظم راجیو گاندھی تھے اوراتر پردیش میں وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ تھے۔ فسادات کافی دنوں سے چل رہے تھے۔ وریندر سینگر جب حقائق لے کر آئے تب پتہ چلا کہ کس طرح سے پی اے سی نے ہاشم پورہ کے لوگوں کو گھروں سے نکالا ،نہر کے کنارے لے کر آئے، گولی ماری اور لاشیں بہا دی۔ اس وقت غازی آباد کے ضلع کلکٹر نسیم زیدی تھے۔ نسیم زیدی بعد میں ملک کے چیف الیکشن کمشنر بنے اور وہیں سے وہ ریٹائر ہوئے۔ وی این رائے ایس ایس پی تھے۔ زیدی صاحب ڈی ایم تھے۔ دونوں اس خبر کو پاکر نہر کے کنارے چاروں طرف گھومنے لگے۔ ماحول ایسا تھا کہ پی اے سی کے ہاتھوں ان کی اپنی جان بھی بہت محفوظ نہیں تھی۔ جب ہم نے یہ خبر چھاپی تو اترپردیش سرکار نے ساری کاپیاں خرید لی۔ ہم نے دوبارہ اخبار چھاپا اور کاپیاں بازار میں بھیجی ،وہ بھی خرید لی۔ ہم نے تیسری بار پھر چھاپا اور تب ویر بہادر سنگھ کا فون آیا کہ ہم یہ بھی خرید لیں گے۔ میں نے کہا کہ ویر بہادر جی جب تک پریس چھاپنے سے منع نہیں کرتا ،ہم ان کاپیوں کو پھر سے چھاپیں گے۔

 

 

 

کوئی گرفتار نہیں ہوا، پولیس کے ڈر سے گواہ نہیں آئے، جن کے گھر کے لوگ مارے گئے تھے، انہوں نے کیس کی پیروی چھوڑ دی لیکن کچھ ایسے لوگ تھے جن کا عدلیہ نظام میں بھروسہ تھا ،وہ اس کے پیچھے پڑے رہے۔ ایک بار تو عدالت نے یہ کہا کہ اس سے متعلق ایف آئی آر اور کاغذ وہ لوگ لے کر آئیں جن کے اوپر ظلم ہوا ہے یا جن کے گھر کے لوگ مارے گئے تھے ۔ہاشم پورہ معاملہ میں نچلی عدالت سے تو سبھی چھوٹ گئے تھے۔ ہائی کورٹ میں یہ کیس گیا اور ہائی کورٹ نے 16 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ سپریم کورٹ میں یہ سزا برقرار رہتی ہے یا نہیں لیکن کم سے کم دہلی ہائی کورٹ نے یہ بتادیا کہ وہ انصاف کے عمل کو ایمانداری کے ساتھ آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
میں اس کیس کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کیونکہ اب تو عدالتوں کو بھی دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔ سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر کو لے کر ایک حکم دیا ،اس کے پہلے اس نے مسلم درگاہوں کو لے کر کے حکم دیا تھا اور عورتوں کو درگاہ کے اندر تک جانے کی اجازت دی تھی۔مسلم عورتیں اب درگاہوں کے اندر جاتی ہیں جو نہیں جانا چاہیں وہ ان کی خواہش کے اوپرانحصار کرتا ہے۔سبری مالا مندر کیرل میں ہے۔بھگوان ایپّا کا گھر ہے۔وہاں پر عورتوں کا داخلہ جب سے مندر بنا تب سے ممنوع تھا۔ سپریم کورٹ تک یہ معاملہ گیا اور سپریم کورٹ نے عورتوں کو پوجا کرنے کی اجازت دی۔ لیکن سپریم کورـٹ کے حکم کی مخالفت اگر مقامی باشندے یا بھکت کرتے تو بھی بات سمجھ میں آتی لیکن سپریم کورٹ کے حکم کی مخالفت برسراقتدار بی جے پی نے کی اور اسے مخالفت کرنے میں کسی طرح کا تردد نہیں ہوا۔ بی جے پی کے قومی صدر کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو آستھا (عقیدت ) کے سوالوں کے اوپر فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ یعنی سپریم کورٹ وہی کرے یا کہے جیسا ایک بڑی بھیڑ چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ آئین یا قانون کی تعمیل نہ کرے اور اگر وہ قانون کی تعمیل کرے گا ، آئین کے مطابق اگر کوئی فیصلہ دے گا تو اس فیصلے کو لاگو نہیں کرایا جا سکتا ہے ۔کیونکہ لاگو کرنے والی مشینری تو مرکزی سرکار یا ریاستی سرکار کے پاس ہے۔
ہمیں مان لینا چاہئے کہ اب سے پہلے ہم نے جو آئین کے بارے میں پڑھا، ہم نے جو جمہوریت کے بارے میں پڑھا ، ہم نے جو روایات کے بارے میں پڑھا، انسانیت کے بارے میں پڑھا ،وہ تمام پڑھائی ایک طرح سے بے مطلب ہے۔ جس طرح سے آج کا سماج ہے اور جس طرح کے سماج کی ساخت بدلتی جارہی ہے، اس میں ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ آئین یا قانون اہم نہیں ہے۔ کس طرح کی بھیڑ ہے، اسے آپ کیسے سمجھا سکتے ہیں ،کیسے آستھا اور روایت کے نام پر آپ انسانیت کے تاروں کو بکھیر سکتے ہیں۔شاید آگے ویسا ہی ہونے والا ہے۔

 

 

 

مجھے دو وزراء اعظم کی بات یاد آتی ہے۔ وی پی سنگھ وزیر اعظم تھے، لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا شروع کر دی تھی، اٹل جی صدر جمہوریہ کے پاس جانے سے پہلے وی پی سنگھ سے ملنے آئے اور ان سے کہا کہ آپ صرف پانچ اینٹ لے جانے کی اجازت دے دیجئے، ہم پانچ اینٹ رکھ کر چلے آئیں گے اور سرکار سے حمایت واپس نہیں لیں گے اور سرکار چلتی رہے گی۔ وی پی سنگھ نے کہا’ اٹل جی، میں وزیر اعظم ہوں اور اگر میں سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کرپایا تو یہ میری توہین نہیں ہوگی، یہ سپریم کورٹ کی توہین ہوگی اور ملک کا وزیراعظم سپریم کورٹ کی توہین نہیں ہونے دے سکتا۔ نہیں تو ہمارے جمہوری نظام کا فلسفہ ہی بکھر جائے گا‘۔ اٹل جی ہنسے اور انہوں نے کہا کہ پھر میں یہاں سے جاتا ہوں اور صدر کو حمایت واپسی کا لیٹر دے دیتا ہوں۔ وی پی سنگھ نے کہا کہ’ ایک آخری بات، آپ بھی کبھی نہ کبھی وزیر اعظم بنیں گے اور جب آپ وزیر اعظم بنیں گے تو آپ اپنے قلم کی طاقت سے جو مجھے آج کرنے کے لئے کہہ رہے ہیںآپ خود کر لیجئے گا۔
اٹل جی چلے گئے، صدر کو انہوں نے حمایت واپسی کا لیٹر دے دیا، وی پی سنگھ کی سرکارگر گئی ۔ یہ 1990 کی بات ہے۔ 1998,1996 اور 1999 میں اٹل جی وزیر اعظم بنے۔ رام مندر کو لے کر کے کچھ سادھو سنتوں کے بیانات آئے تھے تو وی پی سنگھ جی کو کچھ یاد آیا۔ انہوں نے فوراً اٹل جی کو فون کروایا۔ اٹل جی جمہوری سوچ کے وزیراعظم تھے ۔انہوں نے فوراً وی پی سنگھ کے فون کے جواب میں کال بیک کیا۔ وی پی سنگھ نے کہا ’اٹل جی،آپ کو یاد ہے ایک دن میں نے آپ سے کہا تھا کہ جب آپ وزیراعظم بنیں تو آپ اپنے قلم کی طاقت سے رام مندر بنوا لیجئے گا، اب کیا صورت حال ہے؟‘اٹل جی کی فون پر ہنسی سنائی دی۔ وہ تیزی سے ہنسے اور بولے کہ میں آپ سے بات کروں گا۔ اٹل جی وزیر اعظم لگ بھگ 7سال رہے لیکن رام مندر کا مسئلہ وہیں کا وہیں اٹکا رہا کیونکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ نہیں کیا تھا اور سپریم کورٹ کے اس مسلسل چلنے والے حکم کی اٹل جی نافرمانی نہیں کرسکے۔
اب امیت شاہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو عوامی جذبے کے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ یعنی سپریم کورٹ رام جنم بھومی کے اوپر ایک ہی فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ ہے اس متنازع جگہ پر رام مندر کی تعمیر ہو۔ سبری مالا میں اس کا ریہرسل ہو چکا ہے۔ ریہرسل کا مطلب سپریم کورٹ کا اگر حکم دوسرا ہوتا ہے تو اس حکم کی تعمیل نہ ہو اور اگر حکم ہو یا نہیں ہو تو ایک ساتھ لوگ چلے جائیں، سرکار چپ رہے اور لوگ وہاں پر مندر بنانا شروع کردیں۔اس کی بھی تیاری کچھ حلقوں میں ہورہی ہے۔
یہ ساری چیزیں میرے جیسے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کررہی ہیں کہ اٹل بہاری واجپئی ، لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی، دین دیال اپادھیائے جیسے جمہوریت کا احترام کرنے والے محبین وطن کے نظریات کے لئے اب ہمارے سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ نام ان کا بھلے ہی لیں لیکن اقتدار ان سب کے نظریات کے خلاف سوچ پر چلے گا اور چل رہا ہے۔اس صورت حال میںاگر ٹیلی ویژن چینلوں سے ہم گائڈ ہوں،حکم و ہدایت لیں تو صورت حال جاری ہے یا جمہوریت کے تئیں احترام کا جذبہ ایک بار پھر اگر پیدا کرنی ہو تو وہ جذبہ اس ملک کے عوام ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ ملک کا پورا جمہوری ڈھانچہ یا انسانیت کا رشتہ، بھائی چارہ ،یہ سب اب اس ملک کے 125 کروڑ کے ہاتھوں میں ہے۔ دیکھتے ہیں اس ملک کے عوام جمہوریت چاہتے ہیں یا جمہوریت کے نام پر کچھ اور چاہتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *