سپریم کورٹ کی اترا کھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک

کسی دینی ادارے سے مخصوص مذہبی سوال کا جواب دیئے جانے کو فتویٰ کہا جاتا ہے۔اصطلاح میں اس طرح کے سوالات پوچھنے کو استفتاء کہا جاتا ہے۔ ادھر کچھ دنوں میںاس اصطلاح کو بدلنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔چاہے وہ کسی عالم کا بیان ہو، پنچایت کا فیصلہ ہو یا کسی باوقار مسلم شخصیت کی رائے ہو، اسے فتویٰ کا نام دے کر خوب اچھالا جاتا ہے اور پروپیگنڈہ کرکے فتویٰ کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پروپیگنڈہ اتنے زبردست طریقے پر کیا جاتا ہے کہ بسا اوقات اس کی زد میں پڑھا لکھا طبقہ اور عدالت بھی آجاتی ہے۔ چنانچہ گزشتہ دنوں اترا کھنڈ ہائی کورٹ نے ایک پنچایت کے غیرقانونی فیصلے کو فتویٰ سمجھ کر مذہبی تنظیموں، اداروں ، پنچایتوں، مقامی پنچایتوں اور پبلک گروپ کی طرف سے فتویٰ جاری کرنے پرروک لگا دی تھی۔کورٹ کا یہ فیصلہ 30 اگست 2018کو آیا تھا۔کورٹ نے فتویٰ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کو فرد کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔
اترا کھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ
دراصل اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو شرما اور جسٹس شرد کمار شرما کی بنچ نے ہریدوار کے ایک گاؤں میں نابالغ سے ریپ کے بعد جاری ہوئے پنچایتی فیصلے کے بعد یہ پابندی لگائی تھی۔ نابالغ لڑکی سے ریپ کے بعد حاملہ ہونے اور ملزمین کے خلاف منہ کھولنے پر پنچایت نے متاثرہ کو گاؤں سے باہر کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔اس فیصلے کو کچھ طبقے نے فتویٰ کہہ کر خوب تشہیر کی۔ اس پنچایتی فیصلے کو بار بار فتویٰ کہنے کا پروپیگنڈہ اتنا منظم طریقے سے انجام دیا گیا کہ اتراکھنڈ کے کورٹ نے بھی اس فیصلے کو فتویٰ سمجھ لیا اور فتوی جاری کرنے پر روک لگا دی جبکہ سچائی یہ ہے کہ یہ کوئی فتویٰ نہیں تھا بلکہ گائوں کی پنچایت کا ایک فیصلہ تھا جس کو کچھ میڈیا نے فتویٰ کا نام دے دیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے بھی اسے فتویٰ ہی کہنا شروع کردیا اور اس طرح سے فتویٰ کے خلاف ایک عام ہوا چل پڑی جس کی زد میں عوام و خواص کے معتدبہ افراد اور ادارے آگئے۔
چونکہ یہ کوئی فتویٰ تھا ہی نہیں، لہٰذا دارالعلوم دیوبند کی طرف سے اس فیصلے کی مخالفت ہوئی اور نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ کسی پنچایت یا چند افراد کے ذریعے کیے گئے فیصلے کو فتویٰ سے تعبیر کرنا غلط ہے اوراتراکھنڈ ہائی کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔مولانامدراسی نے کہا کہ جب سپریم کورٹ 2014 میں فتاویٰ پر پابندی عائد نہ کرنے کے سلسلہ میں اپنا و فیصلہ سناچکا ہے توپھر اتراکھنڈ ہائی کورٹ کو اس سلسلہ میں کسی طرح کا حکم جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے سامنے فتویٰ کے دفاع میں صحیح موقف نہیں رکھا جاسکا۔ فتوے دینے کا حق صرف مفتیان کرام کو ہے ، کسی پنچایت یا چند افراد کے ذریعہ کئے گئے کسی فیصلے کو فتوے سے تعبیر کرنا غلط ہے۔

 

 

 

 

ہائی کورٹ کا فتویٰ کے خلاف فیصلہ ایک پروپیگنڈہ کی بنیاد پر تھا اور اس فیصلے کی وجہ سے دینی ادارے یا پھر فتویٰ کا غلط مفہوم عوام میں جارہا تھا لہٰذا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 4ستمبر کو جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود حسن مدنی نے مذکورہ فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔جمعیت کی طرف سے عدالت میں ایڈوکیٹ راجو رام چندرن، ایڈوکیٹ شکیل احمدسید،ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی ، ایڈوکیٹ طیب خاں، ایڈوکیٹ مجیب الدین خاں،ایڈوکیٹ عظمی جمیل، ایڈوکیٹ پرویز دباس پیش ہوئے اور اپنا موقف مضبوطی سے رکھا۔
عرضی گزار کی پیروی کر رہے سینئر وکیل راجو رام چندر ن نے عدالت میں دلیل دی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ دستو ر ہند کی دفعہ 26اور وشوا لوچن مدان کیس بنام حکومت ہند میں بذات خود سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید خلاف ورزی ہے۔ دستور ہند کی دفعہ 26(B) میں ہر ایک کو اپنے مذہبی مسائل میں خود کے انتظام کا حق دیا گیا ہے،لہٰذا اسے کوئی بھی عدالت ختم نہیں کرسکتی۔نیز دستورکی دفعہ 141یہ واضح کرتی ہے کہ کسی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دینے کا حق نہیں ہے۔ نیز اس پیشی میں اس بات کی بھی شکایت کی گئی کہ ہائی کورٹ نے لشکر پنچایت کے فرمان کو ’فتوی‘سمجھنے کی غلطی کی ہے اور اس سلسلے میں صرف ہندی کے ایک اخبار کو بنیاد بنا کر فیصلہ دے دیا گیا۔حالاں کہ اخبار کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ محض پنچایتی فرمان ہے اور اس کا فتوی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
ان کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمی نے نوٹس جاری کیا اور ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگادی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے (اسٹے آرڈر )پر جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ کہا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حیرت انگیز حکم کے بعد پورے ملک میں بے چینی محسوس کی جارہی تھی۔اس امتناعی حکم سے ملک میں موجود ہزاروں کی تعداد میں دارالافتاء اور مذہبی اداروں کے متاثر ہونے کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھا ۔چونکہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ تھا۔لہٰذا معاملے کی سنجیدگی کے مدنظرجمعیت علماء نے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت ہوئی اور ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے فتوی پر پابندی سے متعلق اتراکھنڈ کے فیصلے پر اسٹے کا حکم جاری کیا ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ شرعی عدالتوں سے فتویٰ جاری ہونے کے تعلق سے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ماقبل میں آچکا ہے۔اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ شرعی عدالتو ں کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے اور وہ ایسے فتوے جاری کرنے کی مجاز نہیں ہیں جن سے فرد کے آئینی حقوق کی پامالی ہوتی ہو۔ فتووں کو معصوم لوگوں کو سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہاکہ ’اسلام سمیت کوئی بھی مذہب ایسے ضابطوں سے معصوم افراد کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا جنھیں قانونی طورپر منظوری حاصل نہ ہو۔ عوام ان اداروں کے فیصلوں اور فتووں کو ماننے کی پابند نہیں ہیں اور یہ ادارے صرف اسی صورت میں فتوے دینے کے مجاز ہوں گے جب ان سے متاثرہ افراد رجوع کریں گے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس تناظر میں آیا تھا جب ملک میں عائلی معاملوں کو حل کرنے کے لئے پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے شرعی عدالت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ شرعی عدالت کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ سپریم کورٹ میں لاکھوں کی تعداد میں مقدمات ملتوی پڑے ہوئے ہیں۔ اگر شرعی عدالتوں میں فریقین کی رضامندی سے عائلی مسائل مذہبی بنیاد پر حل کرلئے جائیں تو عدالت پر بوجھ کم ہوگا اور ملتوی مقدموں کو نمٹانے میں مدد ملے گی۔مگر شرعی عدالت کے قیام کا منصوبہ بنتے ہی ایک وکیل نے مفاد عامہ کی ایک عرضی سپریم کورٹ میں دائر کردی اور اپیل کی کہ شرعی عدالتیں عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہیں،اس لئے ان پر پابندی لگائی جائے۔
اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ’شرعی عدالتیں اور دارا لقضا کو آئینی منظوری حاصل نہیں ہے اور وہ ایسے کوئی فیصلے اور فتوے نہیں دے سکتے جن سے فرد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ اس طرح کے فیصلے اور فتوے کالعدم اور غیر قانونی ہوںگے۔‘سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس معنی میں بہت اہم ہے کہ ملک کے متعدد اضلاع میں جہاں مسلمانوں کی خا صی آبادی ہے شرعی عدالتیں قائم کی گئی ہیں اور وہ کسی قانونی حیثیت کے بغیر مختلف معاملات میں فیصلے سنا رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر غور کرنے کے بعد جو بات نکل کر سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اس نے کسی شرعی عدالت ، دارالافتاء یا مذہبی ادارے پرفتویٰ جاری کرنے پر روک نہیں لگائی ہے۔ البتہ اسے قانونی حیثیت دینے سے منع کیا گیاہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان اداروں سے جاری ہونے والے فیصلوں کو اگر فریقین باہمی رضامندی سے تسلیم کرلیں تو اچھا ،ورنہ انہیں عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ جبکہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ سرے سے فتویٰ کے جاری کرنے کو ہی ممنوع قرارد دیتا ہے جو کہ سپریم کے فیصلے سے جزوی طور پر متصادم نظر آرہا ہے۔

 

 

 

 

بدلتے ہوئے زمانے سے ہم آہنگی
مفتیان کے فتوئوں پر بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ مذہب اسلام میں بہت سے ایسے فتوے ہیں قدامت پسندی کی ایک علامت ہے۔ناقدین کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مذہب کے کچھ مسلمہ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، کچھ روایات ہوتی ہیں جن پر ان کے پیرو کار عمل کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب کے مختلف پہلوؤوں کی اکثر کوئی ایک قطعی تشریح نہیں ہوتی۔ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بہت سی تشریحات بدل بھی جاتی ہیں۔ ان فتوئوں میں نئے زمانے سے ہم آہنگی کی کوئی بات نہیں ہے۔مثال کے طور پر آج بچوں میں کارٹونی فلم بہت مقبول ہے مگر اسے اسلام کے منافی قررد دیا گیاہے ۔کیونکہ کسی بھی طرح کی تصویر بنانا خدا کی تخلیق کے عمل کی نقل ہے جو کہ اسلامی تصورات کے منافی ہے۔اسی طرح تصویر کھینچوانا آج کے دور میں ایک عام ضرورت بن گئی ہے مگر اسے اسلام میں حرام قرارد یا گیا ہے۔ اسی طرح لائوڈاسپیکر پر اذان کو بھی کچھ علماء کی طرف سے خلاف شرع سمجھا جاتا تھا جبکہ آج تقریبا تمام مساجد میں اسی سے اذانیں دی جاتی ہیں۔گھر و مکانات اور گاڑیوں کے لئے بینکوں سے قرضوں کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے جبکہ یہ آج کی بڑی ضرورت ہے۔ یقینا یہ سب جمہوری ملک میں کسی فرد کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ملک کے آئین کی رو سے ہر شہری کو اپنے اپنے عقیدے، نظریات اور پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ملک کے علماء اور مذہبی رہنماؤں کو زندگی کی اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ قدریں اور طور طریقے بھی بدلتے ہیں اور جو چیز تبدیل نہیں ہوتی وہ مردہ ہو جاتی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ فتویٰ قرآن و حدیث کی روشنی میں سائل کے سوال پوچھنے کے مطابق دیا جاتا ہے۔جہاں تک قدامت پسندی کی بات ہے تو قرآن و حدیث میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن میں کسی طرح کی ترمیم نہیں کی جاسکتی ہے،ایسے مسائل میں کسی مفتی یا عالم کو تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے البتہ جن مسائل کو اجماع امت سے بدلا جا سکتا ہے یا ان میں ترمیم کی جاسکتی ہے تو ایسے مسائل پر علماء کرام مسلسل غور کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے مسائل استنباط کرکے وقت کی ضرورت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔اس مقصد کے لئے اسلامی فقہ اکیڈمی یا دیگر متعدد ادارے قائم ہیں جو جدید صورت حال کے جواز و عدم جواز کے پہلوئوں پر قرآن کی روشنی میں اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *