سرسید،پاپا میاں اورمولانا قاسم نانوتوی مسلم تعلیمی بیداری کے روح رواں

آج سے 23برس قبل کی بات ہے۔ معروف اسکالر محترمہ باگچی کی خواندگی کے ایشو پرانگریزی میں ایک کتاب آئی جس نے یہ کہہ کر سبھوں کو چونکا دیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں میں خواندگی کی شرح سب سے زیادہ ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اسکولوں اورکالجوں کے علاوہ ان کے یہاں مکاتب اور مدارس بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔یہ مکاتب ومدارس وہ ہیں جہاں زیادہ تر مسلم بچوں کامکتب کرایاجاتاہے۔ جہاں مکاتب ومدارس کا انتظام نہیں ہوتاہے یا کوئی اپنے بچے کو کسی بھی وجہ سے وہاں بھیجنا نہیں چاہتاہے تواس صورت میں بھی کسی مدرس یا مولوی کو گھرپربلاکر بچے کوعلم سے روشناس کرایا جاتاہے۔
محترمہ باگچی نے اس وقت راقم الحروف سے کہاتھا کہ اگرآپ کوکبھی موقع ملے تو دہلی سے بہت دور نہیں بلکہ 100سے لیکر 200کلومیٹر کے اندر مدرسہ بیلٹ کا کبھی ضرور دورہ کیجئے ، پھر آپ کومیری بات میں سچ نظرآئے گا۔ مدرسہ بیلٹ کہے جانے والے اس علاقے میں ہزاروں مکاتب ومدارس ہیں۔ گذشتہ ہفتہ سرسید ڈے کے موقع پرسہارن پور سفر کے دوران مدارس کے اس بیلٹ میں خواندگی کی بہت بڑھی ہوئی شرح نے بے حد متاثر کیا۔
’چوتھی دنیا‘ کے اعزاز میں منعقد اس محفل میں سماج کے مختلف شعبوں سے جوبھرپور نمائندگی دیکھنے کوملی وہ تو خواندگی سے اوپر اٹھ کر علمی وتحقیقی برتری کا مظہرتھی۔نظامت کی ذمہ داری نبھارہے معروف صحافی شاہد زبیری کے علاوہ مشہورو معروف تاریخی مدرسہ مظاہرعلوم کے امین عام مولانا سید شاہد الحسنی ، آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے قومی صدر مولانا یعقوب بلند شہری، معروف تعلیمی وسماجی شخصیات ڈاکٹر قدسیہ انجم علیگ ، سیدہ صفیہ صبوحی علیگ ، قاضی ندیم اختر علیگ ، حاجی فضل الرحمن علیگ، انور علی ایڈوکیٹ ، تسلیم قریشی، عارف عثمانی ، محمد مزمل ، جلال عمر، حاجی افضل خاں، قاضی عبدالرحمن ، عزیزاطہر، عمر صدیقی، راؤ محبوب ، شفاعت عظیم ، مشرف خطیب ، غلام ربانی، ڈاکٹر مولانا عبدالمالک مغیثی ، وسیم اختر، چودھری مظفر، راؤ عبدالستار، خالد قریشی، زیبی کاظمی ، شملی اسعدی، عذرا پروین ، ڈاکٹر ایوب، سیدحمزہ، افتخار احمد، انیس ایڈوکیٹ ، محمد رونق، قاری سبحان ، فراز زبیری ایڈوکیٹ ، شاہنواز زبیری اورارشد علیم کی موجودگی اوران کے خیالات یہ بتارہے تھے کہ 23برس قبل محترمہ باگچی کا مدرسہ بیلٹ کے بارے میں تجزیہ حرف بہ حرف صحیح تھا۔یہ سبھی افراد مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھتے تھے۔

 

 

 

ان سب میں مولانا سید شاہد الحسنی نے جواظہارخیال کیا، وہ دراصل اس بیلٹ کی علمی و تحقیقی بلاغت کا واضح ثبوت تھا۔ مولانا موصوف نے ایک عرصے سے موجود سرسید کی علماء یا علماء کے ذریعے سرسید کی مخالفت کا پردہ چاک کرتے ہوئے مستند تاریخی حوالے سے یہ ثابت کیاکہ سرسید پر ہم عصر جید علماء کے ذریعے کفر کے فتویٰ لگانے کی بات سراسر غلط ہے۔ اس بابت مغالطہ اورمبالغہ دونوں ہیں۔ کیونکہ سرسید کے ہم عصر جید علماء سے بہتر اورمستحکم روابط تھے جس کا ثبوت وہ مراسلے اورخطوط ہیں جن میں علماء نے سرسید کی علمی ودینی خدمات کا اعتراف کیا ہے اورسرسید نے بھی علماء کی وفات پر تعزیتی پیغامات ارسال کئے ہیں۔ان کی یہ بات بھی انکشاف تھی کہ محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج (ایم اے او کالج) میں شعبہ دینیات کا قیام بھی سرسید نے علماء کے مشورہ پر کیاتھا اوراس کے پہلے صدر شعبہ کی ذمہ داری بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کے داماد مولانا عبداللہ سہارنپوری کو سونپی تھی۔
سچ تویہ بھی ہے کہ علماء نے ایم اے او کالج جوکہ سرسید کے انتقال کے 21برس بعد یونیورسٹی کا درجہ پاکر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کہلایا، کیلئے سرسید کو چند ہ بھی دیاتھا۔ وہی سرسید جن کے انتقال کے بعد ان کا ذاتی ملازم رات کے اندھیرے میں ان کے رفقاء سے ان کے کفن ودفن کیلئے چندہ مانگنے پر مجبور تھا کیونکہ قوم کا یہ محسن علی گڑھ تحریک تعلیم گاہ کیلئے سب کچھ قربان کرچکاتھا۔
مولانا شاہد الحسنی کے سرسید سے متعلق علمی وتحقیقی مواد یقینا متعدد غلط فہمیوں پر سے پردہ ہٹاتے ہیں۔ ان مواد سے دینی ودنیوی علوم کے درمیان جوکھائی بلاوجہ پیداکردی گئی ہے وہ ختم ہوتی ہے۔مسلمانوں کا امپاورمنٹ تبھی ہوسکتاہے جب دینی ودنیوی علوم کے درمیان موجود کھائی مکمل طور پر ختم ہو اور یہ کمیونٹی جوسچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر نیوبدھسٹوں سے بھی بدتر حالت میں ہے، تعلیمی ، سماجی اوراقتصادی طورپر مضبوط ومستحکم ہوجائے۔
لہٰذا دینی ودنیوی دونوں علوم نے مدرسہ بیلٹ میں ناخواندگی کو دور کرنے اورتعلیم کوآگے بڑھانے میں بہت اہم کردار اداکیاہے۔ ان دونوں کو ہی لیکر چلنا ہوگا۔ مسئلہ کا حل اس میں نہیں ہے کہ دینی علوم کے مراکز میں دنیوی یا جدید علوم کی تعلیم ہونے لگے۔ کیونکہ ایسا کیاجانا ویسا ہی ہوگا جب کوئی یہ کہے کہ انجینئرنگ کالج میں میڈیکل یا میڈیکل کالج میں انجینئرنگ بھی طلباء کو پڑھائی جائے۔یہ الگ الگ شعبہ ہیں، انہیں آپس میں ملاکر تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے۔ البتہ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد جدید علوم پڑھائے جانے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے اور بعض جدید تعلیمی اداروں بشمول علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو)، جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) اورجواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں یہ ہوبھی رہاہے۔اس رجحان کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ دینی علوم کے مراکز میں جدید علوم کی تعلیم شروع کرنے پرزور دیاجائے۔

 

 

 

اس کے باوجود یہ ضرورت تورہ ہی جاتی ہے کہ جدید علوم کے مراکز خواہ وہ اسکول ہوں یا کالج یا یونیورسٹی، دینیات اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق لازمی طورپر پڑھائی جائے تاکہ طلباء میں اخلاقی پہلوموجودرہے۔ اس تناظر میں یہ یقینا افسوس کی بات ہے کہ اے ایم یومیں 1951میں دینیات کولازمی سے آپشنل بنا دیاگیا جس کے سبب بیشتر طلباء وہاں اپنے اپنے عقیدے کے لحاظ سے دینی معلومات سے محروم رہنے لگے جبکہ سرسید نے دینیات اپنے تعلیمی ادارہ میں لازمی کررکھا تھا۔
مسلم کمیونٹی کے بچوں اور بچیوں میں تعلیم کوعام کرنے میں سرسید کی علی گڑھ تعلیمی تحریک، شیخ عبداللہ عرف پایامیاں کی تحریک تعلیم نسواں اور مولانا محمدقاسم نانوتوی کی دینی تعلیمی تحریک کا ہی نتیجہ تھا کہ مدرستہ العلوم مسلمانان ہند پہلے کالج توبعدمیں یونیورسٹی بنا اور بر صغیر میں مسلم تعلیم کا نشان بن گیا۔ اسی طرح پاپامیاں کی تحریک سے مسلم بچیوں کی تعلیم کا باضابطہ سلسلہ شروع ہوا اور پھر ان کی سرپرسی میں 2006میں قائم پہلاگرلز اسکول اور2011میں قائم پہلا گرلز ہاسٹل وجود میں آیا جوکہ بعد میں ان کے نام سے عبداللہ گرلز اسکول، عبداللہ ویمن کالج اورعبداللہ ہاسٹل کہلایا اوراب یہ ادارے اے ایم یو کے تحت چل رہے ہیں۔
ان دونوں شخصیات کی بدولت برصغیر میں بچوں اوربچیوں دونوں میں مسلم تعلیم کے فروغ میں بڑی مدد ملی۔پورے برصغیرمیں تعلیمی اداروں کا جال بچھ گیا۔ یہی حال کم وبیش مولانا قاسم نانوتوی کی دینی تعلیمی تحریک کے نتیجے میں ہوا، مدارس ومکاتب مختلف علاقوں میں قائم ہوئے۔ اس طرح خواندگی اورتعلیم کو آگے بڑھانے میں ان تینوں شخصیات کا اساسی کردار ہے جسے نہ کبھی نظرانداز کیا جاسکتاہے، نہ ہی فراموش ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *