بامقصد فلاحی کام پاکستانیوں کا مشن ہونا چاہئے

اگر پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی لسٹ میں شامل ہونے کے اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھنا ہے اور ایک جمہوری ملک کی شکل میں اپنی مکمل صلاحیت پہچاننی ہے، تو وہاں کے شہریوں کو بامقصد فلاحی کاموں کے امکانات کا استعمال کرناہی پڑے گا۔
پاکستانی لوگ دنیا کے سب سے زیادہ عطیہ کرنے والے لوگوں میںشامل ہیں۔اسٹین فورڈ سوشل انوویشن ریویو کے مطابق یہ ملک اپنی مجموعی گھریلو پیداوار ( جی ڈی پی ) کا ایک فیصد سے زیادہ حصہ عطیہ کردیتا ہے۔یہ اعداد صرف یونائٹیڈ کنگڈم اور کناڈا سے تھوڑا کم ہیں، جہاں جی ڈی پی کا بالترتیب 1.3 فیصد اور 1.2فیصد عطیہ دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان کی صورت حال پڑوسی ملک ہندوستان کے مقابلے میں دو گنی بہتر ہے۔
پاکستان میں مذہب پر زیادہ زور ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی لوگ زکوٰۃ ، صدقہ اور فطرہ کی شکل میں آزادانہ طور سے عطیہ دے کر اپنی اسلامی ذمہ داری کو پوری کرتے ہیں۔’پاکستان سینٹر فارفیلن تھراپی‘ کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ہر سال 240 ارب پاکستانی روپے (تقریبا ً دو ارب ڈالر) عطیہ دیتے ہیں۔ ملک کے تقریباً 98فیصد لوگ کسی نہ کسی شکل میں عطیہ ضرور کرتے ہیں۔اگر نقدی نہیں دے پاتے ہیں تو کسی شئے کی شکل میں مذہبی کاموں میں اپنی حصہ داری دے کر عطیہ کرتے ہیں۔ دراصل پاکستانی سماج میں فلاحی کاموں کا جذبہ جنون کی حد تک موجود ہے۔ اس جذبے ( جسے میں با مقصد انسانی خدمت کہتا ہوں) کا استعمال ایک مضبوط اور بہتر پاکستان بنانے کے لئے کیا جا سکتا ہے۔
بامقصد فلاحی خدمات اقتصادیات کی سب سے ضروری پوائنٹ کی طرف سرمایہ کاری کرتی ہیں جو مستقبل میں سماج کے لئے مفید ہوگا اور اس کا فائدہ مسائل سے نمٹنے میں ملے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس کی وجہ سے ایسے ہنرمند افراد تیار ہوں گے جو مشکل حالات کو بدلنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

 

 

 

فلاحی کاموں اور عطیات کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ عطیات کا مقصد ضرورتمندوں کے ہاتھ میں کچھ رکھ کر مدد کرنا ہوتا ہے جبکہ بامقصد فلاحی کاموں کا مقصد کسی ضرورت مند کو آگے بڑھنے میں سہارا دینا ہوتا ہے۔سماجی اور اقتصادی طور سے محروموں کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے یقینی طور سے خیراتی تعاون ہونا چاہئے۔ پاکستان میں پچھلے دو برسوں میں مانسون کی تیز بارش اور سیلاب کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ریڈ کراس، سالویشن آرمی، ڈاکٹرس ودآئوٹ بارڈرس اور دیگر مذہبی اور مقامی این جی او جیسے فلاحی اداروں کو تعاون دینے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
فلاحی کاموں کے لئے واحد ذریعہ کی شکل میں عطیات کی اپنی حدیں ہیں۔عطیہ سے مسئلے کا جڑ سے حل نہیں نکلتا۔اس کے برعکس بامقصد فلاحی کام اپنا دھیان صورت حال کو سدھارنے پر مرکوز کرتا ہے۔ صورت حال میں سدھار لانے کا یہ کام کئی طرح سے ہو سکتا ہے، جس میں زہر بن چکے آلودہ پانی کو پینے اور نہانے لائق بننا، کام کی جگہ کی سیکورٹی بہتر کرنا، لوگوں کی زندگی کی سطح میں سدھار لانا اور انہیں کامیاب بنانے کے لئے ان میں علم ، مہارت، کام کی صلاحیت اور شخصیت تیار کرنا شامل ہے۔
با مقصد فلاحی کام کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس شعبے میں میری ذاتی ترجیحات ہیں، جن میں تعلیم، فن، عالمی امن اور شہریوں کے باہمی معاملات شامل ہیں۔میں نے ان شعبوں کو چناہے کیونکہ وہ میرے لئے اہم ہیں اور مجھے پتہ ہے کہ ان میں سدھار سے لوگوں کی سماجی سطح میں سدھار ہوگا۔ فلاحی کاموں میں میری سرمایہ کاری کا مختصر خاکہ اس طرح ہے:
میرے فلاحی کام لوگوںکو تعلیم کے مواقع عطا کرتے ہیں اور انہیں ایک بہتر مستقبل کی طرف آگے بڑھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ان سے لوگوں کو ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے اور غریبی سے باہر نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ سماجی عدم مساوات کو ختم کرنے کی وجہ بھی بنتے ہیں۔

 

 

 

 

تعلیم کے شعبے میں میں نے امریکہ کے کالجوں میں کئی اسکالرشپ دیئے ہیں۔ حالانکہ میری سب سے اہم سرمایہ کاری ہندوستان میں رہی ہے، جہاں پچھلے سال فروری میں میری بیوی ڈیبی اور میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو فرینک اور ڈیبی اسلام مینجمنٹ کمپلکس عطیہ کیا تھا۔ اس موقع پر میں نے کہا تھا کہ اس مینجمنٹ کیمپس سے مستقبل کے لیڈر پیدا ہوں گے جو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں گے۔ میں آج بھی اپنے نقطہ نظر سے اس بات میں یقین رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ طلباء ہماری سب سے بڑی امیدیں ہیں۔ میں نے زندگی میں جو پایا ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے اور امیدوں کو زندہ رکھنے کا یہ میرا طریقہ ہے۔
صدر جان ایف کنیڈی نے کہا تھا کہ فن، ثقافت کی جڑوں کو تقویت دیتا ہے۔یہ شہریوں اور سماج کے الگ الگ طبقوں کو جوڑتا ہے اور انہیں حوصلہ دیتا ہے۔ اس میں اتحاد بنائے رکھنے کی بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ میں صدر کنیڈی کی رائے سے متفق ہوں۔اسی وجہ سے میں نے کنیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹ کے بورڈ ممبر کے طور پر اپنی خدمات دینے کا فیصلہ کیا اور نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنے کے اس کام میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہم ایک خطرناک وقت میں جی رہے ہیں۔ اگر اس زمین کو بچانا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں امن ہو۔ آج دنیا کے کئی حصوں میں خونی لڑائی چل رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ عالمی شکل اختیار کرلے، اسے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے میں یو ایس انسٹی ٹیوٹ فار پیس اور ووڈرو ویلسن سینٹر کی مالی مدد کرتا ہوں۔ یہ ایسے ادارے ہیں جہاں اسکالرس اور دانشوران لڑائی کا پُرامن حل تلاش کرتے ہیں۔
آزاد پریس ایک صحت مند جمہوریت کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے جو شہریوں کے درمیان تبادلۂ خیال کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے الفریڈ فرینڈلی پریس پارٹنرس اسکالرشپ میں اپنی مالی حصہ داری دی۔ اس اسکالرشپ کے تحت ہندوستان کے تجربہ کار صحافیوں کو امریکہ کے ایک اہم اخبار میں کام کرنے اور مسوری یونیورسٹی کے اسکول آف جنرلزم میںصحافت کی پڑھائی کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔
بہر کیف جن فلاحی کاموں کی تشریح اوپر کی گئی، وہ محض مثال کے لئے ہیں۔ ایسے بے شمار کام ہیں جنہیں بامقصد فلاحی خدمات کے تحت کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر پاکستان میں پانی کے مسائل خطرناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کے سپریم کورٹ اور سرکار نے دیامر باشا ڈیم کی تعمیر کے لئے عطیات دینے کی اپیل کی ہیں۔ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں سدھار آئے گا اور لاکھوں زندگیاں تباہ ہونے سے بچ جائیںگی۔ یہ سرمایہ کاری کا ایک اچھا شعبہ ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح کے دوسرے بے شمار کام ہیں جسے پاکستان سینٹر فار فیلن تھراپی سے جوڑا جاسکتا ہے۔
فلاحی کاموں کے لئے ہر شہری کو لازمی طور سے ایک یا ایک سے زیادہ شعبوں کا انتخاب کرنا چاہئے۔ کیونکہ سب سے اہم ہے کام کا انتخاب اور اس میں سرمایہ کاری ۔ سرمایہ کاری کا حجم اہم نہیں ہے۔کیونکہ سرمایہ کاری صرف مال کی شکل میں ہی نہیں ہو سکتی ہے بلکہ ٹیلنٹ ، آئیڈیا یا رضا کار کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔ با مقصد فلاحی کام پاکستان کے شہریوں کو ایک ایسا اسٹیج عطا کرتا ہے جس کے سہارے وہ اپنے ملک کو اسکی پوری صلاحیت پہچاننے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *