عالم اسلام کا ابھرتا لیڈر

leaders
اگر ہم عالمی شہرت یافتہ لیڈروں کا سیاسی تجزیہ کریں تو ان میں ملیشیا کے مہاتیر محمد گرچہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور عالم اسلام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر ان کی بڑھتی عمر اور ان کا سیاست سے الگ تھلک ہونے کا عندیہ عالم اسلام کا لیڈر ہونے میں رکاوٹ ہے۔البتہ ان کے سیاسی جانشیں انور ابراہیم جو کہ پورے جوش و خروش کے ساتھ ملیشیا کی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں،عالمی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں ایک مضبوط لیڈر سمجھا جاتا ہے مگر ان کی شہرت جتنی ایشیائی اور افریقی مسلم ملکوں میں ہے،ویسی شہرت انہیں عالم عرب میں حاصل نہیں ہے،اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انور ابراہیم کے مضبوط لیڈر ہونے کے باجود انہیں عالم اسلام کے ہیرو لیڈر کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
جہاں تک سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی بات ہے تو ابتدائی دنوں میں ان کا ورژن2030 بہت مقبول ہورہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ عالم اسلام کے سب سے مقبول اور ابھرتے ہوئے لیڈر کا اعزاز حاصل کرلیں گے لیکن ان کا سیاسی مخالفوں کو کچلنا، علماء و صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری اور اب خاشقجی کے قتل میں مشتبہ ہونے کی وجہ سے ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا ہے بلکہ یہ خبر بھی پھیلنے لگی ہے کہ شاہ سلمان ان سے ولی عہدہ کا مرتبہ واپس بھی لے سکتے ہیں حالانکہ فی الوقت اس کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں مگر اتنا تو طے ہے کہ وہ جس تیزی کے ساتھ عالم اسلام کی سیاست پر چھارہے تھے ،اسی رفتار سے اس میں کمی ہوتی جارہی ہے۔
اب ایک لیڈر رہ جاتے ہیں طیب اردگان۔ طیب اردگان کے نہ صرف معاشی اصلاحات بلکہ امریکی اثر سے نکل کر روس کی طرف بڑھتے قدم اور دیگر مسلم ملکوں خاص طور پر میانمار میں روہنگیائیوں کی مدد،شامی مہاجروں سے ہمدردی اور فلسطین کے لئے اسرائیل سے نمٹنے کے فیصلے نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنارکھا ہے۔ انھوں نے ملک کو جو استحکام اور معاشی ترقی عطا کی ہے وہ ایک مثال ہے اور انھوں نے پڑوسی ملکوں سے بھی ترکی کے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *