ملک کی اقتصادی صورت حال بہت خراب ہے

سردار پٹیل نے سی بی آئی کو دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کے تحت سرکاری ملزموںکی بدعنوانی پر نظر رکھنے کے لیے بنایا تھا، آج سرکار نے اسے سپر پولیس بنا دیا ہے۔ کوئی مرڈر ہوگیااور سالونہیںہوسکتا ہے، تو سی بی آئی کو دے دو۔ اب تویہ ہورہا ہے کہ ہر چیز سی بی آئی کو دے دو۔ سی بی آئی آج ایک بہت بڑا ’تنتر‘ بن گیا ہے۔ پہلے یہ وزیر داخلہ کو رپورٹ کرتا تھا، اب سیدھا وزیر اعظم کو رپورٹ کرتاہے۔ آج سی بی آئی، آئی بی، راء وغیرہ سارے ’تنتر ‘بہت طاقتور ہیں اور ان کا خوف سرکار کسی کو بھی دکھا سکتی ہے۔ ونیت نارائن کیس میںسپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ سی بی آئی کا جو ڈائریکٹر ہوگا، اسے وزیر اعظم مقرر نہیںکرے گابلکہ تین رکنی کمیٹی کرے گی۔ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سی بی آئی ڈائریکٹر کی مدت کار فکسڈ ہوگی۔
آلوک ورما دہلی کے پولیس کمشنر تھے۔ انھیںدو سال قبل سی بی آئی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ۔ ایک راکیش استھانہ صاحب ہیں، گجرات کیڈر کے، جنھوںنے گودھرا کیس کی انکوائری کرکے امیت شاہ اور نریندر مودی کے گلے سے پھندا ہٹوایا اور کہا کہ ان کی کوئی غلطی نہیںہے۔ بہت بڑا احسان ہے ان کا شاہ- مودی پر۔ انھیں مودی جی نے سی بی آئی میںنمبر دو کے عہدے پر مقرر کردیا۔ اسی وقت آلوک ورما نے شکایت کی تھی کہ ان کے خلاف انکوائری پینڈنگ ہیں، ایف آئی آر پینڈنگ ہیں، انھیںسی بی آئی میںمقرر نہ کیا جائے۔ سی بی آئی میں نمبر ون آلوک ورما ، نمبر دو راکیش استھانہ، نمبر تین ارون کمار شرما تھے۔ چرچا یہ ہے کہ امیت شاہ جتنے لوگوں کو دھمکی دیتے تھے، وہ ارون شرما کے ذریعہ دیتے تھے۔ سی بی آئی کا ہمیشہ سے غلط استعمال ہوا ہے۔ ایسی بات نہیںہے کہ اسے نریندر مودی نے شروع کیا۔ اندرا گاندھی کے زمانے میںبھی غلط استعمال ہوتا تھا۔ لیکن غلط استعمال اس اونچائی پر پہنچ جائے گا، سی بی آئی کے ڈائریکٹر نے بھی کبھی اس کا تصور نہیںکیا ہوگا۔ ایسی خبر تھی کہ آلوک ورما رافیل ڈیل کی جانچ کرنے والے تھے،ا س لیے راتوںرات انھیںچھٹی پر بھیج کر معاملے کو نمٹانے کی کوشش مودی- شاہ کے ذریعہ کی گئی۔ سپریم کورٹ میں معاملہ گیا۔ سپریم کورٹ نے سی وی سی کو دو ہفتے میںجانچ پوری کرکے رپورٹ سونپنے کا حکم دیا۔ جانچ کی نگرانی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج اے کے پٹنائک کریںگے۔ اس طرح ایک لگام سرکار پر لگ گئی اور سی وی سی پر بھی۔ سرکار نے سی بی آئی کاایکٹنگڈائریکٹر ناگیشور راؤ کو بنادیا۔ ان کا ریکارڈ بھی خراب ہے۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ یہ صرف روز کا کام دیکھ سکتے ہیں، کوئی پالیسی ڈسیزن نہیں لے سکتے ہیں۔ کورٹ نے ان کے بھی ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ میںسمجھتا ہوں ، یہ صورت حال ملک کے انتظامیہ کے لیے بہت افسوسناک ہے۔ اس سے افسوسناک صورت حال ملک میںکبھی نہیںہوئی۔

 

 

 

 

2014میںکانگریس کو 44 سیٹیںملی تھیں۔ اپوزیشن لیڈر کا درجہ پانے کے لیے 50 سیٹیںچاہئیں۔ بی جے پی والوں نے چھوٹی سوچ دکھاتے ہوئے ملیکارجن کھڑگے کو لیڈر اپوزیشن کا درجہ نہیںدیا۔ جواہر لعل نہرو ہوتے، اندرا گاندھی ہوتیں تو بغیر بحث کے اپوزیشن کو ایسی حالت میںبھی لیڈر اپوزیشن کا درجہ دیدیتے۔ بی جے پی نے اس طرح کا ہلکاپن پہلے دن سے ہی دکھانا شروع کر دیا تھا۔ پہلے دن سے ہی اشارہ دے دیا کہ ہم چھوٹے آدمی ہیں، ہم ہلکے آدمی ہیں۔ اس ملک پر راج کرنے کے لائق نہیںہیں۔ بی جے پی والوں کو ہر جگہ سنگھ کے لوگ چاہئیں۔ اب ایسے جج کہاںمل پائیںگے۔ سنگھ والے اتنا پڑھتے نہیںہیں کہ وہ جج بن جائیں۔ جج تو اسی کو بنانا ہے، کالجیم جس کے نام کی سفارش کرے گا۔
آج بی جے پی والے تو اندرا گاندھی سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی۔ اخبار میںلکھنا ممنوع تھا، سینسر شپ تھی۔ لیکن آج تو غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔ امیت شاہ سب کو ڈرا دھمکاکر کام کراتے ہیں۔ ہاں، کچھ سرمایہ داروں ، جنھیںکچھ مسئلہ ہے، ان کے لیے کچھ مثبت کام بھی کرتے ہیں۔ 100 کروڑ روپے دے دوتو کام کردیتے ہیں۔ یہ جو نئے طرح کا سسٹم ساڑھے چار سال میںایجاد کیا گیا ہے، اس کی اسٹڈی کرنا ضروری ہے۔ میںاکیڈمک آدمی نہیںہوں، میںجو آبزرو کر رہا ہوں، وہ بول رہا ہوں۔ بی جے پی والے نہرو کو کچھ بھی بولیں، نہرو کو اور اندرا گاندھی کو اپنی حدوں کا علم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں، کیا نہیںکرسکتے ہیں۔
مودی جی نے بغیر کسی سے صلاح لیے، کسی سے بات کیے بغیر نوٹ بندی کردی 8نومبر 2016کو۔ دوسال ہوگئے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ اب تو لوگ مذاق اڑائیںگے ہی۔ تب بھی میرے جیسے لوگوں نے کہا تھا کہ نوٹ بدل دینے سے معیشت میںکوئی فرق پڑجائے، یہ ہماری سمجھ میںنہیںآتا۔ اندرا گاندھی نے تو ایمرجنسی کے بعد ملک سے معافی مانگی تھی۔مودی جی میںاتنی طاقت نہیںہے۔ اس کے بعد، انھوںنے جیٹلی کو کہا کہ جلدی سے جی ایس ٹی لاگو کرو۔ جلدی جلدی میںاس کا نفاذ یکم جولائی 2017 سے ہوا۔ایک تو کریلاپہلے سے ہی تھا،اوپر سے نیم چڑھا۔ ان دونوں طریقوں سے ابھی تک اقتصادی حالت سدھری نہیںہے، الٹے چرمرا رہی ہے۔

 

 

 

کسی بھی چھوٹے کاروباری، چھوٹی صنعت والوں یا درمیانی صنعت والوں سے پوچھئے، وہ ناخوش ہیں۔ پروفیشنلز ناخوش ہیں، مزدور ناخوش ہیں، کسان پریشان ہیں۔ تو پھر خوش کون ہے؟ میںکہتا ہوں کہ ملک کا اعتماد ڈول گیا ہے۔ کوئی ایسا طبقہ نہیںجو یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ ہندوستان ٹھیک چل رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمت بھلے ہی تھوڑی بہت انٹرنیشنل بازار میںبڑھی ہو لیکن ہمارے یہاں اس پر ٹیکس اتنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ عوام کو راحت دینے کی کوئی بات نہیںکر رہے ہیں۔ الٹے دلیل دیتے ہیں کہ جس کے پاس کارخریدنے کا پیسہ ہے، اس کے پاس پیٹرول کا بھی پیسہ ہے۔ وہ بھول رہے ہیں کہ لوگ تو کار ای ایم آئی پر خریدتے ہیں، کیا وہ پیٹرول بھی ای ایم آئی پر لیتے ہیں ؟ آج مودی جی کے پاس کوئی اکانومک ایڈوائزر تک نہیںہے۔ اقتصادی پالیسی کون بنا رہا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیںدے پائے گا۔
آج مودی جی کی سرکار امیر پرست اور امریکہ پرست ہے۔ اڈانی اور امبانی جو کریں، وہ صحیح۔ امریکہ جو بول دے، وہ صحیح۔ پھر بھی ملک کے مفاد کی ایک بات نہیںکرتے ہیں۔ بلیٹ ٹرین سے کسے فائدہ ہے؟ کسی کو فائدہ نہیںہے۔ یہ صرف مودی جی کی ایگو ہے۔ ایک آدمی کے اہنکار کے لیے ملک چل رہا ہے۔ امیت شاہ اپنے دوستوںسے کہتے ہیںکہ جب تک صاحب ناراض نہیںہیں، میںہوں ساتھ میں۔ الیکشن آرہا ہے، معلوم پڑے گا۔ اگر ساڑھے چار سال میںعوام خوش ہیں تو آپ پھر جیت جائیںگے۔ لیکن جو نیا وزیر اعظم بنے گا، خواہ وہ مودی خود ہوں، خواہ بی جے پی کا ہو، خواہ دوسرا ہو، آپ نے اس کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ دلدل اتنی ہوگی کہ اس میںسے نکلنا مشکل ہوگا۔ ایک بھی ادارہ آپ کا ٹھیک نہیںہے۔

 

 

 

مودی جی سردار پٹیل اور نیتاجی بوس کی تعریف کرتے ہیں۔ اس لیے نہیںکرتے ہیںکہ آپ ان کے پرستار ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ پٹیل کا مجسمہ بنادیا تو نہرو بونے ہوگئے یا بوس کی تعریف کی تو نہرو چھوٹے ہوگئے، ایسا نہیںہے۔ پٹیل نے جو کام کیا، وہ تو کریے۔ پٹیل نے کہا، برطانیہ کا جو ایڈمنسٹریشن سسٹم ہے، وہی رہے گا۔ امتحان پاس کرکے جب 50-60 لوگ آئیںگے تب انھیںکیڈر سلیکٹ کرنا پڑے گا۔ یہ نہیںہوگاکہ جو جس اسٹیٹ کا ہے، وہ وہاں رہے گا۔ بہار کا آدمی کیرل میںپوسٹ ہوتا ہے، کیرل کا آدمی بنگال میںپوسٹ ہوتا ہے۔ پہلا قانون ہے کہ وہاں کی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ یہ تھا نیشنل انٹی گریشن یعنی قومی یکجہتی کا احساس۔ مودی جی کا بس چلے تو گجراتی کو نیشنل لینگویج بنا دیں۔ نہرو کو بونا دکھانے والے لوگ بونے ہیں۔
اس ملک میں85 فیصد ہندو ہیں۔ ملک میںکیوںآگ لگا رہے ہیں؟ مسلمانوں کے خلاف بولنا تھوڑا کم ضرور کیا ہے۔ موہن بھاگوت نے کہہ دیا کہ مسلمان کے بغیر ہندو کچھ نہیںہے۔ اب بی جے پی والے کنفیوژ ہیں۔ آپ کو سمجھ میںنہیںآرہا ہے کہ کیوںبولا انھوںنے؟ لیکن سوچئے۔ یہ چار ہزار سال پرانا ملک ہے۔ 70 سال سے جمہوریت چل رہی ہے، آئین چل رہا ہے۔ آپ 14 ویںنمبر کے وزیر اعظم ہیں۔ آپ کے آگے بھی وزیر اعظم آتے رہیںگے۔ آپ اپنی حد میںرہیے، تحمل رکھئے۔ ابھی صورت حال بہت خراب ہے۔ روپیہ کمزور ہورہا ہے۔ پیٹرول کے دام بڑھتے جارہے ہیں۔ اس حالت کو سنبھالنا بہت آسان نہیںہے۔ وزیر اعظم صاحب، کچھ سوچئے، کچھ کرئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *