آئی این ایچ آر سی سی ڈبلیو خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے سماجی لڑائی شروع ہوگئی

ہندوستان میں خواتین کے خلاف ہورہے تشدد اور ہراسانی کے 99فیصد واقعات کی رپورٹنگ نہیں ہوپاتی ہے جس کے سبب صحیح شرح سامنے نہیں آپاتی ہے مگر میڈیا کے ذریعے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی جوخبریں آئے دن سننے کوملتی ہیں، اس سے سماج میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔خواتین مخالف جرائم کے خلاف لڑائی لڑرہی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن فار کرائم اگنیسٹ ویمن ( آئی این ایچ آرسی سی ڈبلیو) کا کہناہے کہ اس لڑائی کیلئے صرف قانون سازی ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کیلئے پورے سماج کو سامنے آنا ہوگا اورخواتین کی دفاع ، فلاح وبہبود اورمجموعی طورپر امپاورمنٹ کیلئے جدوجہد کرناہوگا۔
’چوتھی دنیا‘ اردوسے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے آئی این ایچ آرسی سی ڈبلیو کے قومی صدر فرحان حسینی نے کہاکہ ان کے پاس لگاتار فون آرہے ہیں اورمختلف قسم کے تشدد کی شکار خواتین اپنا اپنا درد بیان کرکے حل چاہتی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ اندرون ملک کے علاوہ آئی این ایچ آرسی سی ڈبلیو کے بین الاقوامی طورپر جرمنی، آسٹریلیا اوردبئی میں کوآرڈینیٹر ز سرگرم عمل ہیں۔عیاں رہے کہ فرحان حسینی کا تعلق مغربی بنگال کے ایک ایسے خانوادے سے ہے جوکہ علمی ودینی اوراصلاحی لحاظ سے معروف رہاہے۔انہو ںنے اپنے فلاحی واصلاحی کام کی شروعات بنگال سے کی اورخواتین امپاورمنٹ کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے اوراب قومی وبین الاقوامی طور پرمتحرک ہوگئے ہیں۔

 

 

 

آئی این ایچ آرسی سی ڈبلیو کی قومی نائب صدر رینا بھارتیہ نے کہاکہ ایک عرصے سے اس طرح کی تنظیم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی جوکہ زمینی سطح پر متاثرہ خواتین کے درمیان جائے اوران کے دکھ درد کوسمجھ کر اس کے مداوا کیلئے سرگرم عمل ہو۔ انہوں نے کہاکہ عورت اس قدرظلم کا شکارہے کہ مختلف سطحوں پر ان کے فلاح وبہبود کی منظم کوشش کی ضرورت ہے اوریہ کوشش بلاتفریق مذہب وملت ہونی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ خوف ودہشت اورشرم وحیا ء کے سبب یہ بے چاری کم عمر بچیاں ودیگر اپنا دکھ درد اور اپنے ساتھ گذرے ہوئے واقعات کسی سے بیان نہیں کرپاتی ہیں اورظلم ونا انصافی کا یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔انہوں نے کہاکہ جب ان کی ٹیم ان خواتین سے ملنے دہلی کے مختلف مقامات پرگئیں تو وہ خود چونک گئیں کہ راجدھانی میں بھی ظلم ونا انصافی کی چکّی میں پِسی جارہی ان مظلوم خواتین کے حالات سے ہم واقف نہیں ہیں۔
انہوں نے اس بات پرحیرت کا اظہار کیاکہ نیشنل کرائیم ریکارڈز بیورو(این سی آربی) سے دستیاب دیگرجرائیم کے 47فیصد کنویکشن ریٹ کے بالمقابل خواتین کے خلاف جرائم کے کنویکشن ریٹ محض 19فیصد ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین سے ربط رکھنے اوران کی صورتحال سے واقف رہنے کی ضرورت ہے۔تبھی تو ان کے خلاف ہورہے ظلم وتشدد لوگوں کے سامنے آسکیں گے۔ان کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں سماج اورمیڈیا کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *