سنگین ہے اقتصادی صورت حال

سی بی آئی کی شکل میں سرکار کے پاس ایک سب سے طاقتور سسٹم ہے۔ سی بی آئی سیدھے وزیر اعظم دفتر کو رپورٹ کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جس کی بھی مرکز میں سرکار ہوتی ہے،وہ اس کا استعمال، بے جا استعمال اپنے مخالفین کے لئے کرتا ہی ہے۔ ظاہر ہے، ہر آدمی کبھی نہ کبھی اقتدار میں رہا ہے تو آپ اسے ڈرانے کے لئے کبھی بھی کوئی جانچ شروع کروا سکتے ہیں۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔ ایچ ڈی دیو گوڑا کے زمانے میں لالو یادو کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے اتوار کے دن اس وقت کے سی بی آئی ڈائریکٹر جوگیندر سنگھ نے دفتر کھلوایا تھا۔ سی بی آئی کا بے جا استعمال زیادہ ہوا ہے۔
سی بی آئی 365 دن کام کرتی ہے۔ آج جو ہو رہا ہے وہ غیر متوقع ہے۔یہ نہ کبھی ہوا تھا نہ کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما بہت اچھے پولیس آفیسر ہیں۔ گجرات کیڈر کے جن راکیش استھانا کو مودی جی نے نمبر دو بنایا، وہ اس پوسٹ کے لائق نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے خلاف الزام بھی لگے تھے، ایف آئی آر بھی درج ہو رہی تھی۔ لیکن اس لئے نمبر دو بنا دیئے گئے کیونکہ مودی جی کے نزدیکی تھے۔ اب یہ نمبرایک اور نمبر دو کے بیچ میںجو کو آرڈینیشن ہونا چاہئے،وہ پہلے دن سے نہیں تھا۔
اگر سب سے مضبوط انوسٹی گیٹیو ایجنسی کی خود کی حالت اتنی خراب ہے تو ملک کیا کرے گا؟ہم لوگ تماشہ بین بن گئے ہیں۔ اندرون خانہ کی جو چرچا ہے، میں اس پر بولنا بھی نہیں چاہتا، کیونکہ وہ اور خطرناک ہے۔ اب مودی جی کے پھر سے پی ایم بننے کے مواقع کمزور ہوتے جارہے ہیں، تو جو نیا وزیراعظم بنے گا انتخاب کے بعد، اسے کافی محنت کرنی پڑے گی۔ چاہے وہ نیا پی ایم کانگریس سے ہو یا بی جے پی سے یا کسی اور پارٹی سے ۔ ہاں مودی جی پھر سے پی ایم بنیں تو وہ اسے ایسے ہی چلائیں گے۔
2014 میں ملک کی جو حالت یو پی اے چھوڑ کر گئی تھی، اس سے کہیں بدتر حالت میں مودی چھوڑ کر جائیں گے ملک کو۔ اقتصادیات گڑبڑ ہوگئی ، یہ ایک بات ہے، اس میں کئی وجوہات ہیںجن پر آپ کا کنٹرول نہیں ہے۔پٹرول کی قیمت بڑھی ہوئی ہے اور کرنٹ اکائونٹ ڈیفسیٹ زیادہ ہے۔ اس لئے روپے کے ویلو کم ہیں، یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ ریزرو بینک گورنر ، چیف اکانومک ایڈوائزر وغیرہ جیسے ماہر اقتصادیات اس مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں۔تب شاید کچھ سخت قدم اٹھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اصل میں سخت قدم ابھی اٹھانے چاہئے۔ لیکن مجھے لگتا نہیں ہے کہ اس سرکار کو اقتصادیات کی سمجھ ہے۔ اروند سبرامینیم کے جانے کے بعد چیف اکانومک ایڈوائزر تک نہیں رکھا سرکارنے۔ ریزرو بینک گورنر اپنی دھُن میں رہتے ہیں، وزیر خزانہ اقتصادیات میں قابل نہیں ہیں۔تو کیسے اور کون دیکھ رہا ہے مالیاتی معاملوں کو؟ ایک ہنس مکھ ادھیا صاحب ہیں، اکانومک سکریٹری، وزیر اعظم کے چہیتے ہیں۔انہوں نے پکڑے گئے نیرو مودی سے تحفہ لیا تھا۔ ادھیا صاحب کو کابینہ سکریٹری بنانے کی بات تھی، لیکن مودی جی نے صحیح فیصلہ لیتے ہوئے انہیں کابینہ سکریٹری نہیں بنایا۔

 

 

 

 

دوسری طرف موجودہ سرکار نوکر شاہی کے چلے آرہے معیار کو ایک ایک کرکے توڑ رہی ہے۔ ایک بار سرکار نے کہا کہ10 آفیسر جوائنٹ سکریٹری لیول کے باہر سے لیںگے۔ ان کی منشا رہی ہوگی کہ سنگھ ٹائپ کے لوگوں کولیں گے لیکن اب اس موقف کو ڈراپ کرنا پڑا۔ ظاہر ہے اس کام کے لئے ایک سسٹم بنا ہوا ہے، یونین پبلک سروس کمیشن کا یہ کام ہے۔ اگر باہر سے بھی آفیسر لینے ہیں تو ان کے انتخاب کا کام یونین پبلک سروس کمیشن کو کرنا چاہئے۔ کیا ایسے افسروں کا نام امیت شاہ طے کریں گے؟
اس ملک میں 19 مہینے تک ایمرجینسی رہی۔ اندرا گاندھی پر ایمرجینسی ہٹانے کا کوئی دبائو بھی نہیں تھا۔ ہاںِ میڈیا پر سینسرشپ تھا۔ سنجے گاندھی ان کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔ چرچا تھی کہ سب جگہ سنجے گاندھی کی چلتی ہے۔ وہ جو بول دیتے ہیں، وہی آخری ہوتا ہے۔ آج سنجے گاندھی سے دس گنا زیادہ پاور کا استعمال امیت شاہ کررہے ہیں۔ امیت شاہ ایکسٹر اکنسٹی ٹیوشنل اتھارٹی بن گئے ہیں۔ ہر آفیسر سے سیدھے بات کرتے ہیں۔
آج تو ایمرجینسی نہیں ہے، سینسرشپ بھی نہیں ہے۔ پھر بھی اخبار سرکار کے خلاف نہیں لکھ پاتے۔ سب کا منہ پیسے سے بند ہے۔ اخبار مالک پیسے کے لالچی ہیں۔ پیسہ لے کر اور ڈر کر نہیں لکھ پاتے ۔ امیت شاہ جو ننگا ناچ کررہے ہیں، اس سے انتظامیہ میں بہت غصہ ہے لیکن کوئی بول نہیں پارہا ہے کیونکہ سب کونوکری کرنی ہے۔ لیکن انتخابی عمل شروع ہوتے ہی یہ غصہ پھٹ پڑے گا۔
آلوک ورما پہلے دہلی کے پولیس کمشنر بنائے گئے تھے۔ ان سے پہلے بی ایس بسی تھے۔ بسی اروند کجریوال سے بد تمیزی کررہے تھے۔ امیت شاہ اور ارون جیٹلی کی شہہ پر وہ ایسا کررہے تھے۔ جب ان کی جگہ آلوک ورما آئے، تب سے دہلی پولیس اور عام آدمی پارٹی کی سرکار کے بیچ کھٹ پٹ بند ہو گئی۔ ورما ایک پرفیکٹ آفیسر ہیں۔ پھر وہ سی بی آئی ڈائریکٹر بنائے گئے لیکن استھانا کو لگا دیا ان کے پیچھے۔ چرچا تو یہ بھی تھی کہ سرکار گگوئی کو چیف جسٹس نہیں بنائے گی ، لیکن مودی جی کو عقل آئی ،نہیں تو ایک اور مشکل ہوتی۔ ملک کا نقصان کرنا آسان ہے اور نقصان کرنے کے لئے کوئی بڑی کابینی میٹنگ بلانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے غلط فیصلے سے ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔
وزیر اعظم کی شخصیت صحیح ہونی چاہئے۔ جواہر لعل نہرو کی تو بات ہی الگ تھی۔ اندراگاندھی نے بھی ایمرجینسی والی غلطی کے علاوہ سب ٹھیک ہی کیا۔ بنگلہ دیش جنگ میں جیت، غریبی ہٹائو جیسے نعرے وغیرہ کے بعد وہ انتخابات بھی جیتیں۔ راجیو گاندھی کے پاس تجربہ نہیں تھا۔ پانچ سال میں کچھ کر نہیں پائے لیکن ان کے ارادے اچھے تھے، ماڈرن آدمی تھے ، ماڈرن کام چاہتے تھے، جوہو نہیں پایا۔ سرکار کی ساکھ ڈھائی سال میں اتنی گر گئی کہ 1989 کے انتخابات میں 400 سیٹ سے کافی نیچے آگئے۔ پھر وی پی سنگھ آئے، چندر شیکھر جی آئے۔ نرسمہا رائو جب آئے تب تک خزانہ خالی ہو گیا تھا۔ ان کے پاس ڈیلیوشن کرکے لبرلائزیشن کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ ہمارے صنعتکار بھی چاہتے تھے کہ کنٹرول راج ختم کر دو۔ کھول دیا تو آج ملک میں چین کے اتنے سامان آرہے ہیں کہ آپ اس سے مقابلہ کرہی نہیں سکتے۔

 

 

 

 

اتنے برے ملک کی اقتصادیات بہت نازک چیز ہوتی ہے۔ سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے۔ اس کے لئے دانشوروں کی ضرورت ہے۔ موجودہ سرکار میں تو سب کم عقل بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو عقلمند ہیں، انہیں کنارے لگادیا گیا ہے۔ کل ملا کر اقتصادی صورت حال سنگین ہے۔ چار سال میں حکومت ، انتظامیہ ، اسٹیٹ کی اخلاقی سطح گر گئی۔ کوئی بھی نیاوزیر اعظم آیاتو اسے یہ ملک سنبھالنے میں بہت مشکل آئے گی۔ مرلی منوہر جوشی، اڈوانی جی کو عقل لگانی چاہئے کہ اگر آگے بھی بی جے پی کی سرکار آئی تو جو غلطی ہوئی ہے، اسے کیسے سدھارنا ہے۔ کیسے صورت حال کو پٹری پر واپس لانا ہے۔ پٹری پر بھی آکر ہم کوئی امریکہ نہیں بن جائیں گے۔
جیسا خواب یہ روز دکھاتے ہیں۔ ہم سوا سو کروڑ لوگ ہیںجن میں غریبی ، بھکمری ہے، دوا کا پیسہ نہیں ہے، اسپتال نہیں ہے یہاں۔ غذائی اشیاء کا تحفظ نہیں ہے یہاں۔کسان محنت کرکے اشیائے خوردنی پیدا کرتے ہیں۔سرکار کا اس میں کیا رول ہونا چاہئے؟سرکار تو کسانوں کو مارنے میں لگی ہوئی ہے۔ سرکار انہیں مناسب قیمت نہیں دے رہی ہے۔
بنیادی مسائل پر دھیان دینے کی جگہ سرکار مورتی بنائے گی، ربن کاٹے گی، ایک ہی فلائی اوور کا تین بار افتتاح کرے گی۔ پرانی اسکیموں کا نام بدلے گی۔ بی جے پی کی پرانی بیماری ہے کہ اسے مسلمان اچھے نہیں لگتے۔یہ مغل کو بھی مسلمان گنتے ہیں۔ ارے مغل تو راجا تھے۔ راجا کو ہندو و مسلمان سے کیا مطلب؟ مغل سرائے کا نام بدل دیا ۔یہ بہت چھوٹی سطح پر کام کرنے والے لوگ ہیں۔
ساڑھے چار سال میں ایک چیز مودی جی نے پکا ثابت کر دیا ہے کہ ہم لوگ مرکزی سرکار چلانے کے قابل نہیں ہیں۔ اس سے زیادہ عقل کی کج کیاہوگی کہ اس ملک کو امیت شاہ چلا رہے ہیں۔ مودی چلائیں تو ایک بات ہے لیکن امیت شاہ چلا رہے ہیں۔ مطلب معاملہ ختم ہے۔میری سمجھ میںنہیں آیا کہ آر ایس ایس کیوں نہیں بیچ میں بول رہی ہے۔ اڈوانی جی اور مرلی منوہر جوشی جی کو تو گونگا بنا دیا ہے انہوں نے۔سرکار نے انتظامی ڈھانچہ اتنا بگاڑ دیا ہے کہ اس کی قیمت تو ادا کرنی ہی پڑے گی۔ لیکن جو اگلا وزیر اعظم آئے گا، اس کے لئے بڑی دشواری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *