راجستھان اسمبلی انتخابات 2018 سیاسی اونٹ کس کروٹ ؟

راجستھان میں انتخاب کی بساط بچھ چکی ہے۔یہاں کی روایت ہے کہ ہر پانچ سال میں سرکار بدلتی رہی ہے۔ بھیرو سنگھ شیخاوت کو ہرا کرکے اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ بنے، اشوک گہلوت کو ہرا کر وسندھرا راجے وزیر اعلیٰ بنیں، وسندھرا راجے کو ہرا کر پھر اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ بنے، اشوک گہلوت کو ہرا کر پھر وسندھرا راجے نے سرکار بنائی۔ کہا جارہا ہے کہ یہ روایت اس بار بھی یہاں نبھائی جائے گی۔
پانچ سال کے بعد وسندھراکی سرکار پلٹ دی جائے گی اور نئی سرکار آئے گی۔ لیکن اس بار ماحول ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ پانچ سال والی روایت نبھائی جائے۔ حالانکہ جو انتخابی سروے آئے ہیں، اس میں کانگریس بی جے پی سے بہت آگے ہے۔ سٹہ بازار میں بھی کانگریس کو بی جے پی سے بہت آگے بتایا جارہا ہے۔ سروے کے مطابق،اس بار 100 سے زیادہ سیٹیں کانگریس جیت رہی ہے اور بی جے پی جس کی ابھی 163 سیٹیں ہیں، وہ گھٹ کر 63 تک پہنچ جائے گی۔ مطلب 100 سیٹ کا سیدھا نقصان بی جے پی کو بتایا جارہا ہے۔
اس بار کی وسندھرا راجے سرکار کافی ناکام رہی ہے۔ حالانکہ وسندھرا راجے سرکار نے پانچ سال میں کئی کام کئے ہیں،لیکن وہ سب کام بیکار ثابت ہوئے ہیں۔اب جب انتخابی ماحول شروع ہوا، تب انہوں نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کیا، فصلوں کی بڑے پیمانے پر خرید کی، کسانوں کو مفت بجلی دینے کا اعلان کیا۔ اجمیر میں انہوں نے جب اپنی ’ گَورو یاترا ‘ مکمل کی تو نریندر مودی کے سامنے انہوں نے اعلان کیا کہ کسانوں کو مفت بجلی دی جائے گی۔ اس اعلان کے فوراً بعد ہی انتخابی ضابطہ اخلاق لاگو ہو گیا۔ بھاما شاہ کارڈ ہولڈروں کو تقریباً 10 لاکھ اسمارٹ فون دیئے جائیںگے۔ جو بچے اچھے نمبر سے پاس ہوئے ہیں، ان کو مفت لیپ ٹاپ دیئے جارہے ہیں۔

 

 

 

 

حتمی اکثریت مشکل ہے
مذکورہ سارے کام وسندھرا سرکار نے عوامی مفاد میں کیا ہے لیکن یہ سب کام بھی وسندھرا سرکار کو واپس اقتدار میں لانے کے لئے آج کی تاریخ میں معاون نہیں مانے جارہے ہیں۔بہتوں کا خیال یہ ہے کہ آج اگر ووٹنگ ہوتی ہے ،آج کا جو ماحول ہے، اس میں یقینی طور سے کانگریس کی سرکار بن جائے گی۔ لیکن ابھی ٹکٹوں کی تقسیم باقی ہے۔ یہ مانا جارہا ہے کہ جب ٹکٹوں کی تقسیم ہوگی تب آج کی صورت حال بدل جائے گی۔
جو انتخابی سروے آئے ہیں یا جو سٹہ بازار کہہ رہا ہے وہ صورت حال وزیر اعظم مودی کے اجمیر میں ہوئے اجلاس سے پہلے کی ہے۔ موجودہ اندازہ وسندھرا راجے کی ایک مہینے کی’ گورو یاترا ‘کے دوران کا ہے۔ اب بتایا جارہا ہے کہ ماحول تھوڑا بی جے پی کے حق میں بنا ہے۔ عام لوگوں کا یہ بھی مانناہے کہ دھیرے دھیرے کانگریس کی سیٹیں 110 سے زیادہ نہیں بڑھ پائیںگی بلکہ نیچے آسکتی ہیں اور بی جے پی اپنی سیٹوں کو 63 سے بڑھاکر 80-85 پر لے جاسکتی ہے۔ غیر جانبدار تجزیہ کرنے والے سیاسی جانکار وں کا یہ ماننا ہے کہ اس بار دونوں ہی پارٹیاں حتمی اکثریت نہیں لا پائیں گی۔بی جے پی 90 کے لگ بھگ سمٹ کر رہ جائے گی اور کانگریس بھی 90 کے اعداد چھو سکتی ہے۔ آج کی تاریخ میں کسی بھی پارٹی کو حتمی اکثریت آنے کا اندازہ نہیں کیا جارہا ہے۔
کانگریس اور بی جے پی کی بیان بازی
جیسے جیسے اسمبلی انتخابات نزدیک آرہے ہیں، بی جے پی اور کانگریس کے بیچ الزام تراشیوں کا دور اور تیز ہو گیا ہے۔ دونوں ہی پارٹیاں ایک دوسرے کی اندرونی کھینچا تانی کو ایشو بنا رہی ہیں۔ ایسے میں انتخابات آنے تک ریاست کی سیاست کا پارہ گرماجائے گا۔ کانگریس نے راجستھان بی جے پی صدر کی کھینچا تانی تو کبھی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور پارٹی صدر امیت شاہ کے تنائو کو سیاسی ایشو بنایا۔ اس کے جواب میں بی جے پی نے اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کے خیمے میں وزیر اعلیٰ عہدہ کی دعویداری کو لے کر چل رہی رسہ کشی پر کانگریس کو لگاتار گھیرنے کی کوشش کی ۔ دونوں ہی پارٹیاں کھلے اسٹیج سے ایک دوسرے کی اندرونی سیاست کی کھینچا تانی کو سب کے سامنے لانا چاہتی ہیں تاکہ انتخابات میں اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے۔ اس کے علاوہ دونوں ہی پارٹیاں اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعہ ان ایشوز کو زیادہ ہوا دلوا رہی ہیں۔
کانگریس کئی طرح کی بیان بازی کرکے بی جے پی یا وسندھرا سرکار پر حملہ کر رہی ہے۔ جیسے اشوک گہلوت نے بیان دیا کہ بی جے پی وسندھرا راجے کے چہرے پر انتخاب نہیں لڑنا چاہتی۔ اسی لئے پارٹی کے نام پرووٹ مانگے جارہے ہیں۔ بی جے پی اس بار وسندھرا سرکار کو اسٹار کمپین نہیں بنا رہی ہے۔ دوسری طرف سچن پائلٹ نے آدیواسی سمینار میں کہا کہ پھوٹ کانگریس میں نہیں بی جے پی میں ہے۔ وسندھرا راجے اور امیت شاہ ایک اسٹیج پر ساتھ ساتھ نہیں دکھائی دیتے۔
کانگریس نے بی جے پی پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا ہے۔ ریاست کی ’گورو یاترا‘ اور وزیر اعظم کے جے پور میں منعقد اجلاس میں سرکاری پیسے کے بے جا استعمال کا الزام بھی کانگریس نے لگایا ہے۔ اس کے علاوہ، کانگریس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں کم کرنے، ملازموں کی ہڑتال اور انتخابی ضابطہ اخلاق لاگو ہونے سے پہلے کسانوں کے بجلی بل کو معاف کرنے کا جو اعلان بی جے پی نے کیا ہے، وہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔
بی جے پی نے بھی ان الزامات کے رد عمل میں جوابی حملہ کیا ہے۔ بی جے پی کے انتخابی انچارج پرکاش جائوڈیکر نے کہا ہے کہ کانگریس میں گہلوت اور سچن پائلٹ خیمے کے بیچ مچی کھینچا تانی کو لے کر کانگریس یہاں سی ایم امیدوار کا اعلان نہیں کر پائی ہے۔ راہل گاندھی کی پسند سچن پائلٹ ہیں، لیکن اس کا اعلان کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وہیں گہلوت کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو کھیل کی شروعات ہوئی ہے۔
وسندھرا راجے پائلٹ کو سیاست کا مبتدی بتاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پائلٹ ابھی بچے ہیں۔ یہ راجستھان ہے، یہاں کی سیاست کو وہ نہیں پہچانتے ہیں۔ بی جے پی نے پائلٹ کے غیر راجستھانی ہونے کا بھی ایشو اٹھایا ہے۔ بی جے پی نے ان واقعات کو انتخابات میں پھر سے اچھالنے کی تیاری کی ہے جس میں کانگریس گھری ہوئی ہے۔ پرکاش جائوڈیگر نے بی جے پی کے میڈیا سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس کو آنے والے وقت میں ملک کو ایمبولینس گھوٹالہ اور زمین گھوٹالے سمیت بہت سارے معاملوں کے جواب دینے ہوں گے۔ ان دونوں معاملوں میں سی بی آئی کی جانچ چل رہی ہے۔ اس طرح سے بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہی ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ کانگریس کے پاس وزیر اعلیٰ کا چہرہ نہیں ہے اور بی جے پی کے پاس وزیر اعلیٰ کا ایسا چہرہ ہے جو عوام کو راس نہیں آرہا ہے۔ اگر بی جے پی کو اپنا گراف آگے بڑھانا ہے تو اسے امیت شاہ اور وزیر اعظم مودی کے انتخابی اجلاس اور ریلیوں کے سہارے ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

 

 

 

 

 

100 بی جے پی ایم ایل ایز کا ٹکٹ کٹا تو۔۔۔۔
راجستھان کی سیاسی گلیاروں میں یہ بھی چرچا ہے کہ موجودہ وقت میں بی جے پی کی 163 سیٹوں میں سے 100 ایم ایل ایز کے ٹکٹ کاٹے جائیں گے۔ راجستھان کے سینئر صحافی راجندر چھابڑا کا ماننا ہے کہ اگر 100 ایم ایل ایز کے ٹکٹ کٹتے ہیں تو بی جے پی کے لئے ماحول کافی بدل جائے گا، کیونکہ موجودہ وقت میں بی جے پی کے خلاف اینٹی انکمبنسی زیادہ ہے۔ ہر وزیر، ہر ایم ایل اے سے عوام خفا ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے چہرے سے بھی عوام خفا ہیں۔ چھابڑا کہتے ہیں کہ اگر وزیر اعلیٰ کو آگے کرکے انتخاب لڑا جائیگا تو بی جے پی کی سیٹ بڑھنے کا بالکل بھی امکان نہیں رہے گا۔
ظاہر ہے، اگر راجستھان کی سیاست میں بی جے پی کی زمینی حالت یہی رہی تو پھر نریندر مودی اور امیت شاہ کو ہی کمان سنبھالنی ہوگی اور یہی لگ بھگ ہو بھی رہا ہے۔ پچھلی بار جب امیت شاہ راجستھان کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے کہیں بھی وسندھرا راجے کو اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ وہ اپنی الگ انتخابی ریلی کرتے رہے۔ وسندھرا راجے اپنی ’گورو یاترا ‘میں مصروف رہیں۔ وزیر اعظم مودی ضرور ’گورو یاترا ‘ کے مکمل ہونے پر اجمیر آئے تھے۔ تب انہوں نے وسندھرا سرکار کی تعریف کی تھی لیکن سیاسی جانکار بتاتے ہیں کہ وسندھرا سرکار کی تعریف سے شاید ووٹ فیصد نہیں بڑھے گا۔ مودی کو اپنی سرکار اور اپنی پارٹی کی ہی واہ واہی کرنی ہوگی۔
تیسرے مورچہ سے کسے فائدہ ،کسے نقصان
راجستھان کے انتخابات میں اس بار ایک تیسرا مورچہ بھی ہے، جس کی تشکیل کی تیاری ہو رہی ہے۔ کانگریس تیسرے مورچے کے ساتھ نہیں مل سکتی۔ کیونکہ تیسرے مورچہ میں اس طرح کی پارٹیاں ہیں جو کانگریس کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتیں۔ اگر تیسرا مورچہ بنتا ہے تو یقینی طور سے یہ بی جے پی کا مددگارہوگا۔ سیکر میں تھوڑا بہت سی پی ایم کا زور ہے۔ وہاں اگر سی پی ایم اور کانگریس الگ الگ لڑتی ہے تو اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ کانگریس اور تیسرے مورچے کی پارٹیوں کے بیچ باضابطہ انتخابی رشتے کے امکانات سے صاف طور پر انکار کیا جارہا ہے۔7 پارٹیوں سے مل کر بنے’ لوک تانترک مورچہ ‘ کے ارجن دیتا کہتے ہیں کہ کانگریس کے ساتھ ہماری کوئی دعا سلام بھی نہیں ہے، گٹھ بندھن کا سوال ہی کہاں ہے۔ ایسی ریاست میں جہاں روایتی طور سے دو پارٹی کی سیاست کے تئیں ہی عوام کا جھکائو رہا ہے، وہاں تیسرے مورچے کی پارٹیاں تال ٹھونک کر اس بار انتخابی میدان میں اتر رہی ہیں۔ اس میں عام آدمی پارٹی، گھنشیام تیواری کی بھارت واہنی پارٹی، سابق بی جے پی لیڈر ہنومان بینیوال کی قیادت والی نئی پارٹی وغیرہ ہے۔
ان چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر ایک نیا مورچہ بنا ہے لیکن سیٹوں کی ممکنہ تقسیم کو لے کر تیسرا مورچہ کیسے تال میل بنائے گا ،اس پر ابھی شبہات ہیں۔لیکن کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کے امکان سے تیسرا مورچہ صاف انکار کر رہا ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر مایاوتی کی بہو جن سماج پارٹی اپنے پچھلے انتخابات کے اندازے کے حساب سے سوچتی ہے کہ اس بار اس کو اچھا ووٹ مل سکتا ہے ۔ راجستھان اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کا اثر بھی محدود رہاہے۔ یہاں کے انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کے ووٹوں کا فیصد برابر گھٹا بڑھتا رہا ہے۔ 2003 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 6.4 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2008 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 7.60 فیصد ووٹ ملے تھے تو 2013 میں 3.48 فیصد ووٹ ملے۔ دلت رائٹس کے پی ایل ممروتھ کہتے ہیں کہ سیدھے واضح رجحانات کے سہارے سیاست آگے نہیں بڑھتی ہے۔ وقت کے ساتھ چھوٹی پارٹیاں بھی بڑی بن سکتی ہیں۔ یہی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں متحد ہو جائیں تو کانگریس کے سامنے مشکلیں آسکتی ہیں۔ خاص کر اتر پردیش سے لگے مشرقی راجستھان کے انتخابی حلقوں میں دوسری پارٹیاں اچھا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔

 

 

 

 

 

ٹکٹ تقسیم سے تصویر ہوگی صاف
ابھی راجستھان کی سیاست میں صورت حال یہ ہے کہ جب تک ٹکٹ کی تقسیم نہیں ہوتی ہے تب تک صورت حال صاف نہیں ہو سکتی۔ دونوں ہی پارٹیوں میں ٹکٹوں کو لے کر گھمسان مچا ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی میں بھی گھمسان ہے۔ اشوک گہلوت چاہتے ہیں کہ ان کے لوگوں کو زیادہ ٹکٹ ملے اور سچن پائلٹ چاہتے ہیں کہ ان کے لوگوں کو زیادہ سیٹ ملے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر ہی پارٹی میں بہت اٹھا پٹخ ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی پتہ لگے گا کہ کس کے لوگوں کو زیادہ ٹکٹ ملے ہیں اور کس طرح سے ٹکٹوں کی تقسیم ہوئی ہے۔ ابھی دونوں ہی خیمے ایک دوسرے کے ٹکٹ کاٹ سکتے ہیں۔
یہی حالت بی جے پی میں بھی ہے۔بی جے پی میں ایک خیمہ وسندھرا راجے کے ساتھ ہے اور وسندھرا راجے اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سیٹ دلانا چاہتی ہیں۔ وہیں امیت شاہ اور بی جے پی ریاستی صدر مدن لال سونی اپنا انتخابی حساب بیٹھا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیر جانبدار لوگوں کو الگ سے ٹکٹ دیا جائے اور جو پرانے ہیں ان سب کو ہٹا کر نئے چہروں کو سامنے لایا جائے۔ اس طرح سے بی جے پی میں بھی دو خیمے ہیں اور کانگریس میں بھی دو خیمے ہیں۔
ان خیموں میں سیٹوں کی تقسیم کیسے ہوتی ہے، یہی آگے یہ اس صورت حال کو صاف کرے گی لیکن یہ سب دیوالی کے بعدہونے کا امکان ہے۔ پچھلے دنوں راہل گاندھی راجستھان کے دورے پر تھے۔ وہ جھالاواڑ میں تھے۔ سچن پائلٹ نے وہاں کہا کہ بی جے پی 100 سے زیادہ ایم ایل ایز کا ٹکٹ کاٹنے جارہی ہے ۔ وہیں کانگریس پارٹی 51 ہزار بوتھوں پر کارکنوں کو ساتھ لے کر کام کرر ہی ہے۔ سچن پائلٹ سی ایم پر حملہ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کے جھالاواڑ سیٹ بدلنے کی چرچا ہے ۔یہ افواہ ہے یا سچائی اس کا تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن جھالا واڑ کی چاروں سیٹوں سمیت ہاڑوتی کی سبھی سیٹیں کانگریس پارٹی بھاری ووٹوں سے جیتے گی۔
پائلٹ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاڑوتی حلقے سے چن کر آتی ہیں لیکن گزشتہ دنوں انہوں نے وہاں 17 ہزار کروڑ کی جھوٹی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنی سرمایہ کاری ہونے کے باوجود جھالاواڑ ضلع ابھی پچھڑا ہواہے ، اس لئے وہاں کے کلکٹر نے سرکار کو لکھ کر بھیجا ہے کہ یہاں کے تعلیمی نظام اور ہیلتھ سروس کی سطح نچلے درجے کی ہے، اس لئے اسے پچھڑے ضلع کے درجے میں ڈالا جائے۔ ظاہر ہے اگر وزیر اعلیٰ کے ضلع کا کلکٹر یہ خط لکھتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ اس سے کانگریس کو انتخاب میں ایشو بنانے کا ایک بڑا موقع مل جاتاہے۔
وزیروں کے سر پر شکست کا خطرہ
صورت حال یہ ہے کہ پانچ سال میں بی جے پی سرکار کے خلاف اینٹی انکمبنسی اتنی ہے کہ ایک دو وزیر کو چھوڑ کر جن میں گلاب چند کٹاریہ وزیر داخلہ ہیں، کوئی انتخاب جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تین یا چار وزیر ہیں جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ صاف ستھری شبیہ والے لوگ ہیں اور انتخاب جیت سکتے ہیں ۔باقی سارے وزیر اپنے اپنے حلقوں میں پچھڑ رہے ہیں اور ان کے خلاف اینٹی انکمبنسی ہے۔ ان کے بیٹے، ان کے بھائی یا ان کے رشتہ داوں پر بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں ۔کئی وزیر خود الزامات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسے وزیر سیٹ بدل کر دوسری سیٹ سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں لیکن راجستھان کے انتخابی انچارج پرکاش جائوڈیکر نے صاف کردیا ہے کہ کسی بھی وزیر یا ایم ایل اے کو سیٹ نہیں بدلنے دیا جائے گا۔ ظاہر ہے جب تک سیٹوں کی تقسیم نہیں ہوتی ہے ،صورت حال واضح نہیں ہو سکتی ہے۔ دیوالی کے بعد جب سیٹوں کی تقسیم ہو گی تب صاف طور سے کہا جاسکتاہے کہ کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی۔
کانگریس سچن پائلٹ کو سی ایم چہرہ کیوں نہیں بنا رہی ہے۔
کانگریس سچن پائلٹ کو اس لئے سی ایم چہرہ بنانے کا اعلان نہیں کررہی ہے کیونکہ وہ گورجر ہیں۔ راجستھان کی روایت رہی ہے کہ مینا، جاٹ، گورجر میں سے کوئی وزیر اعلیٰ نہیں بنتا ہے۔ تینوں برادریاں ایک دوسرے کی جانی دشمن ہیں۔ اگر سچن پائلٹ کو کانگریس آگے کرتی ہے تو مینا اور جاٹ بالکل اپوزیشن میں چلے جائینگے۔ ویسے بھی جاٹ اشوک گہلوت سے خفا ہیں۔ سچن پائلٹ کو اگر آگے کرتے ہیں تو مینا صاف طور پر کانگریس سے دور چلے جائیںگے۔ اس لئے سچن پائلٹ کو سی ایم کے طور پر دعویداری کا اعلان نہیں کیا جارہاہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اشوک گہلوت کو سی ایم چہرہ اعلان کیا جاتاہے تو پھر سچن پائلٹ کا خیمہ جو پچھلے پانچ سال سے محنت کررہا ہے ، روٹھ جائے گا۔ پچھلی بار جب راہل گاندھی راجستھان آئے تھے تو انہوں نے صاف طور سے کہا تھا کہ ہماری پچھلی گہلوت سرکار کے وزیروں نے کام نہیں کیا۔ اس بار آپ ہمیں جتائیے ،ہمارے وزیر کام کریں گے۔ راہل گاندھی نے یہ اشارہ دیا ہے کہ اس بار اشوک گہلوت وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے بلکہ وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ بنیںگے۔ راہل گاندھی کا اس طرح سے اشوک گہلوت پر وار کرنا سچن پائلٹ خیمے کو راس آرہا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سچن پائلٹ اور اشوک گہلوت کھلے طور پر آمنے سامنے ہو گئے ہیں۔ اتنا زیادہ کہ اگر اشوک گہلوت پریس کانفرنس کرتے ہیں تو سچن پائلٹ اس کے جواب میں پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ پردے کے پیچھے دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ یہ چیزیں کانگریس پارٹی کے لئے بہت خطرناک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *