مولانا قاری ہدایت اللہ باقویؒ زہدوتقویٰ کے علمبردارتھے:منصورعالمی عرفانی

qari-hidayatullah
استاذ الاساتذہ شیخ القراء مرشد ومربی حضرت مولانا قاری ہدایت اللہ صاحب باقوی نور اللہ مرقدہ صدر شعبہ حفظ و قرات مدرسہ کاشف الہدی مدراس کا کئی دنوں کی علالت کے بعد کل صبح 18 اکتوبر کو چنئی کے ایک پرائیوٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔وہ86 سال کے تھے۔ حضرت قبلہ دامت برکاتہم تمل ناڈو کے ضلع ولپرم کے مسلم اکثریتی قصبہ کوٹے کوپم میں پیدا ہوئے اور مختلف مدارس میں دینی علم حصول کرنے کے بعد مدرسہ باقیات الصالحات ویلور سے فراغت حاصل کی۔حضرت قبلہ دامت برکاتہم رح مدرسہ کاشف الہدی چنئی کے بانیوں میں سے ایک تھے. آپ محب قرآن کے نام سے جانے جاتے تھے۔خلوص و للہیت عاجزی و انکساری گویا آپ کی اصل کنجی ہو۔ لوگوں سے ایسا ملتے مانو برسوں کا کھویا انسان آج دوبارہ مل گیا ہو۔ غرور وتکبر اور بڑائی آپ کو بالکل پسند نہی تھی بلکہ یوں کہیں کہ یہ چیزیں آپ کے آس پاس گردش بھی نہی کرپاتی تھی۔ اللہ نے آپ کو حسن اخلاق سے نوازا تھا۔
حضرت اقدس دامت برکاتہم نے اپنی پوری زندگی قرآن کی خدمت میں گزاردی۔ قرآن سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ کے لائبریری آپ کے سونے کے بستر سے لیکر الماری تک تلاوت قرآن کی کیسٹیں اور قرآن سے متعلق کتابیں بھری پڑی تھیں۔ قرآن سے اتنا دلی لگاؤ اور شغف تھا کہ اتنی عمر گزرجانے کے باوجود آپ خود کلاس میں اسباق سنا کرتے اور امتحانوں میں جایا کرتے تھے۔دوران سفر بھی جہاں کہیں تلاوت قرآن کی آواز سنتے ٹھہر جایا کرتے اور سننے کے بعد ہی قدم آگے بڑھاتے۔
حضرت قبلہ دامت برکاتہم گزشتہ کچھ سالوں سے تجوید سیکھنے کی غرض سے مکہ مکرمہ جایا کرتے تھے اور عمرہ کی سعادت کے ساتھ ساتھ وہاں کے ایک بڑی بزرگ شخصیت(نام معلوم نہیں) سے قرآن کا درس لیکر آتے وہاں سے آنے کے بعد وہاں کی کارگزاری سنایا کرتے۔
حضرت کی کاوشوں کا نتیجہ ہی ہے کہ آج جنوبی ہند خصوصا تمل ناڈو میں قرآن ترتیب اور تجوید کے ساتھ پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔آْپ قبلہ دامت برکاتہم نے پورے جنوبی ہندوستان میں مدارس کا جال بچھایا۔جگہ جگہ حفظ کے مدراس قائم کئے۔ جہاں کہیں بھی وہاں جاتے سب سے پہلے وہاں ایک حفظ مدرسہ کھولنے کا مشورہ دیتے، کئی جگہوں پر خود اپنے خرچوں سے مدرسہ شروع کروایااور دعائیں دیں کہ اللہ اس مدرسے کو ترقیوں سے نوازے۔آپ قبلہ دامت برکاتہم کم و بیش اسی سے زائد مدارس کے سرپرست اور ذمہ دار تھے۔
حضرت قبلہ دامت برکاتہم کے شاگرد وں میں بڑے بڑے جید علمائے کرام شامل ہیں جو کہ پورے تمل ناڈو ہی نہی بلکہ پورے جنوبی ہند میں پھیلے ہوئے ہیں. اور آپ کے نہج پر خدمت قرآن میں مصروف ہیں۔
آپ کی رحلت سے یہاں کے مسلمانوں کا جو خسارہ ہوا ہے اسے پر کرنا مستقبل قریب میں بے حد مشکل ہے۔آج مدارس اسلامیہ اپنے ایک مشفق رہنما اور مخلص استاذ کے گزرنے سے یتیم ہوگیا۔کسی بھی مدرسے کے استاذ یا وہاں کے ذمہ دار حضرت قبلہ دامت برکاتہم کے مشورے کے بغیر کوئی قدم ٹھایا کرتے تھے،آپ کے مشوروں کو حد درجہ قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا.
حضرت قبلہ دامت برکاتہم علمائے دیوبند سے کافی محبت اور لگاو رکھتے تھے۔دیوبند سے دلی لگاؤ کی کیفیت یہ تھی کہ جب بھی کوئی دیوبند سے آنے کے بعد حضرت سے ملاقات کرتا تو آپ عقیدت و محبت سے اسکے ہاتھوں کو بوسہ دیتے اور دیوبند کے حالات بڑی دلچسپی سے دریافت کرتے۔
آپ سنت کے بے حد پابند تھے اور فرض نماز کبھی قضا نہیں ہوتی۔ میں جب بھی حضرت قبلہ کے ساتھ سفر میں رہا کبھی بھی نماز کا وقت آگے پیچھے نہی ہوا خواہ سفر ٹرین کا ہی کیوں نہ ہو. آپ کیمرہ فوٹو اور ویڈیو سے سخت نفرت کیا کرتے تھے. اور کسی بھی جلسے جلوس یا پروگرام جس میں حضرت دامت برکاتہم کی شرکت متوقع ہوتی وہاں تصاویر پر سخت بندش رہتی۔ اسی کا ثمرہ ہے کہ ابھی بھی پورے تمل ناڈو میں کسی بھی جلسے جلوس یا دینی محفلوں میں فوٹو کھینچنا معیوب سمجھا جاتاہے اور لوگ گناہ سمجھ کر فوٹو لینے سے گریز کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں حضرت قبلہ کے ساتھ میل وشارم اور ویلور کے سفر پر تھا۔کسی صاحب ثروت کے یہاں شادی کی دعوت تھی جہاں حضرت قبلہ کو شرکت کرنی تھی۔جب ہم لوگ شادی خانہ پہونچے تو حضرت کی نظر ویڈیو کیمرے پر پڑی فورا ہی حضرت نے قدم پیچھے کھینچا اور تقریب میں شرکت کئے بغیر واپس لوٹ آئے۔میں بھی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔حضرت قبلہ کو جب کبھی بھی کسی شادی کی تقریب میں جانا ہوتا تو پہلے ہی بول دیا کرتے کہ کیمرہ وغیرہ نہیں رکھنا جائز نہیں ہے۔
آپ خوشبو بے حد پسند کیا کرتے اور جو کوئی بھی آپ سے ملنے آتا پہلے انہیں خوشبو ہی پیش کیا کرتے تھے۔حضرت قبلہ رح علیہ ہمیشہ اپنے استاذ جوکہ مکہ مکرمہ میں تھے انکاتذکرہ کیا کرتے اور ہندوستان میں حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث جامع العلوم مظفر پور کا تذکرہ بھی بارہا ں کرتے کیوں کہ آپ ان سے کافی متاثر تھے۔
ایک مرتبہ آپ نے بہار جاکر ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی. سفر کے لئے سب کچھ تیار کرلیا تھا مگر عین وقت پر کسی مشغولیت کی وجہ سے جانا ممکن نہی ہوپایا. اتفاق سے کئی سالوں بعد گزشتہ مہینے اکتوبر کے اوائل میں حضرت شیخ الحدیث کا مدراس کا سفر ہوا. معلوم ہونے کے بعد میں نے حضرت شیخ الحدیث کے آنے کی خبر دی تو فورا ہی ان سے ملاقات کے لئے جانے کو تیار ہوگئے۔ مغرب کی نماز مدرسہ کاشف الہدی میں ادا کرنے کے بعد حضرت شیخ الحدیث کے قیام گاہ تک پہنچا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا اشتیاق صاحب قبلہ طبیعت علیل ہونے اور تھکاوٹ کے باوجود آپ سے ملنے کے لئے باہر آئے اور تقریبا پندرہ منٹ کی ملاقات ہوئی. ملاقات پر ایسے خوشی کا اظہار گویا کوئی کھوئی ہوئی بیش قیمتی چیز واپس مل گئی ہو.دوران ملاقات بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے رہے اور کہتے رہے کہ دعاء کیجئے قوت بہت کم ہوگئی ہے عبادت میں کمی رہ جاتی ہے اور موت کی یاد برابر آتی ہے. ہمیشہ موت کی یاد آتی ہے. دعاء4 کیجئے کہ خاتمہ ایمان پر ہو۔
راقم الحروف حضرت قبلہ کے ساتھ اکثر و بیشتر سفر میں ساتھ ہوتا، مجھے لوگ حضرت کے چھوٹے صاحزادے تصور کیا کرتے تھے اور حضرت کے بارے میں لوگ مجھ سے زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش بھی کیا کرتے۔
مجھے کئی بزرگان دین کے ساتھ وقت گزارنے اور خدمت کا موقع میسر ہوا مگر جو بزرگی وپارسائی خلوص و للہیت اور پابندی سنت، محی السنہ ہردوئی رح کے بعد آپ میں پایا وہ کہیں نہیں. آپ کے اندر خوف خدا کوٹ کوٹ کر بھرا تھا. آپ سنت نبوی کے شیدائی تھے ہر چھوٹی بڑی سنتوں پر خود بھی عمل کرتے اور سامنے والوں کو عمل کی تلقین بھی کیا کرتے۔
حضرت قبلہ دامت برکاتہم رح کے پسیماندگان میں تین صاحبزادے حافظ وقاری رشید احمد ،حافظ وقاری حسین احمد اورحافظ وقاری اشرف علی اور تین صاحزادیاں ہیں جوکہ رشتہ ازواج سے منسلک ہیں۔
آپ کی رحلت ایسے وقت میں ہوئی جب تمل ناڈو کا ہمارا ساحلی علاقہ غزہ طوفان کی مار سے متاثرہیں۔ سڑکیں خستہ حال ہوچکی ہیں اور بسیں بحال نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث نماز جنازہ میں لاکھ کوششوں کے باوجود شرکت کا موقع میسر نہ ہوسکا۔یہ بھی میرے لئے ایک صدمے سے کم نہی تھا. اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے۔آمین
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *