آج بھی شہرت ہے زینت امان کی

zeenat-aman

زینت امان اپنے دور کی بالی ووڈ کی پرکشش اداکارہ رہیں۔ وہ 70 19سے 80 19کی دہائی میں بننے فلموں کا ایک بڑا نام اور ٹاپ گلیمرس اداکارہ ہیں۔ زینت امان ایسی اداکارہ ہیں جن کی شہرت آج بھی ماند نہیں پڑی۔ہیرا پنا ، یادوں کی بارات ، دھرم ویر ، دوستانہ ، لاوارث زینت امان کی مشہور فلمیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بعد آنے والی اداکارائیں کیلئے کام کی نئی منزلیں ، نئی راہیں متعین کیں۔ زینت امان کو بالی ووڈ میں کام کرنے والے ایسے انقلابی چہروں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے اپنے بولڈ اندازسے سنیما کا مزاج بدل کر رکھ دیا۔
19نومبر 1951کو پیدا ہوئیں زینت امان کو بالی ووڈ کی اس اداکارہ کے طورپر یاد کیا جاتاہے جس نے اداکاراؤں کی تعریفیں بدل کر رکھ دی۔وہ پہلی ہندوستانی ہیروئن ہیں جنھیں اپنے بولڈ کرداروں کی وجہ سے شہرت ملی۔ انھوں نے فلم بینوں کے ذہنوں میں روایتی فلمی عورت کے کردار کا تصور ہی بدل کر رکھ دیاتھا۔ ان سے قبل فلموں کی عورت روایات میں لپٹی ، انتہائی مجبور اور فرمانبردار سمجھی جاتی تھی۔
زینت نے جب فلموں میں قدم رکھا تب زیادہ تراداکارائیں ہندوستانی ’لک‘ میں نظر آتی تھیں، لیکن زینت نے ویسٹرن لک میں اپنے آپ کو پیش کرکے دھماکہ کردیا۔

 

 

 

 

زینت امان نے ایسے متعدد کردار ادا کئے جو اس سے قبل اس دور کی ہیروئنیں اداکرتے ہوئی گھبراتی تھیں۔ زینت امان نے راج کپور کی فلم ’’ستیم شیوم سندرم‘‘ میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اس فلم نے فلم بینوں کے ذہنوں پر جو تاثر چھوڑا وہ فلم کی اصل کہانی سے یکسر مختلف تھا، یعنی یہ فلم عورت کے اندرونی حسن پر مبنی تھی لیکن اس فلم پر زینت امان کی جنسی کشش غالب آگئی۔ یہ فلم زینت امان کی مختصر ترین ساڑھیوں اور ان کے ساتھی اداکار ششی کپور کے ساتھ بوس و کنار کے مناظر کی وجہ سے خبروں کا حصہ بن گئی لیکن زینت امان نے اپنی رجحان ساز طبیعت کے تحت فلم میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔
بولڈنیس کوبھی زینت نے نئی تعریف دی۔کیمرے کے سامنے ہچک، جھجھک توڑ کروہ بنداس طریقے سے پیش آئیں اوریہی وجہ ہے کہ ان کے فینس نے سیکس سمبل کے خطاب سے زینت کو نوازا۔
زینت امان کی والدہ ہندو جبکہ والد مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ امان اللہ خان اسکرپٹ رائٹر تھے اوربطور معاون انہو ں نے ’مغل اعظم‘ اور ’پاکیزہ‘ جیسی فلموں کی اسکرپٹ لکھی۔وہ امان نام سے لکھتے تھے۔ زینت بہت چھوٹی تھیں کہ ان کے والدین میں علیحدگی ہوگئی ۔زینت جب 13سال کی تھیں تب ان کے سرسے والد کا سایہ ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا تو زینت نے اپنے نام میں والد کا نام جوڑ لیا اوروہ زینت خان سے زینت امان بن گئیں۔
زینت کی ماں نے ہینز نامی جرمنی شخص سے دوسری شادی کرلی اوروہ اپنے ساتھ زینت کوبھی جرمنی لے گئیں۔وہاں سے وہ لاس اینجلس پڑھائی کرنے گئیں، لیکن 18سال کی ہونے پرپڑھائی ادھوری چھوڑ کر زینت ہندوستان میں کریئربنانے کیلئے آئیں۔فلم اداکار رضا مراد کی زینت کزن ہیں۔
زینت نے بطور جرنلسٹ ’فیمنا‘ میں کام کیا اوربعد میں ماڈلنگ کی طرف رخ کیا۔ تاج محل چائے کیلئے انہو ں نے ماڈلنگ کی۔زینت نے مس انڈیا تقریب میں حصہ لیا اور سکینڈرنراپ رہی۔ زینت نے فلم انڈسٹری میں اپنا راستہ 1970 کی’’ مس ایشیا پیسفک‘‘ کا ٹائٹل جیتنے کے بعد کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
زینت کواوپی رلہن نے فلموں میں پہلی بار موقع دیا ۔’ہلچل‘ (1971) ان کی پہلی فلم ہے۔انھوں نے او پی رہلن کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم’’ ہلچل ‘‘سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا لیکن یہ فلم فلاپ ہوگئی۔ اس کے بعد اوپی رہلن ہی کی دوسری فلم ’’ہنگامہ‘‘ میں انہوں نے کام کیا لیکن اتفاق سے یہ فلم بھی بری طرح ناکام ہوگئی۔

 

 

 

ہلچل اورہنگامہ(1971)کے پٹنے کے بعد زینت نے جرمنی اپنی ماں کے پاس لوٹنے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اس بیچ انہیں بالی ووڈ کے سپراسٹار دیو آنند نے ’ہرے راما ہرے کرشنا‘ آفر کیا جو1971میں ریلیزہوئی۔’ہرے راما ہرے کرشنا‘ کیلئے زینت پہلی پسند نہیں تھی۔ پہلے زینت والا رول زاہدہ کوآفر ہواتھا، لیکن وہ دیو آنند کی بہن کے بجائے ان کی معشوقہ بننا چاہتی تھیں، لہٰذا انہوں نے فلم چھوڑ دی اوردیو آنند نے زینت کو منتخب کرلیا۔
’ہرے راما ہرے کرشنا‘ میں زینت نے اپنے آپ کو ویسٹرن اسٹائل میں اس طرح پیش کیا کہ وہ کروڑوں مداحوں کے دل کی دھڑکن بن گئیں۔ان پر فلمایاگیا گیت’دم مارودم‘ آج بھی ہرکسی کوپسند آتاہے۔زینت امان کو اس فلم میں بہترین پرفارمنس کے لئے فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
زینت امان کودیوآنند بہت زیادہ پسندکرتے تھے۔ زینت کے ساتھ انہوں نے ہیراپنا، عشق عشق عشق، پریم شاستر، وارنٹ ، ڈارلنگ ڈارلنگ اورقلع باز جیسی فلمیں کی۔ برسوں بعد دیو آنند نے قبول کیا تھا کہ وہ زینت امان کوچاہنے لگے تھے۔’یادوں کی بارات‘ (1973) کی کامیابی کے بعد زینت امان اسٹار بن گئیں۔ اس فلم میں ’ چرالیاہے تم نے جو دل کو‘ گانا زینت پر فلمایاگیا اوروہ نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن گئیں۔
ویسٹرن لک، ہاٹ انداز اورکپڑے پہننے میں کنجوسی کے باعث زینت امان میگزین کی پسندیدہ اداکارہ بن گئیں۔ کئی میگزین کے کورکو انہوں نے زینت بخشی اوراسی وجہ سے انہیں ’کور گرل‘ کہا جانے لگا۔

 

 

 

زنیت امان کوکبھی اچھی اداکارہ نہیں ماناگیا، اس کے باوجود انہوں نے اس دور کے نامی فلم میکر دیو آنند، راج کپور، بی آر چوپڑا، فیروزخان، پرکا ش مہرا، منوج کمار، منموہن دیسائی، راج کھوسلہ وغیرہ کے ساتھ کام کیا۔زینت نے اپنے دورکے نامی اسٹارس امیتابھ بچن ، دھرمیندر، جتیندر، دیوآنند ، راجیش کھنہ کے ساتھ فلمیں کی۔
زینت امان نے کئی فلمیں ایسی بھی کی جن میں انہیں محض سیکس اپیل بڑھانے کیلئے لیاگیا۔کسی ہیروئن کے بولڈ انداز کودیکھ کر اسے زینت امان کہا جاتاہے۔ جیسے پروین بابی کو’غریبوں کی زینت امان‘، ساریکا کو’زینت امان 2‘ ، پدمنی کولہاپورے کو’بے بی زینت‘ اوربپاشا باسو کو’ نیو ایج زینت‘ کہاگیا۔ویسے موجودہ دورمیں بالی ووڈ میں بولڈنیس اداکاراؤں کی کمی نہیں ہے۔

 

 

 

زنیت امان نے 1985میں مظہر خان سے شادی کرکے مرد مداحوں کا دل توڑدیا۔1998میں مظہر خان کی موت ہوگئی۔اذہان اورذہان نام کے دوبیٹے ہیں۔زینت امان سلور اسکرین کی طرف لوٹ آئیں اور ’’بھوپال ایکسپریس‘‘ اور ’’بوم‘‘ جیسی فلموں میں کام کیا، جو مشکل ہی سے فلم بینوں کے ذہنوں پر اپنا تاثر قائم کرسکیں۔ آج زینت امان ایک خاموش زندگی گزار رہی ہیں اور کبھی کبھار کسی ایوارڈشو یا کسی تقریب میں نظر آجاتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *