کیا آپ بھی اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں

work
ہرشخص روزی روٹی اوربہترزندگی گزارنے کیلئے دفتروں ،کھیتوں اوردیگرشعبوں میں کام کرتاہے۔اکثرلوگ 8گھنٹے کام کرتے ہیں۔لیکن کہیں کہیں لوگ 8گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں یعنی 9،10اور11سے زیادہ کام کرتے ہیں۔یامذکورہ اوقات سے کم بھی کرتے ہیں۔ آٹھ گھنٹے کام کرنے سے توزیادہ پروبلم نہیں ہے لیکن اس سے زیادہ کام کرنے سے بہت سارے پرابلمزہیں۔لیکن کچھ لوگ آٹھ گھنٹے میں بھی زیادہ پریشرمیں کام کرتے ہیں یا کام کا دباؤ رہتاہے۔اسلئے آٹھ میں بھی لوگ دباؤ میں کام کرنے سے ڈپریشن اورتناؤ شکارہوجاتے ہیں۔ویسے جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہورہا ہے، و یسے ویسے کنبہ میں افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کھانے کے ذمہ دار افراد کو کمانے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔جس کا نتیجہ بعض اوقات دو دو شفٹوں میں کام کرنے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں رات کی شفٹ میں کام کرنے کا رواج ابھی اتنا زیادہ نہیں ہوا، لیکن بڑے شہروں میں یہ معمول کی بات ہے۔
ایک تازہ تحقیق کے مطابق رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کے نیند کے اوقات میں بے قاعدگی کی وجہ سے ان میں ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق جب نیند کے عام اوقات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم کو شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اس تحقیق میں شامل کئی لوگوں میں تو کچھ ہفتوں کے اندر ہی زیابیطس کی علامات نظر آنے لگیں۔ رات کی شفٹ میں کام کرنا صحت سے متعلق دیگر مسائل کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
دنیا بھر کے دفاتر میں عالمی اصولوں کے مطابق 8 گھنٹے کام کرنا ضروری ہے تاہم کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین سے 8 کے بجائے 9 گھنٹے کام لیتے ہیں۔کیا آپ کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے جو دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرتے ہیں؟ تو پھر دیکھیں کہ آپ کن خطرناک طبی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ایک امریکی ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد پر مندرجہ ذیل منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔
دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرنے والے 66 فیصد افراد اپنی زندگی کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کے مسائل کے بارے میں بات کر سکیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 57 فیصد ملازمین 9 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد جذباتی طور پر سرد ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے دن کا بیشتر حصہ ٹیکنالوجی کی اشیا کے ساتھ گزرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان میں مختلف احساسات و جذبات جیسے خوشی، غم، دکھ، پرجوشی وغیرہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد کام کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ وہ زندگی میں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہتے۔دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرنے والے 42 فیصد ملازمین ہر وقت بلا سبب ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔
اگر آپ بھی اپنے دفتر میں 9 گھنٹے کام کرتے ہیں تو جان جائیں کہ آپ کام کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اسی طرح نائٹ شفٹ میں کا کرنے والے افراد میں موٹاپے،ذہنی تناؤ اور ڈپریشن سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *