اب سچ-جھوٹ اورترقی-تباہی کا فرق مٹ گیاہے

میں حال ہی میں کماؤ علاقے کے دورے پرگیاتھا۔ وہاں مجھے فوج سے ریٹائرڈہوئے 72سال کے ایک شخص سے بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ ان کے سوالوں نے دماغ کو جھنجھنا دیا۔اس شخص نے کہا، ’ اب لگتاہے سچ مچ ہندوستان بدل گیاہے، ہندوستان کے لوگ بدل گئے ہیں۔ ہم پہلے سنتے تھے کہ پیڑھیوں میں فرق ہوتاہے، جسے ہم لوگ جنریشن گیپ کہتے ہیں۔پہلے یقین نہیں ہوتاتھاکہ پیڑھیوں میں اتنازیادہ فرق ہوگا‘۔میں ان کی بات سمجھ نہیں پایا۔ میں نے پوچھا کہ ان ساری باتوں کا مطلب کیاہے اورآپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں، توانہوں نے کہاکہ کیا ہم بھول گئے ہیںکہ ہمارے ہی بزرگوں نے آزادی کی لڑائی میں لاٹھیاں کھائی تھیں، جیل گئے تھے، گولی کھائی تھی؟یا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہم میں سے کسی کے خاندان کے لوگوں نے پھانسی پرلٹک کراپنی جان دی تھی؟یا ہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ہمارے ہی بیچ کے لوگوں نے آزادہندفوج میں کام کیاتھا؟ میں سمجھ نہیں پایا کہ ایک سپاہی جوفوج میں 30-25سال نوکری کرکے ریٹائرہوا اور جس کی عمر 72-73سال ہے، وہ اتنے غصے میں کیوں ہے۔
میں نے ان سے کچھ دیر اوربات چیت کی، تب مجھے پتہ چلاکہ ہمارے سب سے بڑے ہتھیار ٹیلی ویژن نے اس ملک کے گاؤں گاؤں تک لوگوں کے پاس جس طرح کی جانکاریاں پہنچانے کاکام کیاہے، وہ ایک طرف لوگوں کو ایک ذہنیت میں لے گئی ہیں، وہیں دوسری طرف حساس لوگوں کو دوسری ذہنیت کی طرف لے گئی ہیں۔ہم اورہمارا ملک اس کا فرق نہیں کرتا کہ سچ کیاہے اورجھوٹ کیاہے۔پہلے یہ صاف تھاکہ یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے۔لیکن جب سے سوشل میڈیا نے راکشش اورشیطان کے طورپر ہمارے دماغ پرقبضہ کیاہے، تب سے سچ اورجھوٹ کا فرق مٹ گیاہے، بلکہ اب تویہ ہوگیاہے کہ جھوٹ ہی سچ ہے۔پہلے ہم سوچتے تھے کہ پہلا حملہ معیشت پر ہے، لیکن نہیں ، پہلا حملہ ہمارے سوچنے کے پورے طریقے پر ہے۔اب ہم خودہی فوج ہیں، خودہی مجرم ہیں، خودہی وکیل ہیں، خودہی سپریم کورٹ ہیں، فیصلہ دیکر سزادینے والے جلاد بھی ہیں۔

 

 

 

 

ا س شخص کی باتوں کولیکر سوچتے ہوئے مجھے یہی لگاکہ اب اگرسپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیتاہے، تواسے نہ ماننے کے پیچھے ہمارا ایک آدھارہے، کیونکہ ہمارے من کے یقین کو اس سے چوٹ پہنچتی ہے۔ سپریم کورٹ نے وہ فیصلہ دے دیا، جوہمارے من کے موافق نہیں ہے۔مثال کے طورپر ہم حال کے دوواقعات کولے سکتے ہیں۔سبریمالا مندر معاملے میں بی جے پی نے کھلے عام سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسٹینڈ لیا، وہیں دیوالی میں پٹاخے بجانے کے وقت کے تعین کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کی بھی بی جے پی لیڈروں نے سرعام خلاف ورزی کی۔ایسے واقعات سیدھے طورپر دکھاتے ہیں کہ ہم افراتفری سماج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہم سوچنے لگے کہ وہ شخص جسے ہم بہت پڑھا-لکھا نہیں مانتے، وہ یہ بات سمجھ رہاہے کہ پیڑھیوں کے بدلاؤ کا مطلب تخلیق سے زوال کی طرف جانانہیں ہوتا، لیکن ہم تو زوال کی طرف جارہے ہیں۔تب ہمارے سامنے راستہ کیا رہ جاتاہے، جب زوال کی طرف لے جانے کیلئے بھی وہ ہی لوگ قیادت کریں، جنہیں ہم تخلیق کی طرف لے جانے یا کلی طورپر بدلاؤ کرنے کی ذمہ داری دیتے ہیں۔ ہمارے جتنے اہم ادارے تھے، چاہے الیکشن کمیشن ہو، سی بی آئی ہو، ریزروبینک ہو یاپارلیمنٹ کی کمیٹیاں ہوں،ان سب کے اندرگھن پیدا ہوگیاہے اوروہ گھن کسی اورنے پیدانہیں کیا، اسے ہماری ہی قیادت نے پیدا کیا، ہمارے ہی رہنماؤں نے پیداکیاہے۔اس گھن کواگرہم ترقی کی نشانی مان لیں، توپھرترقی اورتباہی کا فرق ختم ہوگیانا۔پیڑھیوں کے فرق سے شاید اس شخص کا مطلب یہی تھا کہ اب ایسی ہی پیڑھی ہے، جوتباہی کوترقی مان رہی ہے۔تبھی اسے یہ پتہ چلتاہے کہ ہمارے ملک میں اتنا دھن آیاکہ ساڑھے چارسال میں ہم جنت ہوگئے، لیکن ہماری کمپنیاں دیوالیہ ہونے والی ہیں۔اس کا اعلان خودوزیرخزانہ کرتے ہیں۔ریزروبینک کے پاس تقریباً دس لاکھ کروڑروپے ہیں۔اس میں سے ساڑے تین لاکھ کروڑ روپے اب سرکاراپنے لئے چاہتی ہے تاکہ وہ یہ پیسہ کمزورنظام معیشت میں ڈال سکے۔سوال یہ بھی ہے کہ ساڑھے چار سال کی ترقی کے دعوے کے بعدبھی معیشت کمزورکیوں ہوگئی؟اس کیلئے سرکارایک ایمرجنسی دفعہ کا استعمال کرتی ہے اورریزرو بینک سے یہ پیسہ لے لیتی ہے۔یعنی کہ اب ریزروبینک کے 10لاکھ کروڑ میں سے ساڑھے تین لاکھ کروڑروپے سرکاروہاں ڈال رہی ہے جہاں سے یہ پیسہ کچھ لوگوں کی جیب میں چلاجائے گا۔تب کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ ہمارا ملک افریقی ملکوں کے نظام معیشت کے برابر ہونے جارہاہے؟خیر ، سوالو ں کی فہرست بہت لمبی ہے، لیکن جب ان سوالو ں کواٹھاتے ہیں اوراس پر سوشل میڈیا کا رد عمل دیکھتے ہیں، تووہ ردعمل بتاتے ہیں کہ ایسے سوال اٹھانے والے ہی کم دماغ کے ہیں، یا ملک کو آگے نہ لے جانے کے ذمہ دار ہیں۔کچھ بھی ہو، ہم سارے سوالوں کو ہندو-مسلم کی کسوٹی پرکس دیں۔
ترقی ہوگی، ندی بہے گی، سورج کی روشنی آئے گی تواس کافائدہ اس ملک کے سبھی لوگوں کوہوگا۔لیکن کیا ایک طبقہ کوفائدہ نہ ہواس کیلئے ترقی نہیں ہوگی۔اب پریشانی یہ ہے کہ ہم جانتے سمجھتے اگر ہمارے پاس ذرا بھی دماغ ہے، ہم اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں کہ عوامی طورسے کیا سچ بولا جارہاہے ،کیا جھوٹ بولاجارہاہے۔لیکن اگروہ ایک ایسی سمت کاسچ ہے جوجھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے اورہم اسی کوسچ بتارہے ہیں توسچ مچ مان لینا چاہئے کہ صرف پیڑھیوں کا فرق ہی نہیں ہوا بلکہ پوری کی پوری پیڑھی بدل گئی ہے۔جولوگ آزادی کی لڑائی لڑے تھے، جنہوں نے آزادی کے بعد خوشحالی کا سپنادیکھا تھا، و ہ سارے لوگ شاید ذہین نہیں تھے، وہ اتنے زیادہ پرجوش تھے جنہیں ہم عظیم بے وقوف کالفظ آج دے سکتے ہیں۔کیونکہ آج ان کے خوابوں کا، ان کی لڑائی کا، ان کی قربانیوں کی کوئی قیمت آج کی نسل کے سامنے نہیں ہے۔

 

 

 

 

پہلے میں سوشل میڈیا پران وائس کلپس کوبڑے اہتمام سے سنتا تھا جن وائس کلپس میں میں یہ بتایاجاتاتھا کہ سشماجی، ارون جیٹلی جی، راجناتھ جی اورخود وزیراعظم جی ساڑھے چارسا ل پہلے ہر مسائل سے پہلے کیاکیا کہتے تھے اورمجھے لگتا تھا کہ وہ خود جب انہیں سنیں گے ، توانہیں تھوڑی جھجھک ہوگی اوروہ اپنے کوسدھارنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب جب وہ کلپ سوشل میڈیاپر پڑھنے کوملتی ہے تومیں اسے ایک پل میں ڈیلیٹ کردیتا ہوں۔ کیونکہ مجھے لگتاہے کہ نہیں، شاید سہی وہ ہے جوآج ہورہاہے۔ سہی وہ نہیں ہے جواس وقت انہوں نے کہاتھا۔ اس وقت انہوں نے جوکہاتھا کہ وہ شاید ہمیں بیوقوف بنانے کیلئے کہنا ضروری تھا۔ آج جووہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس ملک کو تباہ کرنے کیلئے ضروری ہے۔ توسچ یہی ہے جوآج ہورہاہے اورفکرتب ہوتی ہے جب پورا سماج اوروہ سماج جوسوشل میڈیا پرہمیں دکھائی دیتاہے، سماج وہ جواخباروں میں ہمیں دکھائی دیتاہے، سماج وہ جو ٹیلی ویژن کی بحثوں میں دکھائی دیتاہے۔ ہمیں لگتاہے کہ یہ سماج ہی سہی ہے۔کماؤ علاقے کے اس ریٹائرڈ سپاہی جیسے لوگ چاہے کتنی بھی فکرکریں، سچ کوچاہے جتنا پکڑنا چاہے وہ غلط ہے۔سچائی یہ ہے جوآج ہورہی ہے۔اورتب ہمیں لگتاہے کہ آگے آنے والاالیکشن سچ مچ ایک ایساالیکشن ہوگا جوسارے پرانی شخصیات کے ایک واقعہ کی سچائی کوسامنے لا دے گا۔
جتنے پرانے شخصیات ہیں، ریشی ہیں، مونی ہیں، کارل مارکس جیسے دانشورتھے، یہاں تک کہ دین دیال اپادھیائے تھے ان سب کا یہ ماننا تھاکہ عوام فارمولہ ہے، عوام کے پاس سمجھنے کی طاقت ہے، عوام ہرچیزکا صحیح فیصلہ کرتی ہے۔اسی کا فیصلہ ہونا ہے کہ یہ فارمولا واقعی سہی تھا یا غلط تھا۔عوام کی سمجھ میں کچھ آرہاہے یانہیں آرہاہے۔ اورتب یہ سمجھ میں آتاہے کہ سچائی تووہ بھی تھی جب اس دنیا کے ایک سمجھدارآدمی نے کہا اگر جھوٹ کو سوبار دہراؤ تو وہ سچ مان لیاجاتاہے ۔ اس عظیم شخص کا نام گوبیلس تھا۔ توکیا آج ہمارا سماج اسی اصول کے اوپرچل رہاہے۔اسی کا فیصلہ اس الیکشن میں ہونا ہے۔ اور اگراس الیکشن میں فیصلہ ہوتاہے توتبھی پتہ چلے گا کہ ہماری نسل ، ہماراسماج ترقی کی طرف جارہاہے یا تباہی کی طرف ۔میں ترقی اورتباہی کے معنی ومطلب کی بات کررہاہوں۔ آج کی بات نہیں کر رہاہوں۔
اخیرمیں ایک کہانی سنا کر اپنی بات ختم کرتاہوں۔ایک چھوٹاساطالب علم اپنے کلاس میں گیا اورتھوڑا خوش تھا اوراس نے کہاکہ ماسٹر جی آج میری بکری نے انڈا دیاہے۔ماسٹرجی نے گھورکر دیکھا ۔ اس نے پھر کہاکہ ماسٹرجی آج میری بکری نے دوانڈے دیئے ہیں۔ماسٹرجی نے پوچھا کہ پاگل ہوگئے ہو،بکری کہیں انڈادیتی ہے۔ انڈا تومرغی دیتی ہے۔اس بچے نے کہا، ماسٹر جی میں نے اپنی مرغی کا نام بکری رکھا ہے۔کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ اورتب میں سوچنے لگا کہ آج بہت کچھ ایسا ہی ہورہاہے۔ اورسوچ سمجھ کر ، جان بوجھ کر ہورہاہے۔ اسی کا فیصلہ ہونا ہے کہ ہماری سرکار ، ہمارا سماج جوکر رہاہے اوراس کا اس نے سہی نام دیاہے یانام بدل کر وہ لوگوں کے دماغ سے کھیل رہے ہیں۔اورجولوگ ایسا کررہے ہیں اس کے پیچھے اسی ملک کے لوگ ہیں یا باہر کے کچھ دماغ ہیں جوساری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کا ایجنڈا بناکر ہندوستان کے دماغ کو آلودہ کررہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *