بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات شیخ حسینہ کے آمنے سامنے کمال حسین

بنگلہ دیش میں سال رواں کے اواخر میں عام انتخابات متوقع ہیں۔گذشتہ انتخابات 5جنوری 2014کوہوئے تھے۔تب دوسری بار عوامی لیگ قیادت والا 14پارٹیوں والا محاذ جیت کر اقتدار میں آگیا تھا۔ اس وقت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ یہی کام اس کی حلیف سیاسی پارٹیوں نے کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عوامی لیگ تیسری بار بھی حکومت بنالے گی؟
اس سوال کا جواب تو اس وقت مشکل ہے۔ مگر فی الوقت وہاں جوصورتحال ہے، وہ یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن بی این پی اس لحاظ سے پریشانی اور آزمائش میں ہے کہ اس کی 73سالہ سربراہ خالدہ ضیاء جوکہ ملک کی تین بار وزیراعظم رہ چکی ہیں، 8فروری 2018سے ایک گرافٹ مقدمہ میں ڈھاکہ کی ایک نچلی عدالت کے ذریعے کنویکٹ قرار دیئے جانے کے بعد 5برس کیلئے جیل میں ہیں۔ دوسری طرف جلاوطنی میں لندن میں رہ رہے ان کے بیٹے طارق رحمان کو بھی ابھی حال میں عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔انہیں یہ سزا 2004میں گرینیڈ سے عوامی لیگ رہنما اور موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ریلی پر حملہ کے الزام میں دی گئی ہے اوراسی کے ساتھ ساتھ 19افراد کو سزائے موت اور دیگر 19کو سزائے عمرقید ہوئی ہے۔سزائے موت سنائے جانے والوں میں بی این پی کے سابق وزیرمملکت برائے داخلہ لطف الزماں بابربھی شامل ہیں۔عیاں رہے کہ 2004کے مذکورہ سانحہ میں 24افراد ہلاک اور500مجروح ہوئے تھے۔
اس طرح یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جیل میں بیمار چل رہی خالدہ ضیاء اور لندن میں جلاوطنی میںرہ رہے ان کے بیٹے طارق رحمان کے خلاف عمرقید کی سزا سنائے جانے کے بعد بی این پی ان آئندہ انتخابات میں کیسے کوئی اہم کردار اداکرپائے گی؟
بہرحال سیاست توسیاست ہوتی ہے، کب حالات کیا رخ لے لیں، کسی کو پتہ نہیں ہوتاہے؟بی این پی قیادت کی اس کمزور حالت میں اچانک ایک اورواقعہ رونماہوتاہے۔ وہ یہ ہے کہ اچانک عوامی لیگ کے سابق بزرگ رہنما اوربنگلہ دیش کے آئین کی سازی میں اہم کردار اداکرنے والے 82سالہ ڈاکٹر کمال حسین اپوزیشن کے منظر نامے پرابھرتے ہیں اورتین دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرکے جاتیہ اوکیہ فرنٹ کے قائد قرار دیئے جاتے ہیں۔پھر 20پارٹیوں کی قیادت کررہی آزمائش میں مبتلا بی این پی فوراً ہی ڈاکٹر کمال حسین کی قیادت والے 4پارٹیوں کے نئے اپوزیشن اتحاد کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کردیتی ہے۔

 

 

 

دسمبر میں متوقع عام انتخابات سے قبل بنگلہ دیش میں پیداہوئی یہ نئی سیاسی صورتحال بہت ہی دلچسپ ہے۔ ایک طرف برسراقتدار شیخ حسینہ کی سربراہی میں عوامی لیگ قیادت والا 14سیاسی پارٹیوں کا محاذ ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل ایچ ایم ارشاد کی پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور دوسری طرف بنگلہ دیش کے ’بنگ پیتا‘ ( بابائے قوم) شیخ مجیب الرحمن کے نہایت قریب رہے اورسیاسی پارٹی گن فورم کے صدر ڈاکٹر کمال حسین کی سربراہی میں چار اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ہے جسے 20اپوزیشن پارٹیوں کے اپوزیشن ایلائنس کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر کمال حسین کے میدان عمل میں کود نے سے انتخابی سرگرمیوں میں دلچسپی تو بہت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ ان کی بنگلہ دیش میں انفرادی حیثیت معروف ہے۔ یہ شیخ مجیب کے ساتھ 1971کے اوائل میں گرفتار ہوئے اور پھر بنگلہ دیش کے لبریشن کے بعد پاکستان کی جیل سے ایک ساتھ رہا ہوکر لندن گئے اور وطن واپس لوٹ کر 1972-73میں وزیر قانون کے طور پر ملک کے آئین کوبنانے میں اہم کردار اداکیا۔پھر 1973-75میں وزیرخارجہ رہے۔ 1990کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی گن فورم بنالی۔ اس طرح اباس بات کا امکان پیدا ہوگیاہے کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ شیخ حسینہ کا ڈاکٹر کمال حسین سے ہوگا اور دونوں طرف دونوں کی حمایتی پارٹیاں ہوں گی۔

 

 

 

بنگلہ دیش حال میں گئے حکومت بنگلہ دیش کی دعوت پر تقریباً 50صحافیوں پر مشتمل ایک عالمی میڈیا وفد کے ایک جزکے طورپر راقم الحروف کو2تا8اکتوبر سفرکے دوران 47سالہ ملک کی سیاسی، سماجی ، اقتصادی اوردیگر ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے پارلیمنٹ اسپیکر شیرین شرمین، وزیراعظم شیخ حسینہ کے سیاسی مشیر اور سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے 79سالہ بزرگ سیاست داں حسین توفیق امام، وزیراطلاعات حسن الحق اینو اوروزیرخارجہ ابوالحسن محمود علی سے ہوئے میڈیا انٹریکشن کے دوران براہ راست مجموعی صورتحال کوسمجھنے کے مواقع ملے۔ نیز ڈھاکہ کے مقامی میڈیا کے صحافیوں اور وہاں کے میڈیا کے ذریعے بھی ڈھیر ساری معلومات ملیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 47سالہ نئی مملکت نے مختلف شعبوں میں ترقی کی جانب قدم بڑھایاہے۔ آنند گروپ کے چیئرمین اورایسوسی ایشن آف ایکسپورٹ اوریئنٹیڈ شپ بلڈنگ انڈسٹریز کے صدر عبداللہ الباری سے بھی بات چیت رہی۔نیز بنگلہ دیش کی دوسری سب سے بڑی دوا کمپنی ’انسیپٹا‘ بھی جانا ہوا اور اس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اے اے سلیم برامی سے ملنا ہوا۔ اسی دوران دومعروف تھنک ٹینکس بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز ( بی آئی آئی ایس ایس) کے چیئرمین ایمبیسڈر منشی فیض احمد اور انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ لاء ڈولپ منٹ اسٹڈیز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میجر جنرل محمد عبدالرشید نے بھی ملک کی مجموعی صورتحال سے واقف کرایا۔
سیاسی طور پر مستقبل میں کیا صورتحال رہے گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا مگر اتنا ضرور ہے کہ ڈاکٹر کمال حسین کے سیاسی میدان عمل میں آجانے سے سیاسی سرگرمیوں میں گرمی پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ ان کے آنے سے آزمائش میں پڑی بی این پی اوراس کے 20پارٹیوں والے اتحاد کو بھی سہارا ملنے کا امکان پیدا ہوگیاہے۔ بعض عالمی مبصرین تو ڈاکٹر کمال حسین کو اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں جس میں ملیشیاء میں بزرگ لیڈر مہاتیر محمد کو نئی سیاسی زندگی ملی اوروہ پھر سے ملک کے وزیراعظم بن گئے۔بہرحال یہ سب تو سیاسی ڈیولپمنٹ ہے۔ جہاں تک شیخ حسینہ کی بات ہے انہوں نے مستقل دس برسوں سے اپنے انداز سے حکومت کرکے شیخ مجیب اوران کی عوامی لیگ کو پھر سے زندہ کیاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *