مدھیہ پردیش انتخابات شیو راج کو ’اینٹی انکمبنسی ‘ کا مقابلہ

گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے مدھیہ پردیش میں بی جے پی سرکار چلا رہی ہے۔ اتنے لمبے وقت تک اقتدار میں رہنے کی وجہ سے حکومت مخالف لہر کا ہونا فطری ہے۔ پارٹی کی طرف سے کرائے گئے اندرونی سروے اور تازہ اوپنین پول بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسے اپوزیشن کانگریس سے بھی سخت چیلنج مل رہا ہے۔ ان سب کی وجہ سے اس بار مدھیہ پردیش میں بی جے پی کا انتخابی حساب و کتاب بگڑا ہوا لگ رہا ہے۔ ایسے میں اینٹی انکمبنسی سے نمٹنے کے لئے بی جے پی اپنے پچھلے15 سالوں کی مدت حکومت کا حساب دینے کے بجائے ریاست کے ’وکاس ‘ کے لئے عوام سے سجھائو مانگ رہی ہے اور اپوزیشن کانگریس کو اس کے 15 سال پہلے حکومت کے لئے کوس رہی ہے۔ ظاہر ہے شیو راج سرکار خود کو اپنے کاموں کا حساب دینے سے بچنا چاہتی ہے اور اس کی پالیسی سوالوں کے رخ کو اپوزیشن کی طرف موڑ نے کی ہے۔ اس کے لئے نت نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں، ’خوشحال مدھیہ پردیش‘ اس کڑی کا نیا شگوفہ ہے۔
نئے شگوفے کا اثر؟
مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے سامنے اینٹی انکمبنسی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں اس پر کچھ نیا کرنے کا دبائو ہے۔ بی جے پی سیاسی مہمات اور یاترائوں کے لئے تو پہلے سے ہی جانی جاتی تھی لیکن ادھر وہ انتخابی جملوں ، نعروں اور گرینڈ ایونٹوں میں بھی ماہر ہو گئی ہے۔ انتخابی سال کے دوران مدھیہ پردیش میں بی جے پی اپنی اسی خصوصیت کا بھرپور مظاہرہ کررہی ہے جس سے انتخابی ماحول اور رجحان کو بدلا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے قریب ڈھائی مہینے کے ’جن آشرواد یاترا‘ کے بعد اب ’’بھوِش کا سندیش، خوشحال مدھیہ پردیش ‘‘ مشن کی شروعات کی ہے۔ 21اکتوبر سے شروع کئے گئے اس مشن کے تحت بی جے پی ریاست کے عوام سے نئے آئیڈیا مانگ رہی ہے جس سے ریاست کی خوشحالی کا روڈ میپ بنایا جاسکے۔ 5 نومبر تک چلنے والے اس مشن کی شروعات کرتے ہوئے وزیر علیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ریاست کی خوشحالی کا روڈ میپ میں اکیلا نہیں ساڑھے سات کروڑ لوگ مل کر بنائیںگے۔اس دوران عوام سے جو بھی اچھے سجھائو ملیں گے، ان کی بنیاد پر ہم روڈ میپ تیار کریں گے اور اگلے 5 سالوں میں ریاست کو خوشحال مدھیہ پردیش بنائیں گے۔
بی جے پی کے ذریعہ خوشحال مدھیہ پردیش کو لے کر اخباروں میں دیئے گئے اشتہارات میں کچھ اسی طرح کا فارمولہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مشن کو تاریخی پہل بتاتے ہوئے بی جے پی کے ذریعہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پچھلے 15 برسوں کے دوران وہ مدھیہ پردیش کو بیمارو سے، جوجھارو سے سوچارو بنانے میں کامیاب رہے ہیں ،اب اسے عوام کے تعاون سے خوشحال بنانا ہے۔
خوشحال مدھیہ پردیش کے لئے 50ڈیجیٹل رتھ تیار کئے گئے ہیں جو کہ ایل ای ڈی اسکرین ، سائونڈ سسٹم اور دیگر آلات سے لیس ہیں۔یہ ڈیجیٹل رتھ ریاست کے سبھی 230 اسمبلی حلقوں میں پہنچ کر عوام کو سجھائو دینے کے لئے متوجہ کررہے ہیں ،ساتھ ہی اس کے ذریعہ بی جے پی کے 15 سالہ حکومت کے دوران کی گئی ترقی کے کاموں کی تشہیر بھی کی جا رہی ہے جس کے تحت شیو راج سنگھ چوہان سرکار کی حصولیابیوں ، اسکیموں کو گناتے ہوئے اس کا موازنہ دگ وجے سنگھ کی حکومت سے کیا جارہا ہے۔
دراصل یہ ایک سرکاری مشن تھا جسے شیو راج سرکار کے ذریعہ’ ضابطہ اخلاق‘ لاگو ہونے سے ٹھیک پہلے ’فیوچر ایم پی ٹاسک فورس‘ نام سے چلایا جارہا تھا جس کا پنچ لائن تھا’آئیڈیا میں ہودم ، تو پورا کریں گے ہم ‘۔ اس کو لے کر’ فیو چر ایم پی ٹاسک فورس ‘کے ذریعہ سرکاری خرچ پر بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کرکے آئیڈیاز مانگے گئے تھے۔’ ضابطہ اخلاق ‘ لاگو ہونے کے کچھ ہی ہفتوں پہلے شروع کئے گئے’ فیو چر ایم پی ٹاسک فورس‘ کے بارے میں اس کے ویب سائٹ پر جو جانکاری دی گئی ہے، اس کے مطابق ’فیو چر ایم پی ٹاسک فورس‘ کی تشکیل ایک ایسی کمیٹی کی شکل میں کی جارہی ہے جو مستقبل کا روڈ میپ کیسا ہو، اس پر کام کرے گی ۔ اس ٹاسک فورس میں ایک ایگزیکٹیو بنے گا جس میں سرکار کے اہم محکموں کے لوگ شامل ہوں گے اور ایک صلاح کار کونسل ہوگی جس میں ملک کے اندر مختلف علاقوں میں کام کرنے والے ماہرین شامل کئے جائیںگے۔یہ سب مل کر ساتھ میں غور کرنے کے بعد نشان زد کئے گئے سیکٹروں میں وکاس کے لئے لازمی وسائل کی کھوج کر کے ان کو نافذ کریں گے جو مدھیہ پردیش کو نئی اونچائی تک پہنچانے میںمدد کریں۔

 

 

 

 

سرکار الزامات کے سائے میں
ظاہر ہے یہ ایک سرکاری پروگرام تھا جس کا صرف نام بدل کر بی جے پی اپنے انتخابی مشن کی شکل میں استعمال کر رہی ہے۔ شیو راج سنگھ سرکار پر ہمیشہ سے ہی سرکاری خزانے کے بے جا استعمال کا الزام لگتا رہا ہے لیکن اس بار جس طرح سے سرکاری مشینری اور وسائل کا استعمال کیا جارہاہے ،اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔اس سے ٹھیک پہلے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے ذریعہ نکالے جارہے ’جن آشرواد یاترا‘ میں بھی سرکاری پیسے کا بے جا استعمال کئے جانے کا الزام لگ چکا ہے جس پر ہائی کورٹ کے گوالیار بینچ کے ذریعہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ’جن آشرواد یاترا‘ میں ہو رہے خرچ کا حساب مانگا جاچکا ہے۔اس بار سیدھے طور پر ایک سرکاری پروگرام کو برسراقتدار پارٹی کے انتخابی مشن میں بدل دینے کا معاملہ لگ رہا ہے۔ عوام سے سجھائو لینے کے نعرے پر دوڑائے گئے ڈیجیٹل رتھ ریاست کے ہر اسمبلی میں شیو راج سنگھ چوہان اور ان کی سرکار کے ذریعہ چلائے گئے سرکاری اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
کمل ناتھ کے 40 سوال
کانگریس نے بی جے پی کے خوشحال مدھیہ پردیش مشن کو’ ضابطہ اخلاق‘ کی خلاف ورزی بتا کر الیکشن کمیشن میں اس کی شکایت کی ہے اور اس پر فوری طور پر روکلگانے کی مانگ کرتے ہوئے انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس کی شکایت پر کارروائی نہیں کی گئی تو وہ اس معاملے کو لے کر عدالت بھی جاسکتی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے بی جے پی کے خوشحال مدھیہ پردیش مشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشن کو شروع کرکے سرکار نے مان لیا ہے کہ اس کی15 سال کی حکومت ناکام رہی ہے ۔کسی بھی ریاستی سرکار کو وکاس کے لئے 5 سال کا وقت کافی ہوتاہے لیکن ریاست کے عوام نے وکاس کے لئے بی جے پی کو 15 سال دیئے لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ 15 سال میں ریاست وکاس میں تو اول نہیں آئی لیکن کسانوں کی خود کشی، بدعنوانی ، قلت غذائی میں نمبر ایک ضرور ہوگئی ہے۔ اس کے لئے بی جے پی کو’ معافی مانگو مشن‘ چلانا چاہئے۔ اپوزیشن کے لیڈر اجے سنگھ نے بھی اسے عوام کو ایک بار پھر ٹھگنے کا مشن بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شکست کے خوف سے شروع کیا گیا مشن ہے لیکن عوام حقیقت جان چکے ہیں اور اب وہ اور بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔
بی جے پی ’خوشحال مدھیہ پردیش مشن‘ کے برعکس کانگریس سوشل میڈیا پر40 دنوں تک 40 سوالات کے ذریعہ سے بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ20 اکتوبر سے 28 نومبر تک شیو راج سنگھ چوہان سے لگاتار ہر دن ایک سوال کریں گے جس میں شیو راج سنگھ چوہان کی ناکامی کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
کمل ناتھ 40 دن اعدادو شمار کے ذریعہ سے ٹویٹر پر 40 سوالوں کا سلسلہ چلا رہے ہیں اور ریاست کی زمینی صورت حال عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ پہلے دن کمل ناتھ نے ریاست کی چرمراتی ہیلتھ سروسز کو لے کر سوال اٹھایا تھا۔ دوسرے دن شیو راج سنگھ کے اعلانات اور ان کی زمینی حقیقت کو لے کر سوال کئے گئے تھے ،وہیں تیسرے دن کا سوال خواتین کے تحفظ کو لے کر تھا جبکہ چوتھے دن غریبی کا ایشو اٹھایا گیا۔

 

 

 

زمینی حالت پتلی
مدھیہ پردیش میں اس بار بی جے پی کے لئے زمینی حالت موافق نہیں لگ رہی ہے ۔مندسور گولی حادثے کے بعد سے کسانوں کا شیو راج سرکار کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی پوری ریاست میں گھوم گھوم کر اعلان کر رہے ہیں کہ اگر مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سرکار آئی تو 10 دن کے اندر کسانوں کا قرض معاف کر دیا جائے گا ۔ایسے میں انتخابات کے دوران بی جے پی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتاہے۔ کسانوں کے غصے کا سب سے زیادہ نقصان بی جے پی کو مالدہ نیماد میں ہونے کا امکان ہے۔ یہ بی جے پی اور سنگھ کا گڑھ مانا جاتاہے۔ موجودہ وقت میں اس علاقے کی زیادہ تر سیٹوں پر بی جے پی کا ہی قبضہ ہے۔
اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے او بی سی اور اعلیٰ ذات کے ووٹروں کا غصہ بھی بی جے پی کا حساب بگاڑ سکتا ہے۔ ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم میں ابھرا اعلیٰ ذات کا آندولن بنیادی طور سے بی جے پی کے ہی خلاف ہے۔ اس آندولن سے ایک نئی پارٹی بھی تیار ہو گئی ہے جو بی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
بی جے پی کے اندرونی سروے بھی پارٹی کے لئے تشویش کی بات ہے جس میں پایا گیا ہے کہ 40 فیصد سے زیادہ موجودہ ایم ایل ایز اور وزیروں کے خلاف عوام اور کارکنوں میں ناراضگی ہے۔ ایسے میں خبریں آرہی ہیں کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اپنے تقریبا ً80 موجودہ ایم ایل ایز کے ٹکٹ کاٹنے پر غور کررہی ہے۔ سنگھ کی طرف سے بھی کچھ اسی طرح کا فیڈ بیک سامنے آرہا ہے۔ پچھلے دنوں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اپنے بھوپال دورے کے دوران ارورا کالونی میں سنگھ دفتر سمیدھا گئے تھے جہاں وہ 3 گھنٹے تک رکے رہے۔ اس دوران انہیں فیڈ بیک دیا گیا کہ کئی ایم ایل ایز کے خلاف ماحول ہے ،اس لئے تقریباً80 موجودہ ایم ایل ایز کو انتخاب میں نہ اتارا جائے۔حالیہ اوپنین پول بھی مدھیہ پردیش میں کانگریس کے اقتدار میں واپسی کے اشارے دے رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد اے بی پی نیوز کے ذریعہ دکھائے گئے اوپنین پول میں بی جے پی کو 108 تو کانگریس کو 122 سیٹیں دی گئی ہیں۔
دگی راجا کے الگ الگ تیور
اپنے ایک بیان کی وجہ سے دگ وجے سنگھ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں جس میں انہوں نے جیتو پٹواری کے گھر کے باہر کانگریس کارکنوں سے کہا تھاکہ میرا کام صرف ایک ہے، کوئی تشہیر نہیں،کوئی تقریر نہیں ،میرے تقریر کرنے سے کانگریس کے ووٹ کٹتے ہیں اس لئے میں کہیں جاتا ہی نہیں۔ اس کے بعد تو شور مچنا طے تھا اور ہوا بھی یہی، لوگ دگ وجے سنگھ کے اس بیان کو ان کی ناراضگی سے جوڑ کر دیکھنے لگے۔ حالانکہ اسکے پیچھے ٹھوس وجہ بھی ہے۔ دراصل اس بار دگ وجے سنگھ کانگریس کے انتخابی پوسٹروں اور ہورڈنگس سے غائب ہیں۔انتخابی اجلاس میں بھی وہ تقریر نہیں کرتے ہیں۔لیکن ان سب کے باوجود دگ وجے سنگھ کانگریس کے لئے سرگرم ہیں۔دراصل مدھیہ پردیش میں بی جے پی سے پہلے دگ وجے سنگھ10 سال تک مدھیہ پردیش میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ بی جے پی ان کی الاٹمنٹ کی سرکار کی شبیہ بنا کر اقتدار میں آئی تھی تب سے ہر انتخاب کے دران وہ اپنے اسی فارمولے کو کامیابی سے آزماتی آئی ہے۔مگر اس بار وہ اس میں کامیاب ہوپائے گی ،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *