کھڑکی مسجدمحفوظ ہے:اے ایس آئی

Khirki-Mosque
جنوبی دہلی میں واقع کھڑکی مسجد کے بارے میں پچھلے دنوں اطلاع ملی کہ اس تاریخی مسجد کے باہر نصب شدہ بورڈ پر سے اس کا نام بار بار مٹایا جارہا ہے اور اس کے بارے میں مقامی لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ مہارانا پرتاپ کا قلعہ ہے۔ اس سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن کے نوٹس پر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی)کے دہلی ضلع کے سپرنٹنڈنٹ نے لکھ کر اور مقدمے کی سماعت میں آکر کمیشن کو یقین دلایا ہے کہ مذکورہ مسجد پوری طرح سے محفوظ ہے اور اسے 1915سے محفوظ تاریخی عمارت کا درجہ ملا ہوا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا اس اہم مسجد کی تاریخی حیثیت سے اچھی طرح واقف ہے، مسجد کے باہر بورڈ پر دوبارہ مسجد کا نام لکھ دیا گیاہے، پہرے داری سخت کردی گئی ہے اور جلد ہی وہاں مسجد کے بارے میں معلومات نقش کرکے پتھر لگادیا جائے گا۔
نیز آرکیالوجیکل سروے نے اس عمارت کی مرمت کا کام بھی شروع کردیا ہے۔ مسجد کے بارے میں دعووں کے سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اگر باقاعدہ طور سے یہ بات ہمارے نوٹس میں آتی ہے تو فوراً اس کی تردید کردی جائے گی۔ مسجد میں نماز کی اجازت نہ ہونے کے بارے میں سپرنٹنڈنٹ نے کمیشن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی عمارت آرکیا لوجیکل سروے اپنے قبضے میں لیتا ہے تو اس دن جاری رہنے والی حالت کوبرقرار رکھاجاتاہے۔ مسجدکے سلسلے میں بھی یہی قاعدہ ہے کہ قبضہ لینے والے دن اگر وہاں نماز ہو رہی ہوتی ہے تو اس کو جاری رکھا جاتاہے۔ انھوں نے بتایاکہ یہ بات آرکیالوجیکل سروے کے ایکٹ میں لکھی ہوئی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *