علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینیڈی ہال میں جلسۂ عید میلاد النبی کا انعقاد

Jalsa-seeratun-nabi-in-AMU
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) میں جلسۂ عید میلاد النبی کا انعقاد نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ عمل میں آیا۔اس موقع پر اے ایم یو کے کینیڈی ہال میں جلسۂ سیرت النبی کا انعقاد کیا گیاجس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کی۔ اس سے قبل وائس چانسلر نے مولانا آزاد لائبریری کے مرکزی ہال میں سیرتِ طیبہ سے متعلق کتب، مخطوطات اور اسلامی خطاطی پر مشتمل فن پاروں کی نمائش کاافتتاح کیا۔اس نمائش میں حضورِ اکرم کی زندگی سے متعلق ہندی، انگریزی، عربی، فارسی اور اردو سمیت نصف درجن سے زائد زبانوں میں تقریباً پانچ سو سے زائد کتب اور نادر مخطوطات رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ تقریباً 1400سال قبل کوفی زبان میں حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا قرآنِ کریم کا نسخہ، مغل حکمرانوں کے ذریعہ جنگ میں استعمال کئے جانے والے کرتے پر درج مکمل قرآن کو بھی نمائش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وائس چانسلر نے لائبری کے مرکزی ہال میں ہی کے اے نظامی مرکز برائے قرآنی مطالعات کے ڈپلوما ان کیلیگرافی کے طلبہ و طالبات اور یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس میں ملازم قاضی منیس کے خطاطی کے فن پاروں کی نمائش کا بھی افتتاح کیا۔اس موقع پروائس چانسلر کی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ طارق، پرووائس چانسلر پروفیسر ایم ایچ بیگ،رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس، یونیورسٹی لائبریری ڈاکٹر امجد علی اور مرکز برائے قرآنی مطالعات کے ڈائرکٹر پروفیسر اے آر قدوائی کے علاوہ بڑی تعداد میں اے ایم یو کے اساتذہ ، طلبہ اور معززین موجود تھے۔ کینیڈی ہال میں منعقدہ جلسۂ عید میلاد النبی سے خطاب کرتے ہوئے اعظم گڑھ سے آئے مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ اللہ کے رسول سے محبت اس عظیم دانش گاہ کی قدیم روایت ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں نے سر ولیم میور کی کتاب کا جواب برطانیہ میں جاکر خطباتِ احمدیہ کی شکل میں پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ اے ایم یو جیسے بڑے ادارہ میں سیرتِ رسول پر بڑے پیمانے پر تحقیقی کام ہو اور زندگی کے مسائل کو سیرتِ رسول کی روشنی میں حل کرنے کی سمت میں تحقیق کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے محققین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اسلام اور رسولِ کریم سے متعلق غلط فہمیوں کو قرآن اور حدیث کے حوالوں سے دور کرنے کے لئے عوامی سطح پر سیرتِ رسول کو عام کیا جائے اور ان کی زندگی کے تمام گوشوں سے عوام کو روشناس کرایا جائے تاکہ عوام میں رائج غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے پہلے حقوقِ انسانی اور تکریم انسانیت کا درس حضرت محمد مصطفےٰ نے دیا اور قیامت تک اسلام عالمِ انسانیت کے لئے رحمت اور امن و آشتی کا علمبردار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حسنِ اخلاق سے اپنے مذہب کی نمائندگی کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ ہم اللہ کے رسول کے فرمان کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں یا نہیں اور ہماری ذاتی زندگی میں سیرتِ رسول کس حد تک شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اللہ کے رسول نے زندگی بسر کرنے کا جو طریقہ بتایا وہی سب سے احسن طریقہ ہے جس پر عمل کرکے ہر قسم کے مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔
مؤ ناتھ بھنجن سے آئے مولانا ناظم علی خیر آبادی نے کہا کہ حضرت محمد مصطفےٰ تمام عالم انسانیت کے لئے رحمت اور معلم بناکر بھیجے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سال میں صرف ایک مرتبہ اللہ کے رسول سے محبت کا مظاہرہ کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنی زندگی میں سیرتِ رسول کو شامل کرنا چاہئے تبھی ہم دونوں جہان میں عزت اور وقار پاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رسولِ کریم نے بغیر کسی تفریق کے سب کو اللہ کا پیغام دیا اور اپنے اخلاق و کردار سے سب کا تذکیۂ نفس کیا۔
مولانا ناظم علی نے کہا کہ اللہ نے قرآنِ کریم میں حضرت محمد مصطفےٰ کی تمام خوبیاں بیان کی ہیں اور جب تک ہم خود کو قرآن اور سنت کے سانچے میں نہیں ڈھالیں گے بہتر زندگی بسر نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج حالات یہ ہیں کہ ہم اصلی مسلمان کم اور نسلی مسلمان زیادہ ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور حضورِ اکرم نے جو پاکیزہ کردار پیش کیا اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہئے۔ مولانا ناظم علی خیر آبادی نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن سے اپنے رشتوں کو مضبوط کریں اور اللہ کے رسول کی صحیح معنی میں اتباع کریں کیونکہ رسول کی اتباع ہی جنت میں جانے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کے دل میں اللہ کے رسول کے لئے محبت نہیں ہے اللہ بھی اس کو پسند نہیں کرتا اور خود اللہ نے فرمایا ہے کہ جو میرے حبیب سے محبت کرتا ہے وہ مجھے بھی محبوب ہے۔
جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ حضرت محمد مصطفےٰ کی ذات عالمِ انسانیت کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول نے زندگی کے ہر شعبہ میں ایسے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کیا جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔پروفیسر منصور نے کہا کہ حضرت محمد مصطفےٰ نے اپنے اخلاق اور کردار سے کافی کم مدت میں تمام معاشرہ کو تبدیل کردیا جبکہ اس دور میں ترسیل کے وہ وسائل بھی دستیاب نہیں تھے جو آج میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف حضرت محمد مصطفےٰ کی ہی سیرتِ پاک ضابطۂ تحریر میں لائی گئی جبکہ ان سے قبل کے نبیوں اور پیغمبروں کے واقعات قرآنِ کریم سے ملتے ہیں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ رسولِ کریم کی سیرت ہمیں اپنے معاشرہ میں زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ انہوں نے ہر قسم کی تفریق سے بالاتر محبت، انسانیت اور انصاف کے ساتھ حقوقِ انسانی کا درس دیا۔ اللہ کے رسول نے تمام مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی اور محبت کے رشتے قائم کرنے کی ہدایت کی تاکہ سماج میں امن قائم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ سے ہمیں امن و آشتی کا درس ملتا ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اللہ کے رسول نے غیر مسلموں سے بھی مروت اور ہمدردی کا سلوک کیا اور اپنی امت کو بھی اس کی تعلیم دی۔انہوں نے کہا کہ حضورِ اکرم کی شخصیت شفاف تھی اور ہمیں بھی دوہری شخصیت کے ساتھ نہ جی کر اپنا ظاہر و باطن ایک رکھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سماج میں خواتین کو برابری کا درجہ دیا جانا چاہئے اور ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے تاکہ آنے والی نسلوں کی بھی اصلاح ہوسکے۔وائس چانسلر نے کہا کہ رسولِ کریم سے محبت اس دانش گاہ کے خمیر میں شا مل ہے اور طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی میں سیرت کے نور کو شامل کریں تاکہ انہیں ساری دنیا میں عزت اور وقار حاصل ہو۔
اس سے قبل دینیات فیکلٹی کے ڈین اور ناظمِ دینیات پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے مہمانان کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر ابرار احمد نے نظامت کی جبکہ رجسٹرار مسٹر عبدالحمید آئی پی ایس نے شکریہ کی رسم ادا کی۔ پروگرام کا آغاز قاری اعظم کی تلاوتِ کلامِ پاک اور اس کے ترجمہ سے ہوا۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم ایچ بیگ نے مہمان مقررین کو شال پہناکر سرفراز کیا۔ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے نعتیں پیش کیں۔ جلسہ کا اختتام مولانا طاہر مدنی کی دعا پر ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *