اس کو کہتے ہیں قسمت


کہتے ہیں جب قدرت کو دولت ، شہرت اور عزت دینی ہوتی ہے تو کیسے مل جاتی ہے ،انسان سوچ بھی نہیں سکتا ۔ کس کی قسمت کب بدل جائے گی، اسکا کسی کو کچھ پتہ نہیں چلتا ہے۔ ہریانہ میں پہوا کے چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی مندیپ کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا۔ انہوں نے ہریانہ کے لوگوں کا سر فخر سے اونچا کردیا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ محنت کبھی بھی کسی کی بھی رائیگاں نہیں جاتی ہے ، بس ضرورت ہے کوشش کرنے کی۔
پہوا کے گاؤں نموالا کی ایک بیٹی مندیپ شریگل جنہوں نے اپنی کڑی محنت سے مس انڈیا کے خطاب پر اپنا قبضہ جمایا ، یہ خطاب حاصل کرنے کے بعد دیگر لڑکیاں بھی مندیپ کو اپنا رول ماڈل میں دیکھنے لگی ہیں۔پہوا کے گاؤں نموالا کے چھوٹے سے ڈیرے کی بیٹی مندیپ پڑھائی کرنے کے لیے پٹیالہ جاتی تھی۔ان کے سوشل میڈیا سے ملی حوصلہ افزائی نے کچھ ہی دنوں میں ستارہ بنا دیا۔گلوبل گلوبل مس انڈیا ایشیا 2018 کا مس انڈیا خطاب جتنے پر مندیپ شیرگل کے گاؤں میں ہی نہیں، پہوا میں خوشی کا ماحول ہے۔

 

 

انسان کو کوشش جاری رکھنی چاہئے اور اگر فوری طور پرکچھ ناکامی بھی ہو تو اسے کامیابی کی سیڑھی سمجھ کر کوشش کو مسلسل جاری رکھنا چاہئے۔کیونکہ کب قسمت مہربان ہوجائے اور سوچ سے زیادہ مل جائے کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ آج مندیپ کتنا خوش ہے ،اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ۔بس ضرورت ہے کہ اس کی محنت اور لگن سے دوسرے لوگ سبق حاصل کریں اور اپنی سمت اور ہدف کے لئے مسلسل کوشش کریں۔کیونکہ محنت کبھی بھی کسی کی بھی رائیگاں نہیں جاتی ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *