کیاانتخابی سروے غیرجمہوری ہے؟

چارریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی سروے کا موسمی دوربھی شروع ہوگیا۔ یوں تو سبھی ایجنسیاں اورنیوزچینلز پورے سال سرکار کی مقبولیت اوراپوزیشن کی اوقات کاتخمینہ کرتے رہتے ہیں، لیکن انتخابی دنوں میں سروے کا یہ کھیل کچھ زیادہ ہی تیز ہوجاتاہے۔
اسی ضمن میں کچھ ایسے بھی سروے سامنے آتے ہیں، جوعام لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر،حال ہی میں اے بی پی نیوز اورسی-ووٹر کے سروے آئے۔اس سروے میں پہلے راجستھان ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات کولیکر ممکنہ نتیجے بتائے گئے، وہیں اس کے بعد انہی ریاستوں میں 2019کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی صورتحال کا اندازا کیاگیا تھا۔
ان دونوں کے نتیجے متضاد تھے۔سروے کا تخمینہ ان تینوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو بڑھت دلا رہاہے، وہیں اسی سروے کے مطابق آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ان تینوں ریاستوں میں کانگریس بی جے پی سے پیچھے رہے گی۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ایک ہی جگہ سے کئے گئے ، ایک ہی طرح سے سروے کے نتیجوں میں فرق کیسے ہوسکتاہے؟
سوال اسے لیکر بھی اٹھ رہے ہیں کہ سروے ایجنسیاں کن لوگوں سے بات کرتی ہیں، کیسے سوال پوچھے جاتے ہیں اورکس طرح سے لوگوں کی رائے جانی جاتی ہے؟ سروے کرنے والے فیلڈ ورکر نے کتنی ایمانداری سے سروے کیاہے؟ سروے کرنے والے لوگ کیا سچ مچ لوگوں کے گھر گئے اورصحیح ڈھنگ سے سوال کیا یا خود ہی سوالوں کے جواب تیار کرلئے؟

 

 

 

 

پچھلے سال گجرات اورہماچل پردیش کے انتخابات میں پہلے بھی ایسے کئی سروے نتیجوں پر سوال اٹھے تھے، تب سوشل میڈیا میں ایک ہیش ٹیگ وائرل ہواتھا، جس کے ذریعے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ سروے کے ضمن میں ایجنسیاں کس کے پاس جاتی ہیں؟ اس وقت اس ہیش ٹیگ کے ذریعے کئے گئے پوسٹس کونزدیک سے دیکھنے والے اس رپورٹر کو ایک بھی شخص ایسا نہیں دکھا، جس سے یہ کہا ہو کہ سروے کرنے والا کوئی اس کے پاس آیاتھا۔
سروے کرنے والی ایجنسیاں سیمپل میں شامل لوگوں کی پہچان مخفی رکھتی ہیں۔ اس کے لئے یہ منطق دیاجاتا ہے کہ پہچان پبلک ہونے پر لوگوں کو ایک کسی پارٹی خاص کے لوگ پریشان کرسکتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں سروے ایجنسیاں اپنی پریشانی سے بچنے کیلئے یہی کہتی ہیں۔ ہرانتخابی نتیجوں کے بعد پتہ چلتاہے کہ زیادہ ترسروے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال یہی ہے کہ سروے کرنے والے فیلڈ-ورکر لوگوں کے پاس جاتے ہی نہیں۔ایسی کئی خبریں آئی ہیں کہ سروے کرنے والے لوگ گروپ بناکر کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے حساب سے سروے فارم کو بھردیا جاتاہے۔
اس میں کھیل شروع ہوتاہے، سوالنامہ سے۔ سوالنامہ کو اس طرح سے بھرا جاتاہے، جس سے اس میں کی گئی گڑبڑیاں پکڑ میں نہ آئیں۔اس کے بعد ،سروے کے نتیجے بھی بہت حد تک گمراہ کن ہوتے ہیں۔اس میں پورا کھیل سروے کرنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتاہے۔ سروے کمپنیاں اس کیلئے ماہر پیشے ور لوگوں کوہائر کرتی ہیں۔دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) اوردہلی یونیورسٹی (ڈی یو)کے کالجوں و میڈیا انسٹی ٹیوٹ کے ایسے طلبا کو اس کام کیلئے منتخب کیا جاتاہے، جنہیں فیلڈ ورک اور ریسرچ کا تجربہ ہوتاہے۔ ایجنسیاں انہیں اپنی طرف سے فرضی واڑے کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سوالنامہ ہی فرضی واڑے سے بھرا گیا ہو، تو سروے کا نتائج کیسے صحیح ہوسکتاہے۔کسی بھی انتخابی دور کے زیادہ تر سروے رپورٹرس کو دیکھیں ،تو وہ غلط ہی ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ ہی سروے ہوتے ہیں، جونتیجوں سے میل کھاتے ہیں اور اسے لیکر وہ اپنے اعتماد کا ڈھول پیٹنے لگتے ہیں۔لیکن اگلے ہی انتخابات میں ان کا اعتماد خطرے میں پڑجاتاہے ، کیونکہ اتفاق ہربار نہیں ہوسکتا۔
انتخابی سروے کئی طرح سے رائے دہندگان کی صورتحال سے کھلواڑ کرتے ہیں اور ایسی صورتحال کسی بھی طریقے سے جمہوری نہیں کہی جاسکتی ہیں۔غورطلب ہے کہ نومبر 2013میں الیکشن کمیشن نے سرکار کوایک خط لکھا تھا کہ ایک قانون بناکر الیکشن کے نوٹیفکیشن کے بعد آنے والے اوپنین پول پرروک لگائی جائے۔تب 15سیاسی پارٹیوں میں سے 14نے اس کی حمایت کی تھی، لیکن بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی کہ ایسا قدم اظہاررائے کی آزادی کا انتباہ ہوگا۔

 

 

 

 

سامنے آچکی ہے سروے کی سچائی
سروے پراٹھ رہے سوا ل نئے نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں پسندیدہ لوگوں کو ہارتے-جیتے دکھانے کی کوششیں نئی ہیں۔فروری 2014میں جب لوک سبھا انتخابات مہم اپنے شباب پرتھی اور آئے دن مختلف پارٹیوں کی ہارجیت کے نئے نئے جائزے سامنے آرہے تھے، اسی وقت چینل کے ذریعے کئے گئے اسٹنگ آپریشن نے سروے کے اعتماد کوتار تار کردیاتھا۔اس وقت سروے کرنے والی کئی ایجنسیوں سے جڑے لوگوں نے کیمرے پرقبول کیا تھا کہ وہ جسے چاہیں ، اسے سروے میں مقبول دکھاسکتے ہیں اور جسے چاہیں اسے کنارے لگاسکتے ہیں۔
نیوزایکسپریس کے ذریعے کئے گئے اسٹنگ آپریشن میں کیو آرایس ، سی-ووٹر، اپسوس انڈیا، ایم ایم آر اور ڈی آرایس جیسی نامی گرامی سروے ایجنسیوں کی کرتوتیں اجاگر ہوئی تھیں۔چینل کے ذریعے جاری کئے گئے اسٹنگ ویڈیو میں سروے ایجنسیوں سے جڑے لوگ صاف طورپر یہ قبول کرتے دکھ رہے تھے کہ وہ سروے کوکسی بھی پارٹی یا کسی بھی لیڈر کے حمایت میں کرسکتے ہیں۔مارجن آف ایرر کے ذریعے کس طرح سے سروے کے کھیل کو زبردستی پراعتماد بنایاجاتاہے، یہ بھی اس اسٹنگ آپریشن میں صاف طورپر سامنے آیا تھا۔
نیوز چینل کے انڈر کور رپورٹر سے ان سروے ایجنسیوں کے لوگوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی کی طرف میں سروے رپورٹ دینے کے عوض میں انہیں کالا دھن لینے سے بھی پرہیزنہیں ہے۔
اس اسٹنگ آپریشن کے بعد آج تک اور نائمز ناؤ نے خود کوسی-ووٹر سے الگ کرلیا تھا، وہیں کانگریس اورعام آدمی پارٹی نے اس کی جانچ کی بھی مانگ کی تھی۔ اس وقت کے وزیرقانون کپل سبل نے تب الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں جانچ کی مانگ کرتے ہوئے کہاتھا کہ خلاصہ بہت سنگین ہے اوردکھاتاہے کہ سروے ایجنسیاں عوام کی رائے کو توڑنے -مروڑنے کی کوشش کررہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *