ہندوستان -امریکہ تعلقات میں تحمل کی ضرورت

ہندوستان کو امریکی صدر کے حالیہ تبصرے نظرانداز کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں اپنے موجودہ نقطہ نظرپر قائم رہنا چاہئے۔آج نہ تو ہندوستان اورامریکہ کے بیچ تجارتی جنگ چل رہی ہے، اورنہ ہی بالکل امن کی صورتحال ہے۔
اکتوبرکے شروعات میں صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کو ’’ٹیرف کا راجا‘‘ قراردے کر اندرخانے چل رہی دوطرفہ تجارتی اندرونی احساس کو تھوڑی دیر کیلئے سطح پرلاکھڑا کیا۔ ٹرمپ نے کہاکہ انہوں نے (ہندوستان نے) سوداکرنے کیلئے ہمیں (امریکہ کو) بلایاجبکہ ہم نے انہیں کوئی دعوت نہیں دی۔ ہندوستان کا سودا کرنے کیلئے بلانا لوگوں کیلئے چونکانے والی بات ہے۔
امریکی صدرکا یہ تبصرہ بنیادی طورپر امریکی لوگوں کیلئے تھا۔ وہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہندوستان -امریکہ تجارتی تعطل میں جیت ان کی ہورہی ہے۔دراصل لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچنا ٹرمپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔لہٰذا ان کے بیانات کونظرکرتے ہوئے ہندوستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی مذاکرات کے دوران اپنے موجودہ نقطہ نظر پرقائم رہے۔
ابھی تک نئی دہلی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کافی صبرسے کام لیاہے۔ہندوستان کوپتہ ہے کہ واشنگٹن کا موجودہ تجارت عالمی نقطہ نظر دہائیوں بعد اتنازیادہ محفوظ ہوا ہے۔اسی محفوظ پالیسیوں کی وجہ سے جیسے کوتیسا کی پالیسی اپناتے ہوئے چین نے امریکی سامانوں پرٹیرف مقررکیاہے۔لیکن نئی دہلی نے امریکی افسروں کے ساتھ پردے کے پیچھے بات چیت کرٹکراؤ کوروکے رکھاہے۔

 

 

 

 

ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ سے نپٹنے میں چین کے بجائے میکسیکو اورکناڈا کی پالیسی زیادہ کارگر ہوگی۔کیونکہ اس پالیسی کے کامیاب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔مثال کے طورپر میکسیکو اورکناڈا نے ٹرمپ کے ساتھ شمالی امریکہ مکت تجارت سمجھوتے پردوبارہ رضامندی کرلی ہے۔ یہ ایک ٹھوس پالیسی ہے کیونکہ اس میں اقتصادیات شامل ہے۔ اقتصادی ترقی کورفتاردینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہندوستان ، امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں 1991ہورہی لگاتار اضافے کوبنائے رکھے۔غورطلب ہے کہ ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ تیارمال کے طور دوطرفہ تجارت 5.2ارب ڈالر کی ہے، جس میں تقریباً 3.2ارب ڈالر کا برآمدہوتاہے اورتقریباً 2ارب ڈالرکادرآمد۔
پچھلے سال ہندوستان -امریکہ باہمی تجارت کی مقدار 74ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ 1991میں انفلیشن کا ایڈجسٹمنٹ5.2ارب ڈالر تھا جوکہ آج کی قیمت کے مطابق 9.2 ارب ڈالر ہے۔اس کا مطلب ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ اس مدت میں باہمی تجارت آٹھ گنا بڑھی ہے۔پچھلے پچیس تیس برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے بیچ تجارت میں اس حاصل شدہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ہندوستانی معیشت کا لبرلائزیشن اورتوسیع ان میں سب سے اہم ہے۔ سردجنگ دورکے خاتمہ کے بعد باہمی تعلقات میں سدھار ایک دیگراہم وجہ ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے تجارتی اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں نے اپنے اختلافات کو تجارت کے راستے میں نہیں آنے دیاہے۔حالانکہ اس پوری مدت میں ٹکراؤ کے معاملے بھی سامنے آتے رہے۔ مثال کے طورپر دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ڈبلیو ایچ او میں غیرمناسب تجارتی نظام اورتحفظ کی پالیسی اختیارکرنے کیلئے شکایتیں درج کرائی ۔
امریکہ کو ہندوستان کے پیٹینٹ قانونوں پراعتراض ہے۔اس کا کہناہے کہ ان قوانین کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتاہے۔ ہندوستان نے امریکی انتظامیہ کے ذریعے ایچ1-بی ویزا ضابطوں کو سخت بنائے جانے کی حالیہ قواعد اورامریکی انتظامیہ کے ذریعے ہندوستانی کمپنیوں کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہارکیاہے۔دراصل دونوں ملکوں کے بیچ غیررضامندی کی کئی دیگرمثالیں بھی ہیں۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود دونوں ملکوں کی سرکاروں نے اورتجارتی کمیونٹی نے آپسی میل ملاپ کوٹوٹنے نہیں دیا، جودونوں ملک کیلئے باہمی طورپرفائدہ مند رہاہے۔

 

 

 

 

موجودہ انتظامیہ کے ساتھ آپسی میل ملاپ ، بات چیت اورکسی معاملے پر اتفاق بننا بہت مشکل ہوگیاہے۔حال ہی میں ایک اعلیٰ ہندوستانی افسر نے غیررسمی طورپر شکایتی لہجے میں کہاکہ باہمی تجارتی مذاکرہ صرف ایک ہی سمت میں جانے والی سڑک بن گئی ہے۔اس افسر نے کہاکہ امریکی نمائندہ وفد باہمی میٹنگوں میں صرف یہ سننا چاہتے ہیں کہ ہندوستان اپنی خریداری کتنا بڑھا سکتاہے جبکہ امریکہ کیلئے تجارت کا معنیٰ ہے اپنا سامان بیچنا ۔اسکی نظرمیں خریدنا بری چیز ہے۔ کچھ لوگ اس نقطہ نظراورپالیسی کو ٹرانزیکشنل پالیسی کہتے ہیں۔لیکن یہ ٹرانزیکشنل پالیسی نہیں ہے، کیونکہ ٹرانزیکشن میںبیچنا اورخریدنا دونوں شامل ہوتے ہیں۔دراصل یہ سوچ ٹرانزیکشنل سے زیادہ راشٹروادی ہے۔جیسا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں فخرسے کہاتھا کہ وہ راشٹروادی ہیں۔دراصل اہم یہ نہیں ہے کہ راشٹرواد اوراپنے آپ میں کوئی بری چیز ہے یا اچھی ، اہم یہ ہے کہ راشٹرواد کو اپنا یا کیسے جارہاہے۔
اگرراشٹرواد کو عقلمندی سے اپنا گیا اوریہ مان لیاگیاکہ زیادہ ترتیار اورترقی پذیر ملک بھی خود کوراشٹرواد کہتے ہیں تویہ باہمی اقتصادی انحصار قائم کرنے کیلئے ایک منچ فراہم کرسکتاہے اور منصفانہ تجارتی سمجھوتوں کیلئے بنیاد بھی بن سکتاہے۔
اس طرح کی رضامندی مستقبل میں ترقی کیلئے اہم ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کے ماہراقتصادیا ت جگدیش بھگوتی نے بتایاکہ پہلے تجربہ سے ثابت کرتے ہیں کہ تجارت میں تحفظات کی پالیسی سہی نہیں ہے۔ان کا نقطہ ہے کہ آزادتجارت اوراقتصادی خوشحالی کے بیچ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
آنے والے کچھ برسو ں میں ہندوستان-امریکہ تجارت میں 500ارب ڈالر کی تعداد پارکرنے کی صلاحیت ہے۔ایک تحقیق میں یہ اندازہ لگایاگیاہے کہ ہندوستان-امریکہ تجارت 2030تک ایک ٹریلین ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔
دوطرفہ اقتصادی جنگ میں ہندوستان اورامریکہ دونوں میں فاتح بننے کے امکانات موجود ہیں۔لیکن یہ ایسی جنگ نہیں ہے جس میں صرف فاتح کوہی سب کچھ مل جائے گا۔یہاں جیت ساجھی ہوگی اوریہ جیت تبھی حاصل ہوگی جب میل جول اورآپسی تعاون کے ساتھ کام کیاجائے۔ حالانکہ موجودہ امریکی قیادت کویہ حقیقت سمجھ میں نہیں آرہی ہے، لیکن ہندوستان کو انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔
ہندوستان کوامریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر قائم رہنا چاہئے ۔اسے تحمل سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ ایساکرکے وہ خود فاتح بن جائے گا اورامریکہ کواپنے اورزیادہ قریب لائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *