بدسلوک شریک حیات کی پہچان 

اگر میاں -بیوی میں سے کوئی بھی اس مزاج کا ہو کہ شریک حیات اس کی مرضی کا کام نہ کرے تو وہ غصے میں آ جائے، اپنے جیون ساتھ کو ہدایت دے کہ وہ اسی کی مرضی کے مطابق تمام کام کرے ،اگر یہ عادت کسی میں ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ آپ کا جیون ساتھی بدسلوک ہے اوروہ آپ کی زندگی کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔یہ کہنا ہے کہ میکسیکو کی ماہرِ نفسیات ٹیرے ڈیاز سینڈرا کا جو خاندانی اور شادی شدہ جوڑوں کے معاملات کی ماہر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’اس صدی میں صنفی مساوات میں خاصا اضافہ ہوا لیکن پھر بھی یہ بات ناقابلِ یقین لگے گی کہ اب بھی بہت سے ایسے مریض ہیں جو اپنے جیون ساتھ کی زندگیوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور یہ زیادہ تر عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔‘

 

ہم سب کو تعلقات میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مستقل بدسلوک شریکِ حیات وہ ہے جو اپنا استحقاق استعمال کر کے کسی دوسرے شخص کو اپنی خواہشات، ضروریات اور مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا چاہتا ہو۔
بدسلوکی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ کس کے پاس طاقت ہے۔ عورتیں عام طور پر دوسروں، مثلاً بچوں اور شوہر، کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، جب کہ مرد خود اپنی زندگی کے مرکزی کردار ہوتے ہیں۔تاہم عورتیں بھی بدسلوک ہو سکتی ہیں۔ اگر وہ شوہر سے زیادہ کمائی کرتی ہیں تو اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ وہ کئی ایسے طریقے استعمال کر سکتی ہیں جن کی مدد سے مرد کو کنٹرول کیا جا سکے۔
عام طور پر اس کے کئی عوامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ زندگی میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے بدسلوکی پر اتر آتے ہیں لیکن زیادہ تر بدسلوکی والا مزاج تب آتا ہے جب اس کی پرورش اسی طرح کے ماحول میں ہوئی ہو۔مثال کے طور پرلڑکوں کو بچپن میں سکھایا جاتا ہے کہ ’مرد بن کر رہو۔‘ یہی رویہ بعد میں ان کی عورتوں سے بدسلوکی کی راہ ہموار کرتا ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *