مسلمانوں کا مجموعی امپاورمنٹ کیسے؟

ہندوستان میں مسلمان حضرت محمدؐ کے زمانے میں ہی 7ویں صدی عیسوی کے اول نصف میں بحیرہ عرب ہوکر مالا بار آگئے تھے جس کے نشانات کوڈنگیلور ودیگر علاقوں میں آج بھی دیکھنے کوملتے ہیں۔اس تعلق سے صحابی رسول مالک بن دینار کی تعمیر کردہ چیرمان پیرومال جمعہ مسجد کو ڈنگیلور ودیگر مساجد اورمقبرے دوسرے مقامات پرآج بھی موجودہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ کے ان عربی افراد کی زبان کے تقریباً ایک لاکھ الفاظ وہاں کی ملیالم زبان میں پائے جاتے ہیں۔پھربعد میں مسلمان ملک کے دیگر علاقوں میں بھی گئے۔2011کی مردم شماری کے مطابق، کل ملاکر پورے ملک میں 14.20فیصد مسلمان پائے جاتے ہیں۔مگراس سے زیادہ افسوس کی بات کوئی اورنہیں ہوسکتی کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی کمیونٹی مجموعی طورپر پسماندگی یا ڈس امپاورمنٹ کا شکار ہے۔اوراب تو اسے سیاسی ، سماجی ومعاشی طورپر نظرانداز کئے جانے کی بات بھی کی جانے لگی ہے۔
اس کمیونٹی کے ڈس امپاور منٹ خواہ اس کی وجہ جوکچھ بھی ہو، کا اندازہ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزریشن (این ایس ایس او)، گوپال سنگھ ہائی پاور مائنارٹی پینل، سچر کمیٹی اوررنگ ناتھ مشراکمیشن کی رپورٹوں سمیت اس ایشوپرمختلف زاویے سے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز(آئی اوایس)کے علمی وتحقیقی کاموں(امپاورمنٹ سیریز) سے ماضی میں ہوتارہاہے۔ لیکن ابھی حال میں منظرعام پرآئی معروف صحافی سعید نقوی کی اردو میں’وطن میں غیر:ہندوستانی مسلمان‘ ہندی اورانگریزی ایڈیشنوں کے ساتھ اورانگریزی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کی ’سرکاری مسلمان:ایک فوجی ماہرتعلیم کی حیات واشکال‘ کتابوں نے اس احساس کومزید بڑھایاہے۔ ویسے اسی موضوع پرچند برسوں قبل سابق آئی اے ایس افسر، سماجی حقوق کارکن اورسینٹرفار ایکیوٹی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہرش مندر کی چونکانے والی کتاب’ لوکنگ ایوے: ان ایکیوالٹی ، پریجوڈیس اینڈ ان ڈیفرینس‘(نظرانداز:غیربرابری ، تعصب اوربے حسی) اصحاب الرائے کی توجہ مبذول کراچکی ہے۔
پولرائیزیشن کی موجودہ سیاست نے ملک کی بیشتر سیاسی پارٹیوں خصوصاً کانگریس کوبے حد متاثر کیاہے جس کا اندازہ مختلف انتخابات کے دوران مہموں کوچلاتے اورٹکٹوں کی تقسیم کے وقت ہوتاہے۔ سیاسی طور پرہرقدم اٹھاتے وقت مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جاتاہے تاکہ اس سے بی جے پی ووٹ کے پولرائیزیشن کا فائدہ نہ اٹھالے۔ کانگریس کے اس طرزعمل کا مظاہرہ گجرات اورکرناٹک کے ریاستی انتخابات میں پہلے ہوچکاہے اوراب مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اورراجستھان کے اسمبلی انتخابات کے دوران ہورہاہے۔ویسے تلنگانہ میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ وہاں بی جے پی بڑی سیاسی کھلاڑی نہیں ہے۔چونکہ یہاں مکمل اسمبلی سیٹوں میں 40فیصد پرمسلم ووٹرس فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، اس لئے کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر)کی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آرایس) اوراسدالدین اویسی کی مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) کے خلاف کانگریس وزیراعلیٰ آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی )اوربائیں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ محاذ بناکر انتخابات لڑرہی ہے۔ اس سے مسلم ووٹ کی تقسیم کا خطرہ توپیدا ہوہی گیاہے۔ گویاکہ اس صورت میں بھی سیاسی طورپر تلنگانہ میں مسلمان کمزورہوگا۔

 

 

 

 

سعید نقوی نے مختلف واقعات کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آج مسلمان خود کو اپنے وطن میں غیرمحسوس کررہاہے۔نقوی کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں 1989میں ہوئی شیلانیاس تقریب جوکہ 1992میں بابری مسجد کے انہدام کا باعث بنی، اس کتاب کی تصنیف کی محرک بنی۔ ان کے خیال میں یہ سب کچھ لکھنؤ اوراس کے اطراف میں سابق اودھ کے کلچرل راجدھانی رہے علاقے کے ہندو-مسلم کلچر کامرثیہ (ایلیجی) ہے۔وہ اپنی اس کتاب کے ابتدائیہ میں صاف طورپر یہ کہتے ہیں کہ جس رخ میں ملک جارہاہے، اس سے میری بڑھتی ہوئی مایوسی کی یہ سرگزشت ہے۔
اسی طرح ضمیر الدین شاہ اپنی آپ بیتی’ سرکاری مسلمان‘ میں کہتے ہیں کہ ’’ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں سرکاری مسلمان ہوں لیکن میں ایسا نہیں ہوں۔ دراصل سرکاری مسلمان دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک توسرکاری نوکر ہوتے ہیں جن پریہ الزام لگائے جاتے ہیں کہ یہ توسرکار کے آدمی ہیں اور اپنی قوم کی خدمت نہیں کریں گے۔دوسرے وہ جنہوں نے اپنا ضمیر بیچ دیاہے، جن کی پیدائش تومسلمان کے یہاں ہوئی تھی لیکن وہ اسلام کے خلاف لکھتے ہیں۔ جب میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تھاتب مسوری میں میری ملاقات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کچھ طلبا ء سے ہوئی جوگھوڑسوارکرتے تھے۔انہیں میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ فوج میں گھوڑسواری کی کتنی اہمیت ہے اوران طلبا ء کو فوج میں کمیشن (افسربننے) کی تیاری کرنی چاہئے۔ جب میری بات ختم ہوگئی اور میں نے ان طلباء سے پوچھا کہ کون کون نوجوان فوج میں جانا چاہتاہے توکسی نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آخر کیوں؟ توجواب میں سبھی نے یہی کہاکہ جناب آپ تو سرکاری مسلمان ہیں۔ ان کے کہنے کامطلب تھا کہ میں توسرکاری آلہ کار ہوں۔میں نے ان کی بات کو ہنس کرٹال دیا‘‘۔
لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ کو اس بات پرحیرت ہے کہ ’’جن فوجیوں نے ساتھ کام کیا وہ اب ہندو-مسلم پوسٹ ڈال رہے ہیں‘‘۔ ان کا یہ بھی کہناہے کہ جن مسلمانوں کو آگے بڑھنے کی چاہت ہے اورجن کے پاس اچھی تعلیم ہے، انہیں آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ مجھے اورمیرے بچوں کوکوئی روک نہیں سکا مگرہاں، کچھ ضرورمحسوس ہوتاہے ، خاص طورپر جب گئو رکشک لوگوں کو ماررہے تھے تومیں نے وزیراعظم کے نام خط لکھا تھا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کو بھی اس پردھیان دینے کیلئے لکھا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی، سماجی اورمعیشتی طورپر جوڈس امپاورمنٹ ہے، وہ کیسے دورہوگا۔ وہ تو تبھی دور ہوگا جب زندگی کے تمام شعبوں میں انہیں امپاورمنٹ حاصل ہوگا۔ اوراس کے لئے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اورلائحہ بنانا پڑے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *