جھارکھنڈ انتخابات بی جے پی کے لئے کتنا آسان، کتنا مشکل؟

جھارکھنڈ کی اپوزیشن پارٹی ابھی جہاں سیٹوں کی تقسیم کی رسہ کشی میں لگی ہوئی ہے، وہیں بی جے پی پوری طرح بوتھ سطح پر مضبوطی کی پالیسی پر کام کررہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں اسے گٹھ بندھن کے کسی ساتھی کی ضرورت نہیں ہے۔ گٹھ بندھن کی اتحادی پارٹیوں کی لوک سبھا کی کسی سیٹ پر دعویداری بھی نہیں ہے۔ ان کے ساتھ تال میل یا سیٹوں کی تقسیم کا سوال آئے گا بھی تو اسمبلی انتخابات کے وقت آئے گا۔ لوک سبھا انتخابات میں اگر اپوزیشن ووٹوں میں سیندھ لگانے کی پالیسی کی بنیاد پراتحادی پارٹی اپنے امیدوار اتاریں بھی تو بی جے پی کو فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ وہ اس کے لئے بہتر ہی رہے گا۔
یہی وجہ ہے کہ بی جے پی لوک سبھا انتخابات کی تیاری میں اکیلے لگی ہے اور گٹھ بندھن کی اتحادی پارٹیوں سے کوئی بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کررہی ہے۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں گوڈا اور دُمکا کو چھوڑ کر مزید 12 سیٹوں پر بی جے پی نے جیت کا پرچم لہرایا تھا۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے اب تک کے سابق وزراء اعلیٰ کے مقابلے میں ریاست کی ترقیاتی کاموں میں بہتر نمائش کی ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں عوامی حمایت کا پورا بھروسہ ہے۔
حال میں بی جے پی کے جھارکھنڈ ریاستی لوک سبھا انچارج ارون سنگھ جھارکھنڈ کے دورے پر آئے تھے۔ انہوں نے دو دنوں کی میراتھن بیٹھک کر کے سبھی 14 لوک سبھا حلقوں کا جائزہ لیا اور پالیسی بنائی۔ اس کے تحت سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کو بوتھ سطح پر بی جے پی کے حق میں جوڑنے کی پالیسی پر غور کیا۔ اس پالیسی کے تحت ہر بوتھ کمیٹی میں کارکنوں کے ساتھ کم سے کم 10 فائدہ اٹھانے والوں کو جوڑا جائے گا۔ اس طرح 10-15 ممبروں والی بوتھ کمیٹیاں اب 25 رکنی ہو جائیں گی۔ لوک سبھا انچارج ارون سنگھ نے بوتھ ڈھانچہ کے تعین میں کئے جارہے کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ لوک سبھا سطح کی میٹنگوں کی چرچا کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی پچھلے دو برسوں سے لوک سبھا انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔ جھارکھنڈ کے سبھی بوتھوں پر مضبوط ڈھانچہ کھڑا کیا جاچکا ہے۔
بی جے پی کے دعوے کے مطابق ، جھارکھنڈ میں سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی تعداد 57لاکھ ہے۔ پارٹی کی طرف سے اسمبلی حلقوں کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والوں کا سمینار ہو چکا ہے۔ اب اسے بوتھ سطح تک لے جانے کی تیاری ہے۔ بی جے پی کا کہناہے کہ جن دھن یوجنا، اجول یوجنا، اجالا یوجنا، پردھان منتری آواس یوجنا اور آیوشمان بھارت یوجنا سے گائوں کے غریب، کسان، دلت، استحصال شدہ، محروموں کو مین اسٹریم میں شامل کیا جارہاہے۔ غریب عوام ان پبلک فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھائے ہیں۔

 

 

 

ارون سنگھ نے ریاست کی رگھو ور سرکار کے کاموں کی تعریف کی۔ ان کے مطابق ریاستی سرکار فلاحی کاموں کے لئے لگاتار کام کررہی ہے ۔ عورتوں کے نام پر ایک روپے میں پچاس لاکھ تک کی رجسٹری ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ ویمن امپاورمنٹ کی سمت میں یہ ایک حوصلہ افزا کوشش ہے۔ ارون سنگھ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی سیٹوں میں اضافہ ہوگا اور لوک سبھا انتخابات میں جھارکھنڈ کی سبھی 14 لوک سبھا سیٹوں پر جیت کا جھنڈا لہرائے گا۔
گٹھ بندھن کے سوال پر ارون سنگھ کا کہنا تھا کہ بی جے پی سبھی اتحادی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ اعلیٰ ذات کی ناراضگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس بی جے پی کا بنیادی موقف ہے۔ جھارکھنڈ ریاستی بی جے پی کی میراتھن بیٹھک میں اپوزیشن لیڈروں اور ان کے اتحادیوں پر بھی جم کر نشانہ لگایا گیا۔
جھارکھنڈ میں اب تک کے لوک سبھا انتخابات پر نظر دوڑائی جائے تو بی جے پی کا سفر اتار چڑھائو سے بھرا رہاہے۔ ریاست کے قائم ہونے سے پہلے 1999 میں ہوئے 13 ویں لوک سبھا انتخابات میں ریاست کی14 سیٹوں میں بی جے پی کو11 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔ اس میں دھنباد، ہزاری باغ، رانچی، گریڈیہہ ، جمشید پور، سنگھ بھوم، کھونٹی، لوہر دگا، پلامو، گوڈا اور دمکا کی سیٹیں شامل تھیں۔ اس وقت جھارکھنڈ نامزد پارٹیوں کا صفایا ہوگیا تھا۔ جھارکھنڈ مُکتی مورچہ ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکا۔ کانگریس کو صرف کوڈرما اور راج محل سیٹ پر جیت حاصل ہوئی تھی جبکہ ایک سیٹ پر چیترا میں راشٹریہ جنتا دل کا پرچم لہرایا تھا۔
مگر 2004 میں 14 ویں لوک سبھا انتخابات میں بازی پلٹ گئی۔ بی جے پی کا لگ بھگ صفایا ہو گیا۔ صرف ایک کوڈرما سیٹ پر ہی بی جے پی انتخاب جیت پائی۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر بابو لال مرانڈی نے یہ سیٹ نکالی تھی لیکن یہ جیت بابو لال کی اپنی شخصیت اور اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم ہو جانے کے سبب ہوئی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ سی پی آئی ( مالے )کا گٹھ بندھن نہیں ہو پایا تھا۔
اس الیکشن میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ 211712 ووٹ لاکر دوسرے نمبر پر رہا تھا جبکہ مالے امیدوار راجکمار یادو 136554 ووٹ لاکر تیسرے مقام پر رہے تھے۔ اگر یو پی اے گٹھ بندھن میں مالے بھی شامل ہوتی تو 14ویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو جھارکھنڈ سے کوئی سیٹ نہیں ملتی۔ اس انتخاب میں جھاکھنڈ مکتی مورچہ نے چار سیٹوں پر انتخابات جیتے تھے، جن میں راج محل، دمکا، گریڈیہہ اور جمشید پور کی سیٹیں تھیں۔ کانگریس نے 6چھ سیٹوں پر انتخابات جیتے، جن میں گوڈا ، دھنباد ، رانچی، لوہر دگا ، کی سیٹیں بھی شامل تھیں۔ وہیں راشٹریہ جنتا دل نے دو سیٹوں چیترا اور پلامو پر کامیابی حاصل کی۔ سی پی آئی ایک ہزاری باغ سیٹ پر کامیاب ہوئی تھی۔

 

 

 

2009 میں 15ویں لوک سبھا میں بی جے پی کا مظاہرہ کچھ ٹھیک رہا۔ اسے راج محل، گوڈا ، گریڈیہہ، دھنباد، جمشید پور، کھونٹی، لوہر دگا اور ہزاری باغ یعنی 8 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ وہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے دو سیٹوں دمکا اور پلامو پر انتخاب جیتاتھا۔ تب بابو لال بی جے پی سے الگ ہوکر جھارکھنڈ وکاس مورچہ کی تشکیل کر چکے تھے۔ اپنی نو تشکیل شدہ پارٹی سے انتخاب لڑ کر کوڈرما سیٹ سے انہوں نے جیت حاصل کی تھی۔ صرف ایک سیٹ رانچی پر سبودھ کانت سہائے نے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہیں چیترا سیٹ سے اندر سنگھ نامزد اور سنگھ بھوم سیٹ سے مدھو کوڑا آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب جیتے تھے۔
2014 میں 16ویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے زبردست مظاہرہ کیا۔ تب مودی لہر نے تو کانگریس کا صفایا ہی کر دیا۔ صرف جھارکھنڈ مکتی مورچہ اپنی دو سیٹیں راج محل اور دمکا بچانے میں کامیاب رہا۔ باقی 12 سیٹوں پر بی جے پی کے امیدواروں نے انتخاب میں جیت حاصل کی۔
اب 2019کے انتخابات میں بی جے پی سبھی 14سیٹوں پر جیت کے دعوے کررہی ہے اور اسی کے مطابق انتخابی تیاری بھی کررہی ہے۔ اس کی پوری کوشش ہے کہ مہاگٹھ بندھن نہ بن پائے اور انتخاب سہ رخی ہو۔ دوسری طرف بوتھ مینجمنٹ پر اس کا پورا زور ہے۔ مہا گٹھ بندھن کا معاملہ ابھی اسمبلی کی سیٹوں میں قیادت کے سوال میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے لوک سبھا کی تصویر بھی صاف نہیں ہو پارہی ہے۔درگا پوجا کا تہوار گزر چکا ہے ۔ اب نئے سرے سے بات ہونی ہے۔
بہر حال بی جے پی کی پالیسی کیا رنگ لائے گی اور اپوزیشن اس کے چکر ویو کو کس حد تک توڑ پائے گا۔ اس پر کوئی اندازہ لگانا فی الحال جلد بازی ہوگی۔ جیت ہار اپنی جگہ ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ تیاری کے معاملے میں بی جے پی اپوزیشن پارٹیوں سے کئی قدم آگے چل رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *