جسٹس کاٹجو کا سوال کیسے ختم ہو آسام کا انسانی بحران

سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے ان اصحاب الرائے میںسے ہیں جن کی کسی بات سے کوئی اختلاف کرسکتا ہے مگر وہ انھیںنظرانداز نہیںکرسکتا ہے۔ ابھی حال میںاپنی ایک تحریر میں انھوںنے این آر سی کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے، وہ بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ این آرسی 1985 میںہوئے آسام معاہدے تک پہنچنے والی کل آسام طلباء یونین کی قیادت میں بپا ایجی ٹیشن کے دباؤ میں بنایا گیا تھااور مذکورہ معاہدہ اور اس سے منسلک این آرسی ان غیر ملکی شہریوں کو ہندوستانی شہریت فراہم کرتا ہے جنھوں نے آسام میں 24 مارچ یا اس کے پہلے مائیگریٹ کیا، یہ ان لوگوںکو شہریت فراہم نہیںکرتا ہے جو کہ اس کے بعد یہاںآئے ۔
اس تناظر میںجسٹس کاٹجو کا یہ سوال بڑا ہی فکر انگیز ہے کہ کیا آسام معاہدے کے اس پروویژن سے یہ خطہ پرامن اور خوشگوار بن جائے گا؟وہ یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیںکہ فرض کیجئے کہ 20 برس کی عمر کا ایک شخص 1972 میں ہندوستان میں داخل ہواتھا، جس کی عمر اب 67 برس کی ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ دادا بھی بن گیا ہو۔ کیا اسے بھی ڈیپورٹ کردیا جائے گا یعنی ملک سے باہر نکال دیا جائے گا؟ اگر بنگلہ دیش اسے قبول نہیں کرتا ہے تب وہ کہاں جائے گا؟ اور جب اس طرح کے تارکین وطن کی آئندہ کی نسل تک معاملہ پہنچتا ہے تب وہ اور بھی زیادہ الجھ جاتا ہے۔

 

 

 

پیدائشی شہریت
1950میںبنے قانون شہریت کے سیکشن 3 کی رو سے ہندوستان میںپیدا ہوئے تمام لوگ خود بخود ہندوستانی بن جاتے ہیں، خواہ ان کے والدین کی شہریت کچھ بھی ہو۔ لہٰذا اگر والدین میںسے دونوں غیر ملکی ہیں تو بھی ہندوستان میںپیدا ہوا شخص ہندوستانی شہری ہوگا۔ یہ امریکی آئین میںاختیار کی گئی پوزیشن کی طرح ہے جہاں ایک شخص ملک میںصرف پیدا ہونے کے سبب امریکہ کا شہری بن جاتا ہے ، اس حقیقت کے باوجود کہ اس کے والدین غیر ملکی ہیں یا ان کی حیثیت غیر قانونی ہے۔
1986میںآسام ایجی ٹیشن کے دباؤ میں راجیو گاندھی حکومت کے ذریعہ شہریت قانون میںترمیم کی گئی اور پھر اسے پارلیمنٹ سے پاس کرایا گیا۔ اس کے مطابق، 26 جنوری 1950اور یکم جولائی 1987 کے درمیان ہندوستان میںپیدا ہوا کوئی بھی ہندوستان کا پیدائشی شہری بن جاتا ہے اگرچہ اس کے والدین میں سے دونوں یہاں کے شہری نہ بھی ہوں۔ اس طرح جو بھی افراد یکم جولائی 1987یا اس کے بعد یہاںپیدا ہوئے، وہ یہاں کے شہری تبھی بن پائیںگے جب ان کے والدین میںسے کم از کم ایک ہندوستانی شہری رہے ہوں۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس ترمیم کا مقصد یہی تھا کہ جن افراد کے والدین میں سے دونوں قانونی یا غیر قانونی طور پر تارکین وطن تھے، انھیںہندوستان میں پیدا ہونے کے باوجود شہریت نہ دی جائے۔ 2003میںمرکز میںبرسراقتدار واجپئی حکومت نے قانون شہریت میںایک اور ترمیم کی جس کے تحت 3دسمبر 2003 کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوئے وہ افراد بھی پیدائشی ہندوستانی شہری بننے کے مستحق ہوگئے اگر ان کے والدین میںسے دونوں شہری ہیں یا ان میںسے ایک بھی شہری ہے اور دوسرا ’غیر قانونی‘ تارک وطن نہیںہے۔ اس سے تو پیدائشی طورپر شہریت کا پروویژن بہت سخت اور دشوار کن ہوجاتا ہے۔
قانونی حیثیت
لہٰذا سوال یہ ہے کہ ان متواتر ترمیمات کے پیش نظر آسام میںپیدا ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ 1987 سے قبل ہندوستان میں پیدا ہوئے بچے تو خود بخود ہندوستانی شہری تب بھی بنیںگے جب ان کے والدین ’غیر قانونی‘ تسلیم کیے جائیں۔ کسی ہندوستانی سے شادی کیے غیر قانونی تارک وطن کے بچے بھی ہندوستانی مانے جائیںگے اگر وہ یکم جولائی 1987 اور دسمبر 2003 کے درمیان بھی پیدا ہوئے ہوں۔ مگر 3 دسمبر 2003 کے بعد ’غیرقانونی‘ تارک وطن والدین سے پیدا ہوئے بچے ہندوستانی شہریت سے محروم ہوں گے۔ یہیںپر سوال ہے جسٹس کاٹجو کا کہ آخر وہ کہاںجائیں ؟ بنگلہ دیش تو انھیںقبول نہیںکرے گااور اگر وہ انھیںقبول کر بھی لیتا ہے تو انھیںوہاں ان کے پاس کوئی گھر نہیںہوگا۔ اگر دوسری طرف انھیں آسام میںرہنے کی اجازت بغیر شہریت کے مل بھی جاتی ہے، تب بھی وہ غیر قانونی صورت حال میں رہیںگے اور ان کے سر پر ’ڈیپورٹیشن‘ یا باہر نکالے جانے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔
یہاںماہر قانون جسٹس کاٹجوکا یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ یہ مسئلہ قانونی ہے یا انسانی؟ اس تعلق سے وہ یہ بتاتے ہیںکہ انھوں نے اس تعلق سے چند آسامی نوجوانوںے بات بھی کی مگر وہ تو اپنے موقف پر بضد ہی نہیںبلکہ بڑی حد تک جنونی ہیں اور ان کا سیدھا سا موقف ہے کہ ’ان دراندازوں کو جتنا جلد ممکن ہوسکے آسام سے باہر نکال پھینکئے۔ جب ان سے یہ دریافت کیا گیا کہ وہ پھر کہاں جائیں تو ان کا کہنا ہے کہ یہ سوچنا ان کا کام نہیںہے، ’’وہ غیر قانونی ہیںاور انھیںباہر نکلنا ہی ہے۔ اگر ان سے کسی کو ہمدردی ہے تو وہ انھیںاپنے گھریا ریاست لے جائے لیکن آسام میںان کے لیے کوئی خالی جگہ نہیں ہے۔‘‘

 

 

 

 

جسٹس کاٹجو بتاتے ہیں اس معاملے کے قانونی پہلو پر غور کرتے وقت انھیں سپریم کورٹ میں ججی کے وقت کا ایک مقدمہ یاد آتا ہے جو کہ ممبئی کی جھگی جھونپڑی میںغیر قانونی قبضے سے متعلق تھا۔ تب میری بینچ کے ایک رفیق چلائے ’’آپ کو وہاں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، لہٰذا آپ وہاں سے فوراً نکل جائیے۔‘‘ اس پر میںنے کہا کہ ’’مگر کہاںجائیں ؟ کیا انھیں سمندر میںپھینک دیا جائے؟ یہ انسانی مسئلہ ہے، نہ کہ قانونی۔‘‘ جسٹس کاٹجو کا یہ کہنا تھا کہ ممبئی میںسبھی لوگ ہندوستانی تھے جو کہ ملک کے مختلف مقامات سے آئے تھے اور وہ بنگلہ دیش جیسے ملک سے نہیںآئے تھے۔ مگردنیا بھر میںلوگ غربت یا جنگی خطہ یا کسی اور سبب سے کسی مناسب دستاویز کے غیر ملک جاکر پناہ لے لیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، امریکہ میں 11 ملین میکسیکو کے تارکین وطن بغیر کسی دستاویز کے رہ رہے ہیں۔ جب جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکی حکام انھیں نکال باہر نہیں کرسکتے ہیں تو پھر ہمارے حکام کس طرح ایسا کرنے کے لیے تجویز بناسکتے ہیں؟ سرحد لمبی اور غیر محفوظ ہے۔ کیسے وہاںکوئی دیوار بنائی جاسکتی ہے جیسا کہ وزیر اعلیٰ سربانندا سونووال نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا؟
شہریت ترمیمی بل 2016 کا مسئلہ بھی اپنی جگہ ہے جو کہ ابھی تک قانون کی شکل نہیںلے پایا ہے۔ اس میںکئی دشواریاں ہیں کیونکہ یہ 24 مارچ 1971کے بعد بھی آسام آئے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت فراہم کرے گا۔ اس فرق و امتیاز کے لیے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ ہندو اوربدھسٹ بنگلہ دیش میںاقلیت میںہیں اور وہ مذہبی دباؤ سے بچنے کے لیے ہندوستان بھاگ کر آئے لیکن بنگلہ دیش میںمسلمان اکثریت میں ہیں، لہٰذا ان کے بارے میںیہ بات نہیںکہی جاسکتی ہے۔
جسٹس کاٹجو یہ خیال ہے کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمان مجموعی طور پر بی جے پی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں اور اس لیے انھیںشہریت فراہم کرنا بی جے پی کے مفاد میںنہیںہے۔ بہت سے آسامی بشمول آسام گن پریشد(اے جی پی) کے سربراہ پرفل مونہنتا 24مارچ 1971 کے بعد آسام میںآئے کسی بھی تاریک وطن خواہ وہ ہندوہو یا مسلمان، کو شہریت دینے کے خلاف ہیں اور بل کے خلاف ایجی ٹیشن بھی آسام و دیگر شمال مشرقی ریاستوں میںہورہے ہیں۔
لہٰذا ماہر قانون جسٹس کاٹجو کے الفاظ میںاس مسئلے میںقانونی اپروچ لینا زیادہ تناؤ، عدم تحفظ اور تشویش پیدا کرے گا اور صورت حال مزید بدتر ہوگی اور این آر سی آسام کے انسانی بحران کو حل نہیں کرسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *