گردوارہ بنا دوستی کا ذریعہ 

Share Article

پاکستان میں موجود ایک گردواہ دونوں ملکوں کے بیچ دوستی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کی طرف سے ایک مثبت پیش رفت نے اسے اور مضبوط کردیا ہے۔دراصل ہندوستان کی کابینہ نے ہندوستانی سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گرودوارہ دربار صاحب تک ہندوستانی یاتریوں کو رسائی دینے کے لیے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔پاکستان نے ہندوستانی کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم دونوں ممالک میں امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے۔یہ راستہ بنانے کا مقصد ان ہندوستانی یاتریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو پاکستانی علاقے میں دریائے راوی کے کنارے واقع گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کے لیے جانا چاہتے ہیں۔پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی کابینہ کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے کے حوالے سے پاکستانی تجویز کی تائید دونوں ممالک کی امن کی خواہشمند لابی کی جیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایسے اقدامات سے سرحد کی دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کی ہندوستانی سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے ہندوستان کے ڈیرہ صاحب ریلوے اسٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی سرحد ہے۔

گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔کرتارپور کا گرودوارہ سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔گرو نانک نے اپنی 70 برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا اور کرتارپور میں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔
یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو خاص طور پر سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے ایسی زیارت کے خواہش مندوں کے لیے سرحد پر ایک’درشن استھل‘ قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدار کرتے ہوئے اپنی عبادت کرتے ہیں۔ 1947 میں تقسیم کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔ پھر تقریباً اٹھارہ برس قبل اسے کھولا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *