دیہی وشہری کاروبارکیلئے سرکاری سرمایہ کاری ضروری

پچھلے کچھ سالوں سے امریکی معیشت میں سدھار کا رجحان جاری ہے۔اس سال بھی امریکی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔اس وجہ سے ہرچھوٹے-بڑے کاروبار کیلئے سرمایہ کی دستیابی بڑھی ہے۔
فیڈرل ریزرو نے 2017کی اپنی رپورٹ میں کہاتھا کہ چھوٹے کاروباریوں تک قرض کی فراہمی میں سدھارہواہے۔حالانکہ یہ فراہمی اقتصادی بحران کے پہلے کی سطح سے نیچے ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ چھوٹے کاروبار کیلئے سرمایہ کی دستیابی ایک برابر نہیں ہے۔ملک کے دیگرحصوں کے مقابلے میں کچھ خاص شہری اوردیہی علاقوں کے کاروبارتک قرض کی فراہمی کم ہورہی ہے۔
یہ ایک بری خبرضرور ہے، لیکن اچھی خبریہ ہے کہ ایسے حالات سے نمٹنے کیلئے اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن ( ایس بی اے) نے مالی سال 2018-2022کیلئے اپنی حکمت عملی بنالی ہے اوراپنا ہدف طے کرلیاہے۔اس ہدف کے تحت سماجی اوراقتصادی طورپر محروم شہری کمیونٹیوں اوردیہی علاقوں کیلئے قرض کی فراہمی میں مالی سال2017کی بیس لائن پر 30 ستمبر 2019 تک 5فیصد کا اضافہ کرناہے۔
اس ہدف سے متعلق پالیسیوں میں مندرجہ ذیل نقطہ شامل ہیں:(1)جب روایتی قرض دستیاب نہیں ہوں توچھوٹے کاروباریوں اورابھرتے بازاروں میں پونجی کی فراہمی بڑھانا۔ (2)ناکافی فراہمی والے چھوٹے کاروباروں میں سرمایہ کاری کی فراہمی کرنا۔ایس بی اے مصنوعات کے نیٹ ورک کومضبوط بنانااورتوسیع کرنا۔
دراصل یہ ٹھوس پالیسیاں ایس بی اے کی دستاویزمیں شامل ہیں، جس کا عنوان ہے ایس بی اے ریمائی گن :پاورنگ دی امریکن ڈریم،دستاویزکے کورپر دئے گئے اپنے پیغام میں ایس بی اے منتظم لنڈا ای۔میکمیہون کہتی ہیں: یہ ایس بی اے کے ذریعے جدید دورکی طرف اٹھایاگیا پہلاقدم ہے۔
ہماری تجویزہے کہ ایس بی اے اپنے ’’ریویلیوشن ایجنڈے‘‘ میں اضافی نقطے شامل کرنے پر غورکرے۔یہ تجویزہے سماجی اوراقتصادی طورسے محروم شہری کمیونٹیوں اوردیہی علاقوں میں چھوٹے کارباریوں کو براہ راست قرض دینے کی حکمت عملی کی۔اس تجویزکو ایک ریڈیکل تجویزکے طورپردیکھاجاسکتاہے، کیونکہ قانوناً ایس بی اے کا بنیادی کردار قرض ضمانتدار ہے نہ کہ قرض دہندہ کا۔ ایس بی اے کو سیدھے قرض دہندہ کے کردار میں لانا اس کے کام کے شعبے کو بڑھانا ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایس بی اے پہلے سے ہی بڑے پیمانے پربراہ راست قرض دہندہ کے کردار میں آگیا ہے۔یہ ادارہ قدرتی آفت میں تباہ کن برادریوں کو تباہی کے قرض فراہم کر رہا ہے۔ایس بی اے کی ایڈمنسٹریٹر کے طورپراپنا پہلاسا ل پورا ہونے کے بعد لنڈا میکمیہون نے ایک انٹرویو میں ایس بی اے کے ذریعے جاری کئے گئے ڈیزاسٹر لون کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا کہ ادارہ کے کام کواچھی طرح سے خفیہ رکھاگیاہے۔

 

 

 

ہاروے، ارما اورماریا طوفانوں کے باعث 2017میں آئی تباہی کے بعد ایس بی اے نے اس سال چھوٹے کارباروں، غیرمنافع بخش اداروں ، مکان مالکوں اورکرائے داروں کے 141,000معاملوں میں تقریباً 7.2ارب ڈالر سے زائد کے قرض کی منظوری دی تھی۔ حالانکہ 2018کے اعدادوشمار نہیں آئے ہیں، لیکن فلورینس کی وجہ سے آئے بھیانک سیلاب اورمائکل کے ذریعے کی گئی تقریباً مکمل تباہی کودیکھتے ہوئے کہاجاسکتاہے کہ ایس بی اے کے ذریعے جاری کئے گئے قرض کی رقم کافی بڑی ہوگی۔
اگر آفت قرض کے طورپر دیکھاجائے توتقریباً 80فیصد قرض مکان مالکوں اور کرائے داروں کوگئے ہیں جبکہ باقی کاروباریوں اور غیر منافع بخش اداروں کو۔ جہاں تک ایس بی اے کے ملازمین کی تعداد کا سوال ہے تومالی سال 2017کے اخیر تک ادارہ کے پاس ڈیزاسٹر سپورٹ مینجمنٹ کیلئے 1,300سے زائدکل وقتی وقف ملازم تھے۔اس کے علاوہ تباہی کے وقت 4000اور عام سالوں میں 1,000-1,500فل اورپارٹ ٹائم ملازم کام کرتے ہیں۔
قدرتی آفت کے وقت سرکار کیلئے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ وہ آفت قرض خود پیش کرے، کیونکہ نجی سیکٹر قرض دہندہ آفت کے وقت دور کھڑے تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ماضی میں کانگریس کے ذریعے قانون منظورکرکے نجی سیکٹر میں آفت قرض میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن کئی وجوہات سے نجی سیکٹر اس میں شامل نہیں ہوسکا اورایس بی اے کو یہ بوجھ اپنے کندھوں پراٹھانا پڑا۔
اگرسماجی اور اقتصادی طورپر محروم اداروں میں چھوٹے کاروباریوں کوقرض دینے کی بات کریں تو یہاں پرائیویٹ سیکٹر پیچھے نظرنہیں آتاہے، لیکن اس کی حصہ داری بہت معمولی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر نے ان شعبوں کیلئے معمولی وسائل وقف کئے ہیں اورمستقبل میں بھی یہی صورتحال بنی رہنے کے ہی اثار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایس بی اے کے ذریعے سماجی اوراقتصادی طورسے محروم شہری کمیونٹیوں اور دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کو براہ راست قرض دینا ضروری ہے۔دراصل یہ کاروبارجہاں واقع ہیں وہاں انہیں تباہ کن علاقوں کے برابر نقصان ہواہے۔ یہ نقصان قدرتی یا حادثاتی واقعات کی وجہ سے نہیں ہواہے، بلکہ ایک توسیع مدت میں اقتصادی اورسماجی کشیدگی کی وجہ سے ہواہے۔

 

 

 

ایس بی اے کونقصان دہ علاقوں میں آفت کی صورت میں سب سے پہلے قرض دہندہ ہونا چاہئے ۔ان چھوٹے کاروباروں کو براہ راست قرض دینا چاہئے تاکہ وہ اپنے کاروبار کودوبارہ بحال کرسکیں۔یہ قرضے پہلے سے موجود گھریلوکاروباروں اور اسٹارٹ -اپ انٹرپرائزکوبھی جانا چاہئے تاکہ وہ اپنے سیکٹر میں تجدید توانائی کی مواصلات کر سکیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے لکھاہے ، یہ قرض ایک انٹیگریٹڈ پہل کا حصہ ہونا چاہئے۔ اس پہل کے لئے اسکیم سازی اورسرگرمی معاملات کے ہر پہلو کے منظم اورسخت جانچ کے بعد کی جانی چاہئے۔اسے بیسٹ پریکٹس انویسٹمنٹ ماڈل کی بنیاد پرقائم کرنا چاہئے۔ بیسٹ پریکٹس میں مختلف انٹرپرائز ، امپاورمنٹ زون اور پچھلے سالوں میں لاگو دیگر ٹارگیٹیڈ سرکاری پروگراموں سے حاصل تجربوں کوشامل کرنا چاہئے۔
اپنی ویب سائٹ پر ’’ایکسیس ٹوکپیٹل (سرمایہ کی فراہمی)‘‘ کے عنوان کے تحت ہاؤس اسمال بزنس کمیٹی نے یہ تبصرہ کیا۔ سماجی اور اقتصادی طورسے محروم شہری اوردیہی سیکٹروں میں چھوٹے کاروباروں کو براہ راست قرض کی فراہمی ایندھن کا کام کرے گا جس کے سہارے وہ اپنی تجارت کوشروع کرسکیں گے اور تیز رفتار سے چلاسکیں گے اوراپنی کمیونٹیوں کی خدمت کرسکیں گے اورکامیاب مستقبل کیلئے اپنے بزنس کو بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *