ہاشم پورہ متاثرین کو ملا انصاف

31 اکتوبر ، تاریخ میں اولین نائب وزیر اعظم سردار بلبھ بھائی پٹیل کے یوم پیدائش اور تیسری وزیر اعظم اندرا گاندھی کے یوم ہلاکت کے طور پر جانا جاتا ہے مگر اب اس لئے بھی جانا جائے گا کہ اس سال اسی روز دہلی کی عدالت عالیہ نے اپنے 730 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں 31 برس سے زائد عرصہ پرانے بدنام زمانہ ہاشم پورہ قتل عام میں پی اے سی کے 16 جوانوں کو مجرم قرار دیا اور سزائے عمر قید بھی سنائی۔اس تعلق سے اس نے دہلی کی تیس ہزاری عدالت کے ذریعے 21 مارچ 2015 کو پی اے سی کے تمام 16 جوانوں کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری الذمہ قرار دینے کے فیصلہ کو رد کردیا۔
عیاں رہے کہ 22-23 مئی 1987 کی اندھیری شب میں پہلے مراد نگر میں گنگ نہر اور بعد میں غازی آباد میں ہنڈن ندی میں میرٹھ کے ہاشم پورہ محلہ سے 42سے 45 بدنصیب و بے گناہ افراد کو پی اے سی کی ٹرک نمبر URU1493میں لاکر گولیوں سے بھون کر پھینک دیا گیا تھا۔ ان میں سے جو بری طرح زخمی ہوکر بھی بچ گئے تھے، وہ ذوالفقار ناصر، محمد نعیم، مجیب الرحمن ، باب الدین اور محمد عثمان تھے۔ گرچہ ان ہنوز زندہ بچے افراد جو کہ دہلی ہائی کورٹ میں چلے اس معاملے میں پر وزیکوشن ویٹ نیس تھے(پی ڈبلیو ) اور ہلاک شدگان کے اعزہ و اقارب نے اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس قتل عام کو انجام دینے والوں کو عدالت عالیہ نے مجرم قرار دیا مگر انصاف ملنے میں 31 برس کی تاخیر اور سزا کی نوعیت پر انہوں نے سوال کھرے کئے۔ ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ جب قتل عام ثابت ہوگیا تو اس کے بدلے سزائے موت کیوں نہیں؟

 

 

 

یہ یقینا افسوسناک بات ہے کہ محافظین معصوم انسانی جانوں کے شکاری بن گئے اور ان دنوں ریاست اور مرکز کی کانگریس حکومتیں اس گھنائونے اور ظالمانہ حرکت سے انکار کرتی رہیں۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں صاف طور پر اسے نکارا گیا۔ اس وقت کے پی ایم راجیو گاندھی میرٹھ فسادات کے متاثر علاقوں میں گئے مگر ہاشم پورہ نہیں گئے اور یہی حال اس وقت ریاستی وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ کا رہا۔ بعد ازاں مختلف پارٹیاں حکومت میں آئیں جن میں بہو جن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی اور بی جے پی شامل ہیں، کسی نے بھی عدالت میں معاملے سے متعلق ضروری اقدامات نہیں کئے اور پھر ساڑھے تین برس قبل دہلی کی ایک نچلی عدالت نے ثبوت کی عدم فراہمی کے سبب پی اے سی کے متعلقہ ملزمین کو بری کردیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس دوران یہ ملزمین ملازمت بھی کرتے رہے اور اب جب دہلی ہائی کورٹ نے تیس ہزاری عدالت کے فیصلہ کو الٹ دیا ہے، ان میں سے بیشتر پارٹیاں موجودہ فیصلہ کے لئے کریڈٹ لے رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اس تعلق سے دہلی ہائی کورٹ میں اس قتل عام میں زندہ جاوید بچے اُس وقت 17 سالہ ذوالفقار ناصر اور حکومت اترپردیش کی اپیلوں نیز ،قومی حقوق انسانی کمیشن و دیگر گروپوں اور اُس وقت لوک دل جنرل سکریٹری اور اب بی جے پی رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر سبرامنین سوامی کی درخواستوں کے تعلق سے فیصلہ اب سنایا گیا ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر سوامی کی اس درخواست کو تو نہیں مانا کہ اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ پی چدمبرم کے ہاشم پورہ معاملے میں مبینہ کردار کے بارے میں مزید جانچ کی جائے۔ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ دہلی ہائی کورٹ نے 1987 میں ہاشم پورہ جینو سائیڈ کیس میں 16 پی اے سی جوانوں کو تیس ہزاری اسپیشل کورٹ کے ذریعے بری کئے جانے کے فیصلہ کو کنارے لگائے جانے کی میری درخوست کو قبول کرلیا ہے ۔ میری وکیل رمنی تنیجا نے عدالت میں میرے کیس کی حیرت انگیز وکالت کی‘‘۔

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر سوامی جو کہ اُن دنوں لوک دل کے نائب سدر اور سابق نائب وزیر قانون محمد یونس سلیم کے ساتھ ہاشم پورہ قتل عام کے بعد جائے واردات مرادنگر پہنچے تھے۔ اس وقت راقم الحروف بھی وہاں بحیثیت صحافی ان کے ساتھ تھا۔ ڈاکٹر سوامی نے مراد نگر میں لاشوں پر کھڑے ہوکر اس پورے سانحہ کو ’ اسٹیٹ اسپانسرڈ جینو سائیڈ ‘ کہا تھا۔ جب وہیں پر موجود یونس سلیم سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ واقعی اسٹیٹ اسپانسرڈ جینو سائیڈ ہے،تواس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ جینو سائیڈ نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟دونوں کے انٹرویوز تصاویر کے ساتھ انگریزی ہفتہ وار’ریڈیئنس‘(21تا 27جون 1987) کی فائل میں موجود ہیں۔ ڈاکٹر سوامی اور یونس سلیم نے اپنے دورے کے دوران شب میں مراد نگر میں مرحوم حکیم ذاکر حسین کی رہائش گاہ پر عوامی عدالت بلائی تھی اور پوری شب لوگوں کے تاثرات سنے تھے۔ اس نشست میں ذوالفقار ناصر کو فرسٹ ایڈ دے کر جان بچانے والے حکیم صاحب کے صاحبزادے مرحوم ڈاکٹر خالد ہاشمی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر سوامی اسی کے بعد سے یہ الزام لگاتے آرہے ہیں کہ اس پوری سازش میں پی چدمبرم اور وزیر اعلیٰ( آنجہانی )ویر بہادر سنگھ کا ہاتھ ہے۔
ہاشم پورہ سانحہ کے زندہ بچے پانچوں افراد اور 38 مہلوکین کے رشتہ داران اس بات پر خوش ہیں کہ بالآخر ایک نا انصافی کو دہلی ہائی کورٹ نے مان لیا۔ ذوالفقار ناصر کہتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ (تیس ہزاری عدالت ) کا ساڑھے تین برس قبل کا فیصلہ بہت ہی مایوس کن تھا۔ کم از کم اب ہائی کورٹ نے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ قتل عام ہوا تھا۔ راقم الحروف ذوالفقار ناصر سے ساڑھے 31 برس قبل خصوصی انٹرویو لے چکا ہے جس کے دوران وہ ایک تصویر میں اپنے جسم پر لگی بندوق کی گولیوں کے نشان دکھارہے ہیں۔
ہاشم پورہ سانحہ میں کل 43افراد تھے جن میں 5افراد بری طرح زخمی ہو کر بھی زندہ بچ گئے تھے، باقی 11 افراد کی لاشیں شناخت کرلی گئیں اور 22 لاشیں غیر شناخت شدہ رہیں۔ اس کے علاوہ 5 افراد کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ان دنوں میرٹھ کے آر ایس کوشک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پریس کانفرنس بلاکر بیان دیا تھا کہ مہلوکین بشمول بزرگ محمد یاسین اورنوجوان ذوالفقار ناصر ہاشم پورہ کے رہنے والے ہیں ہی نہیں۔ تب راقم الحروف نے وہاں جاکر محمد یاسین کے گھر کے دروازہ پر ان کے نام کی تصویر لی تھی اور ان کے گھر والوں سے بات بھی کی تھی۔ نیز ذوالفقار ناصر کے والد اور دادا کے ساتھ مہلوک قمر الدین کے والد جمال الدین سے بھی تفصیلات جانی تھی اور ذوالفقار ناصر کے اسکول کی پروگریسو رپورٹ بھی ہاشم پورہ کے پتے کے ساتھ حاصل کرکے چھاپی تھی۔ اب 81برس کی عمر کو پہنچے جمال الدین کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا واقعہ ایک سازش کے نتیجے میں ہوا تھا۔ ایک فوجی کے نوجوان بیٹے کو میرٹھ میں ان دنوں ہورہے فساد کے دوران کسی سماج دشمن عناصر نے ہلاک کردیا تھا اور پھر اسی کے دوسرے روز 22مئی کو جمعہ کی نماز کے بعد ہاشم پورہ محلہ میں ہائوس سرچ کیا گیا اور پھر تقریباً 600 افراد کو محلہ کے باہر اور گلمرگ سنیما کے سامنے گھٹنے ٹیکا کر بیٹھایا گیا اور اس کے بعد انہی میں سے 43 افراد کو پی اے سی کی ٹرک میں مراد نگر کی جانب لے جایا گیاجبکہ باقی افرد کو پولیس لائن لے جایا گیا۔
بہر حال یہ قابل اطمینان بات ہے کہ 31برس بعد اس قتل عام کے واقعہ میں انصاف ملا اور پی اے سی کے اہلکاروں کو مورد الزام ٹھہرا کر سزائے عمر قید سنائی گئی۔ اس ضمن میں عدالت عالیہ کا فیصلہ تاریخی اور غیر معمولی ہے۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور ونود گوئل کی بینچ نے کہا کہ ’’ موجودہ کیس میں متاثرین کو کسی بند جگہ پر نہیں لے جایا گیا مگر انہیں غیرقانونی طور پر تحویل میں لیا گیا، پی اے سی ٹرک میں رکھا گیا اور دو مقام پرلے جایا گیا اور اپنے سروں کو جھکا کر رکھنے کو کہا گیا اور ہلنے تک کی اجازت نہیں دی گئی ‘‘۔

 

 

 

عدالتی فیصلہ میں آگے کہا گیا کہ ’’ اس عدالت کے لئے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے یہ ثبوت کافی ہے کہ وہ لوگ ملزمین کے ذریعے غیر قانونی کسٹڈی میں رکھے گئے ،یہ دکھاتے ہوئے کہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں کو پورا کررہے ہیں جبکہ درحقیقت وہ لوگ صاف طور پر غیر قانونی عمل کررہے تھے۔ متاثرین کی اس کیس میں اموات کسٹوڈئیل اموات ہیں۔ ہائی کورٹ نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ( این ایچ آر سی ) کی اس بات کا نوٹس لیا کہ اس طرح کی کسٹڈی ، جیل یا لاک اپ سے آگے کی بات ہے۔ این ایچ آر سی نے ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ متعدد متاثرین کے ورثاء میں عورتیں ہیں جو کہ ناخواندہ ہیں یا قانونی نکات سے بے خبر اور ناواقف ہیں۔ مذکورہ کمیشن نے بحث کی تھی کہ صرف زر مبادلہ کی اسکیم سے مقصد پورا نہیں ہوگا جب تک کہ راحت کے مستحق افراد کو ان کے حقوق سے واقف نہ کرایا جائے اور ان کی پہنچ وہاں تک نہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ کمیشن کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ہر اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو کسٹوڈئیل ہلاکتوں یا اسٹیٹ کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کے معاملہ میں متاثرین کے خاندانوں کی ضروریات کو نمٹانے کے لئے ایک نوڈل آفیسر مقرر کرنا چاہئے اور اس سلسلے میں لاگو ضابطہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس طرح کے متاثرین یا خاندان کی پہنچ اسکیم کے تحت راحت تک ہوسکے اور وہ اسے مانگ بھی سکیں اور پھر اس طرح کی راحت مالی زرمبادلہ تک محدود ہو کر نہ رہ جائے بلکہ اس طرح کے خاندانوں کے بنیادی وجود اور وقار کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے راحت تک بھی پہنچے ۔
دہلی ہائی کورٹ نے سچائی جاننے کے لئے متاثر کے حق کا بھی حوالہ دیا اور سچائی کے لئے حق کو حق انصاف کے جز کے طور پر جاننے کی بات کی۔ آخر میں عدالت عالیہ کی اس معاملہ میں یہ بات بہت اہم ہے کہ پی اے سی کے ظالمانہ اور ہڈی یخ بستہ کارروائی کے نتیجہ کے طورپر موت کے منہ میں گئے متاثرین کے اعزہ و اقارب متاثرین کے بارے میں ہی صرف نہیں بلکہ معاملہ کی جانچ کرنے اور سچائی کو بے نقاب کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے تعلق سے بھی تاریکی میں رہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ پر اس سانحہ کے وقت غازی آباد کے ایس پی ویبھوتی نرائن رائے جنہوں نے 31 برسوں سے لگاتار اس معاملہ کو اٹھایا اور اس تعلق سے ایک کتاب بھی لکھی، کا پی اے سی کے 16 اہلکاروں کو سزائے عمر قید دیئے جانے پر دو ٹوک تبصرہ ہے کہ ’’یہ سب تو چھوٹے ملازم ہیں، بڑی مچھلی تو بچ گئی ‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ ان افراد کا خود کا لیا گیا فیصلہ نہیں ہوسکتا، یہ تو کسی کے حکم پر ہی ہوا ہوگا۔لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ اس کا حکم کس نے دیا؟۔

سزائے عمر قید پائے پی اے سی کے 16 جوان
ہاشم پورہ قتل عام میں چارج شیٹ پی اے سی کی سی کمپنی کے 19 اہلکاروں کے خلاف فائل کی گئی تھی جن میں سے پلاٹون کمانڈر سریندر پال سنگھ، اوم پرکاش شرما اور کوش کمار سنگھ کا اس دوران انتقال ہو گیا۔لہٰذا بقیہ 16 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ان میں سے چار ایسے افراد نرنجن لعل، سمیع اللہ ، مہیش پرساد سنگھ اور جئے پال سنگھ شامل ہیں جو کہ گواہ (ڈی ڈبلیو – 1 )گلیش علی (ان دنوں پی اے سی کی 41ویں بٹالین غازی آباد میں میس منشی کے عہدہ پر فائز) کے مطابق ہاشم پورہ سے میرٹھ پولیس لائن (اور پھر مراد نگر ) لے جائی جارہی ٹرک سے پہلے وہ نیچے اترے اور پھر صوبیدار سریندر پال نے مذکورہ بالا چاروں افراد کو بھی نیچے اترنے کی ہدایت دی اور پھر ہم سبھی پانچوں لوگ اپنے اپنے کیمپ؍ٹینٹ میں جاکر کھانا کھانے کے بعد سوگئے مگر دہلی ہائی کورٹ کو یہ ایک گواہی ناکافی لگی اور اس طرح یہ چاروں مذکورہ افراد سزا یافتہ لوگوں میں شامل کرلئے گئے۔

1۔ سریش چند شرما
2۔ نرنجن لعل
3۔ کمل سنگھ
4۔ رام بیر سنگھ
5۔ سمیع اللہ
6۔ مہیش پرساد سنگھ
7۔ جئے پال سنگھ
8۔ رام دھیان
9۔ ارون کمار
10۔ لیلا دھر لوہنی
11۔ حمیر سنگھ
12۔ کنور پال سنگھ
13 بودھا سنگھ
14۔ بودھی سنگھ
15۔ موہکم سنگھ
16۔ بسنت بلبھ

 

 

ہاشم پورہ سانحہ کے بچے ہوئے 5 خوش نصیب
1 ذوالفقار ناصر
2۔ محمد نعیم
3۔ مجیب الرحمن
4۔ باب الدین
5۔ محمد عثمان

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *