بی جے پی – جے ڈی یو میں برابر کی سیٹ شیئرنگ بہار کی سیاست ہوئی گرم

لوک سبھا انتخابات کو لے کر بی جے پی اور جنتا دل یو کے بیچ سیٹ شیئرنگ میں برابر کی تعداد کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی بہار کی سیاست اچانک گرم ہو گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر اپنی سیٹ بچانے کی فکر میں ہیںتو دوسرا فریق ٹکٹ کو لے کر سرگرم ہو گیاہے۔ بالمیکی نگر پارلیمانی سیٹ پر بھی جنتا دل یو بی جے پی سنگٹھن کا پینچ آڑے آگیا ہے۔ یہاں سے بی جے پی کے ستیش چندر دوبے نمائندگی کررہے ہیں۔ انہوں نے مودی لہر میں جنتا دل یو کے بیدھ ناتھ مہتو کو 2 لاکھ سے بھی زیادہ ووٹوںسے شکست دے کر پہلی بار اس حلقے میں بھگوا لہرایا تھا۔
اس انتخاب میں کانگریس کے مورن ماسی رام کو دوسری اور مہتو کو تیسری جگہ ملی تھی۔ اس کے پہلے نتیش کمار کے قریبی رہے مہیندر بیٹھا 5 بار اور کیلاش بیٹھا ایک بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جنتا دل یو 7 بار کی جیت کا سمبل پیش کر کے اس سیٹ پر دوستی کا امتحان لے گا۔ اسے لے کر ابھی سے سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن پارٹی کے خیمے سے کانگریس نے یہاں سے دعویداری پیش کر رکھی ہے۔ مسلم -یادو کے سمیکرن کے باوجود یہاں سے راشٹریہ جنتا دل کا کھاتہ نہیں کھل سکا ہے۔ 2009 کے انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر اترے رگھو ناتھ جھا کی یہاں ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔1984 سے پہلے یہاں کانگریس کا ہی دبدبہ رہا ہے اور اسی بنیاد پر کانگریس پارٹی اس بار بھی یہاں جھنڈا بلند کررہی ہے۔
2009 کے لوک سبھا انتخابات میں بگہا (ریزرو) کو ختم کرکے بالمیکی نگر پارلیمانی سیٹ کی تشکیل ہوئی تھی۔ کئی دہائیوں تک یہاں کی مٹی ایک ہی حالت پررہی ۔ایک بار جسیاپنا لیا ،اسے لمبے وقت تک اپنائے رکھا۔ بھولاراوت اور مہندر بیٹھا اس کی نظیر رہے ہیں لیکن اس کے بعد یہاں کا سیاسی حساب بدل گیا۔ ان دونوں لیڈروں کے بعد کوئی بھی لیڈر یہاں سے دوسری بار نہیں جیتا ہے۔ جگناتھ پرساد، کیلاش بیٹھا، ویدھ ناتھ مہتو اس کی مثال ہیں۔
موجودہ رکن پارلیمنٹ ستیش چندر دوبے کی یہاں سے دوبارہ چنے جانے کا امکان تھا لیکن اب اس سیٹ پر بی جے پی و جنتا دل یو کے گٹھ بندھن کا سایہ پڑ گیا ہے۔ جنتا دل یو ابھی سے انتخابی موڈ میں آگیا ہے۔ جنتا دل یو رکن پارلیمنٹ آر سی پی سنگھ نے بگہا میں متعدد لابی کا سمینار کرکے یہاں اپنی پارٹی کی سیاسی منشا کو ظاہر کر دیا ہے۔ پچھلے انتخابات کی بھرپائی کے لئے پوری کوشش ہورہی ہے۔ جنتا دل یو کے سینئر لیڈر ویدھ ناتھ مہتو کے علاوہ بھی دیگر مضبوط اور الیکشن جتائو امیدوار پر نظر گڑائے ہوئے ہیں۔ اس دوڑ میں جنتا دل یو کی نیشنل ایگزیکٹیو کے ممبر اور سینئر ڈاکٹر این این شاہی ، مہیندر بیٹھا کے بیٹے نند کیشور چودھری ، بالمیکی نگر سے آزاد ایم ایل اے دھرمیندر پرتاپ سنگھ عرف رینکو سنگھ، ضلع پریشد کے صدر شیلندر گڑھوال وغیرہ کا نام سامنے آرہاہے۔

 

 

 

نند کیشور چودھری کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی مقبولیت کسی سے چھپی نہیں ہے۔ آج بھی ان کے حامیوں کی جماعت ان سے جڑی ہوئی ہے، وہیں ڈاکٹر این این شاہی اپنے کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ہونے کا دعویٰ کر کے ٹکٹ کی خواہش کررہے ہیںلیکن ان سب دعوئوں کے بیچ یہاں کے سابق ممبر پارلیمنٹ ویدھ ناتھ مہتو کے جنتا دل یو میں دبدبہ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر بھی جنتا دل یو کا دامن تھام کر انتخاب لڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ انہیں کہاںتک کامیابی ملے گی، یہ مستقبل کے پردے میں ہے۔
اس وقت کانگریس بالمیکی نگر سیٹ کو لے کر سب سے زیادہ سنجیدہ اور محتاط ہے۔ 1984 میں بھولا راوت کی جیت کے بعد سے لگاتار مختلف سیاسی اور سماجی سمیکرن کرنے کے باوجود اب تک کانگریس کو یہان مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ کانگریس اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو پانے کے لئے ایسے امیدوار کی تلاش میں ہے، جس کا چہرہ صاف ستھرا ہو ،ساتھ ہی جیت کے سمیکرن کا حساب بھی اس کے حق میں ہو۔ ایک دو سینئر بی جے پی لیڈر بھی کانگریس سے رابطہ کرنے کی کوشش کررچکے ہیں۔ لیکن اعلیٰ کمان نے صاف کر دیا ہے کہ وہ پارٹی کے تئیں وقف لیڈر کو ہی میدان میں اتاریں گے۔ ایسے میں امیدواری کی دعویداری شروع ہو گئی ہے۔ اس میں کانگریس سے ماضی میں وزیر رہے وشو موہن شرما کا نام سامنے آرہا ہے۔
شرما اپنی صاف ستھری اور ایماندار شبیہ کے لئے جانے جاتے رہے ہیں۔ وہ شروع سے کانگریس کا جھنڈا تھامے رہے ہیں۔ اس پارلیمانی حلقے کے لوریا سے وہ چار بار اسمبلی میں نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ بگہا (ریزرو) حلقہ سے 1990 سے 2005 تک کے اسمبلی انتخابات میں ناکام رہے پورن ماسی رام بھی انتخابی میدان میں اترنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ حالانکہ پارٹی کی کمٹ منٹ انہیں کبھی نہیں باندھ سکی۔ وہ کئی بار یہاں سے رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے میدان میں آئے لیکن کبھی کامیابی نہیں ملی۔ البتہ ایک بار گوپال گنج سے جنتا دل یو کے ٹکٹ پر پارلیمٹ میں پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔سیاسی دبدبہ بنائے رکھنے کے لئے جنتا دل یو کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی سے لے کر راشٹریہ جنتا دل تک کا انہوں نے سفر طے کیا ہے اور فی الحال کانگریس کا دامن تھامے ہوئے منزل کو پانے کی تگ و دو میں ہیں۔
دہلی کی صحافتی دنیا میں دو دہائی سے سرگرم پرویش مشر بھی کانگریس کی طرف سے مضبوط دعویدار مانے جا رہے ہیں۔ لوریا بلاک کے دانیال پرسونا کے باشندہ شری میشر ضلع میں چمپارن ویلفیئر ٹرسٹ کے ذریعہ سماجی و تعلیمی کاموں میں سرگرم بھی ہیں۔ دہلی میں پڑھائی کے دوران وہ این ایس یو آئی سے بھی جڑے رہے ہیں۔ مرکزی سرکار میں جوائنٹ سکریٹری سطح کے آفیسر اے پی پاٹھک اور ان کی بیوی منجو بالا پاٹھک بھی کانگریس کے ٹکٹ پر نظر گڑائے ہوئے ہیں۔ بابو دھام ٹرسٹ کے بینر تلے ضلع میں مذکورہ جوڑی جنتا کے بیچ مختلف پروگراموں کے ذریعہ موجود گی بھی درج کراتے رہے ہیں۔
ادھر ونے ورما بھی اس سیٹ کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے اعلیٰ کمان سے سیدھے رابطے کی جگاڑ کرکے اسمبلی ٹکٹ کی طرح اس بار بھی وہ موقع کی تلاش میں ہیں۔ کانگریس سے ٹکٹ کے لئے دیگر دعویدار بھی خاموشی سے اپنی گوٹی لال کرنے کے پھیر میں ہیں۔ اس میں سابق وزیر اعلیٰ کیدار پانڈے کے بیٹے شاسوت پانڈے کا نام بھی اہم ہے۔ وہیں لیفٹ پارٹی بھی یہاں اپنی زمین تلاش کررہی ہے۔ مالے کی لسٹ میں بھی یہ سیٹ ہے۔ یہاں سے شکست کھانے کے باوجود مالے لیڈر وریندر گپتا عوامی مسائل کو لے کر شور کررہے ہیں۔ بہر حال ٹکٹ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *