اعلیٰ عہدے اور ادارے کو مذاق کا موضوع مت بنائیے۔

کیا کہیں؟ آزادی کے بعد سب سے اچھے دن ہندوستان کی قسمت میں اب آئے ہیں یا یہ کہیں کہ ہم ایک نئی بدقسمتی کے دروازے پر کھڑے ہیں؟یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں ، کیونکہ جو واقعہ سی بی آئی کے اندر ہوا، اس نے صرف سارے ملک کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں دلچسپی رکھنے والے ہمارے تمام پڑوسی ملکوں کوبھی چونکا دیا۔ اس واقعہ نے بتا دیا کہ ہمارا انتظامی ڈھانچہ کتنا بکھر گیا ہے،منتشر ہوگیا ہے۔ کسی پرکسی کا نہ کنٹرول ہے اور نہ نظم ہے ۔بس چل رہا ہے۔ اس میں اکثر کچھ ایسا ہو جاتا ہے ،جو پردہ ہٹا دیتا ہے۔
اس بار اب پردہ ہٹا، تو اس نے سارے ملک کو حیران کردیا۔میں یاد کر رہا ہوں2016 میں سینئر آئی اے ایس افسروں کے بیچ ملک کے سب سے اعلیٰ پاوروالے شخص کی تقریر تھی۔ اس تقریر کے ختم ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے بال یوگی ہال کے باہر دوپہر کا کھانا تھا۔ اندر سے جو آئی اے ایس آفیسر نکلے ،وہ لوگ آپس میں جس ریاست کے تھے، اس ریاست کی زبان میں بات کررہے تھے اور سب کا لب لباب ایک ہی تھا کہ ہمیں کچھ بتانے سے پہلے سیاست دانوں کو خود کچھ سیکھ لینی چاہئے۔ کچھ لوگوں نے تو نامناسب زبان کا بھی استعمال کیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ آئی اے ایس افسروں کا یہ رد عمل ملک کا اقتدار چلا رہے سیاست دانوں تک نہیں پہنچا اور وہ عمل جاری رہا۔
ہمیں اگر اپنے ادارے پر کنٹرول رکھنا ہے یا اپنا تسلط بنائے رکھنا ہے یا اپنی قیادت کے تئیں پورے ادارے کا بھروسہ قائم رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ اعلیٰ ترین شخصیت علم ،تخیل اور سچائی میں مثال پیش کریں۔ جہاں یہ نہیں ہوگا، وہاں پر لوگ حکم مانتے تو دکھائی دیں گے لیکن ان میں نہ یقین ہوگا، نہ بھروسہ ہوگا اور نہ کئے گئے فیصلوں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔ یہی 2016 سے ہمیں لگاتار دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اگر ایک کمرے میں صرف 20 لوگ بیٹھے ہوں اور انہیں کہا جائے کہ آپ ایسی اسکیم بنائیے کہ تقریر میں تو وہ کسانوں کے لئے انوکھی لگے، لیکن ایسا نہ ہو کہ کسانوں کو معیشت میں سے ایک پیسہ بھی دیا جائے ۔جیسے ہی کوئی یہ بات کہتا ہے ،ویسے ہی وہ ان 20لوگوں کی نظر میں عدم اعتماد کا کردار بن جاتا ہے۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ یہ آدمی جو کہہ رہا ہے، یہ ملک کے ساتھ اورخاص کلاس کے ساتھ دھوکہ کررہا ہے۔ وہ اسکیم بناتے ضرور ہیں لیکن اس اسکیم کا فائدہ اس طبقے کو نہیں مل پاتا، جس طبقے کے لئے وہ اسکیم بنائی جاتی ہے اور اس طبقے کی بے اطمینانی انتہا ئی حد پر پہنچ جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، جب مرکز میں بیٹھا کوئی انتہائی بھروسہ مند آفیسر کسی صنعتکار سے مہنگے تحفے لیتے ہوئے پکڑا جائے اور وہ آفیسر مجبوری میں کابینہ سکریٹری نہ بنایا جائے تو سینئر افسروں کو تو چھوڑ دیئے،جن افسروں کا یہ اعلیٰ آفیسر ہے، ان کی نظر میں بھی اس کی کوئی ساکھ نہیں بچی رہتی۔آج تو صورت حال یہ ہے کہ جمہوریت کے جتنے بھی قانون سازی کے ادارے ہیں، ملک کے عوام کی نظر میں ان کی ساکھ سوالوں کے دائرے میں ہے۔ ان میں الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ وغیرہ شامل ہیں۔

 

 

 

اگر ساکھ بنانے کی یا بچانے کی کوئی کوشش ہوتی، تب بھی مانا جاسکتا تھا کہ ہم ملک کے انتظامی ڈھانچے کو سدھارنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ملک چلانے والوں کے دماغ میں ان سارے اداروں کی ساکھ کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی نو رتن کمپنیوں کی ساکھ انہی کے آفیسر ختم کرر ہے ہیں، تاکہ ان کمپنیوں کو ملک کے بڑے یا غیر ملکی سرمایہ داروں کو سونپا جاسکے۔ جو کمپنیاں بیمار مان کر ملک کے صنعتکاروں سے لی جارہی ہیں، ان کمپنیوں کو غیر ملکی کمپنیوں کو بیچنے کی کوشش ہورہی ہے۔ سرکار نقصان اٹھا کر ملک کی ہی بڑی کمپنیاں غیر ملکی کمپنیوں کو اونے پونے دام میں بیچ رہی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے دماغ میں ہماری کوئی بھی صنعتی پالیسی صاف نہیں ہے۔
سرکار یہ کیسے سوچ لیتی ہے کہ جس نے 25 سال ، 30 سال میں صنعت کو کھڑا کیا، باہر کا کوئی آدمی آکر اس صنعت کو بہتر چلا سکتا ہے۔ جتنی مدد باہر والی کمپنیوں کو سرکار دینا چاہتی ہے، اگر اتنی ہی مدد وہ موجودہ صنعت چلانے والوں کو دے دے، تو وہ صنعت منافع میں آسکتی ہے۔ اسی طرح سے ریلوے کی ساکھ ختم کرنے کی کوشش خود ریلوے کے آفیسر کرر ہے ہیں، تاکہ ریلوے کو پرائیویٹ سیکٹر کو سونپا جاسکے۔ ہر جگہ کوشش ہو رہی ہے کہ سرکاری ملکیت والے یا نیشنلائزڈ صنعتوں کو پرائیویٹ کمپنیوںکو سونپا جاسکے ۔ اور تو اور ملک کے بینکوں کو بھی غیر ملکی بینکوں کو سونپا جاسکتا ہے، ایسی افواہ سارے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس افواہ کو ختم کرنے کی کوئی کوشش ملک کے حکمرانوں کے ذریعہ نہیں ہو رہی ہے۔
ملک کے سب سے اعلیٰ مرکز کا مذاق بنانے میں بھی ہمارا انتظامی ڈھانچہ کوئی کسر نہیں چھوڑ رہاہے۔اقتدار کی بلندی پر بیٹھا آدمی بغیر جانچ کئے ہوئے کچھ نہیں بولتا ۔ پھر عوام کے سامنے تقریر کی شکل میں اتنی بڑی چوک کیسے سامنے آجاتی ہے، ہم نہیں سمجھ پاتے ۔حالیہ چوک یہ ہے کہ 125 کروڑ لوگوں کو ان کے گھروں کی چابی دے دی گئی ہے۔یہ بات ایک بار نہیں کہی گئی، دو دو بار کہی گئی۔ 2022 میں ہر آدمی کو گھر ملے گا، اس کا اعلان ہوا تھا اور 2018 میں یہ اعلان ہو گیا کہ 125کروڑ لوگوں کو ان کے گھروں کی چابیاں دے دی گئی ہیں۔ تاریخ اور جغرافیہ سے جڑے ہوئے باقی سوالوں کو ہم چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان سوالوںکے بارے میں ہم بات کیا کریں۔ لیکن یہ لگتا ہے کہ اقتدار کا اعلیٰ مرکز اپنے ہی دفتر کو ٹھیک سے نظم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یا تو ان کے پاس یہ بات نہیں پہنچتی ہے کہ جو ان سے کہلوایا گیا یا جو انہوں نے کہا اس کا کوئی تجزیہ نہیں ہوا، اس کا کوئی ری ویو نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہے تب تو یہ اور خطرناک چیز ہے کہ آپ قدم اٹھاتے ہیں اور عوام میں اس کا کیا اثر ہوتا ہے، اسے جاننے کا آپ نے کوئی میکنزم بنایا ہی نہیں۔ آپ کے کسی فیصلے کا عوام پر کیا اثر ہوتا ہے، ہر ہفتہ یہ جاننے کی کوشش ہونی چاہئے، لیکن شاید ہمارے ملک میں یہ طریقہ بیکار مان لیا گیا ہے۔

 

 

 

 

اسی لئے ملک کی اعلیٰ جانچ ایجنسی سی بی آئی کے اندر جب نمبر ایک اور نمبر دو کے بیچ ایک دوسرے کے خلاف سازش شروع ہو گئی، الزام لگنے لگے، ایف آئی آر لکھی جانے لگی، تب وزیر اعظم دفتر نے دونوں کو چھٹی پر جانے کے لئے کہہ دیا لیکن کیا دونوں کے چھٹی پر جانے سے مسئلے کا حل ہو گیا، نہیں۔یہ بتاتا ہے کہ اسکے بعد اگر وزیر اعظم دفتر میں ہی جنگ اور چھاپہ ماری جیسی چیزوں کا انتظار ملک کے لوگ کریں تو کوئی غلط نہیں ہوگا۔ سی بی آئی ملک کی انتہائی بھروسے والی ایجنسی تھی۔ کبھی سپریم کورٹ نے اسے پنجرے کا طوطا کہا، کبھی ریمارکس کیا۔ سی بی آئی سوالیہ دائرے میں تو رہی لیکن سی بی آئی کی اتنی فضیحت نے بتایا کہ ہمارے ملک کا ہر ادارہ ان باتوں کو صرف افواہ مان کر بے بھروسہ نہیں کرسکتا جنہیں افواہ کہا جاسکتاہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان اداروں میں بہت کچھ ایساہو رہاہے، جو ملک کو برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔
بدقسمتی اس بات کی ہے کہ خود اقتدار کی بلندی پر بیٹھے لوگ ان چیزوں کو نہیں سوچ رہے ہیںاور یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ ہمیں کس شکل میں یاد کرے گی۔ ان لائنوں کو لکھتے ہوئے ایک دوست کا فون آیا اور اس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سی بی آئی کو بھی امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی کے حوالے کرنے کی کوئی اسکیم بن رہی ہے کہ ہم جانچ نہیں کر سکتے، ہم غیر جانبدار نہیں رہ سکتے۔ ہم ایف بی آئی کو سی بی آئی لیز پر دے دیتے ہیں۔ بات تو مذاق کی ہے لیکن یہ بتاتاہے کہ ملک کے لوگوں کے درمیان ہمارے اپنے اداروں کو لے کر کس طرح مذاق کا، بے یقینی کا ،افسوس کا ماحول بن گیا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *