خالی پیٹ میں لہسن کھانے کے حیرت انگیز فوائد

lehsun
زمانہ قدیم سے انسان لہسن کا استعمال کرتا آیا ہے۔لہسن کھانے کے بہت فائدے ہیں۔اگر آپ لہسن کو خالی پیٹ کھائیں گے تو پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو چکا ہوگا اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پائے گا جس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔اسے خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم بیماریوں سے لڑنے کے لئے مضبوط ہو جاتا ہے۔
آیوروید میں تولہسن کودوا ماناگیاہے۔ کہاجاتاہے کہ کسی نہ کسی طورپر لہسن کو اپنی ڈائٹ میں ضرورشامل کرنا چاہئے ۔لیکن صبح -سویرے خالی پیٹ میں لہسن کھانے کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔
ہائی بلڈپریشرسے نجات
لہسن کھانے سے ہائی بلڈ پریشر(بی پی) میں آرام ملتاہے۔ دراصل لہسن بلڈ سرکولیشن کوکنٹرول کرنے میں کافی مددگار ہے۔ ہائی بی پی کے مسائل سے متاثررہے لوگوں کو روزانہ لہسن کھانے کی صلاح دی جاتی ہے۔
پیٹ کی بیماریوں پرقابو
پیٹ سے متعلق بیماریوں جیسے ڈائریا اورقبض کی روک تھام میں بیحد مستعمل ہے۔ پانی ابال کر اس میں لہسن کی کلیاں ڈال لیں۔ خالی پیٹ اس پانی کوپینے سے ڈائریا اورقبض سے آرام ملے گا۔
دل
لہسن دل سے متعلق بیماریوں کوبھی دورکرتاہے۔ لہسن کھانے سے خون کا جماؤ نہیں ہوتاہے اورہارٹ اٹیک(دل کادورہ) ہونے کا خطرہ کم ہوجاتاہے۔یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔
ڈائزیشن ہوگابہتر
خالی پیٹ میں لہسن کی کلیاں چبانے سے آپ کا ڈائزیشن اچھارہتاہے اوربھوک بھی لگتی ہے۔
سردی-کھانسی میں راحت
لہسن کھانے سے سردی -زکام، کھانسی، استھما، نیمونیا، برونکائٹس کے علاج میں فائدہ ہے۔لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔
بہرکیف اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل معالج سے مشورہ و ہدایت ضرور حاصل کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *