جانئیے ،چقندر کے حیرت انگیز فائدے

beetroot
چقندر صحت کیلئے بیحدفائدہ ہے۔کچھ لوگ جہاں سلاد کے طورپراس کا استعمال کرتے ہیں توکچھ لوگ اسے جوس کے طورپر اپنی ڈائٹ میں شامل کرتے ہیں۔محققین کا ماننا ہے کہ چقندرکے جوس میں ٹائیٹریٹ ہوتاہے۔دل کے دورے کے بعد مریضوں کو چقندر کا جوس پلانے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ چقندر میں نائٹریٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ویسے چقندر کا استعمال برصغیر میں بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے۔
بلڈ پریشر کے لیے مفید
چقندر نائٹریٹ سے بھرپور سبزی ہے، جو ہضم ہونے کے دوران نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے جو خون کی شریانوں کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے اس سبزی کے جوس کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔ اس حوالے سے تجربات میں متعدد افراد کو چار ہفتوں تک ڈھائی سو ملی لیٹر چقندر کا جوس استعمال کرایا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جسمانی توانائی بڑھائے
نائٹرک آکسائیڈ کی بدولت خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں، اس سے مسلز کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے جو کہ جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چقندر کا جوس نکال کر پینا جسمانی مشقت کے کاموں کے لیے توانائی بڑھاتا ہے۔
دماغی طاقت کے لیے مفید
مسلز کو زیادہ آکسیجن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ چقندر دماغ کو بھی زیادہ آکسیجن پہنچاتی ہے اور اس کے لیے بھی چقندر کو سلاد یا جوس کی شکل میں استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔
قبض دور رکھے
ایک کپ چقندر میں ساڑھے 3 گرام فائبر ہوتی ہے اور یہ جز قبض کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ نہ گھلنے والا فائبر غذا کو تیزی سے غذائی نالی سے گزرنے میں مدد دیتا ہے اور بہت جلد خارج بھی کردیتا ہے، قبض کا شکار رہنے والوں میں بواسیر کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے تو چقندر اس موذی مرض سے بھی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اوکلاہاما کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پرانی قبض یا کم فائبر والی غذا بواسیر کا خطرہ بڑھاتی ہے جس سے بچا? کے لیے زیادہ فائبر والی غذائیں جیسے چقندر فائدہ مند ہے۔
اینٹی آکسائیڈنٹس بھرپور
اس سبزی میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچانے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور جان لیوا امراض سے تحفظ ملتا ہے۔
حاملہ خواتین کے لیے مفید
خواتین کے ڈاکٹرز حاملہ خواتین کو چقندر کھانے کا مشورہ دیتی ہیں کیوں کہ اس میں بڑی تعداد میں آئرن موجود ہوتا ہے جو ریڈ بلڈ سیلز بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اکثر حاملہ خواتین کے اندر ان کی کمی ہوجاتی ہے۔
  • نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل معالج سے مشورہ و ہدایت ضرور حاصل کریں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *