ملیشیا میں پی ایم بننے کے لئے ایمپی ہوئے انور ابراہیم

ملیشیا کے سابق نائب وزیراعظم ڈاکٹر انور ابراہیم نے ملک میں 3 اکتوبر کو منعقد ضمنی انتخاب میں پارلیمنٹ کی نشست حسب توقع جیت لی ہے۔اس کے ساتھ ہی ملیشیا کی مرکزی سیاست میں ان کے قائدانہ کردار کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے یعنی پی ایم بننے کے لئے ایم پی بن چکے۔ ملیشیا کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انور ابراہیم نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 71 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ان کے مد مقابل 6 امیدوار تھے۔ ان میں ان کا ایک سابق معاون بھی شامل تھا جس نے ان پر بدفعلی کا الزام عاید کیا تھا جس کی وجہ سے 2014 میں انھیں دوسری مرتبہ جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
انور ابراہیم نے ضمنی انتخاب میں اس شاندار کامیابی پر تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے اپنے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ تمام ملیشیائی نسل کے ساتھ ساتھ چینیوں، ہندوستانیوں اور چھوٹی کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی جماعت پاکتان ہرپان کی توثیق کی ہے اور اس کو عام انتخابات سے بھی زیادہ ووٹوں سے نوازا ہے‘‘۔انھیں ضمنی انتخاب کے لیے مہم کے دوران میں ملک کی سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی حمایت حاصل رہی ہے اور ان دونوں لیڈروں کو کوئی دوعشرے کے بعد پہلی مرتبہ ملیشیا کے شہر پورٹ ڈکسن میں ایک انتخابی جلسے میں اسٹیج پر اکٹھے بیٹھے دیکھا گیا ۔

 

 

 

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں 1998 میں انور ابراہیم کو نائب وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کردیا تھا ۔اس وقت ان کے خلاف اخلاقی گراوٹ کے سنگین الزامات عاید کیے گئے تھے۔ ملیشیا کی ایک عدالت نے انور ابراہیم کو اپنے ایک ملازم سے بدفعلی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی تھی لیکن انھوں نے اپنے خلاف الزامات کو سیاسی اور من گھڑت قرار دیا تھا۔ انھیں ڈاکٹر مہاتیر محمد کی وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد 2004 میں جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن 2015 میں انھیں دوبارہ اسی الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
ملیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی حکومت کے خلاف بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کے بعد ملکی سیاست میں ایک بڑا اتار چڑھاؤ آیا تھا۔ڈاکٹر مہاتیر محمد نے سیاست میں واپسی اور انور ابراہیم کے زیر قیادت حزب اختلاف کی جماعت سے اتحاد کا اعلان کردیا تھا۔اس اتحاد نے اس سال مئی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اس کامیابی کے بعد ڈاکٹر مہاتیر محمد ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئے تھے اور انھوں نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد انور ابراہیم کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے معافی دلادی تھی۔انھوں نے دوسال کے اندر وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کا ا علان بھی کیا تھا۔اب انور ابراہیم کی جیت کی صورت میں ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ انھوں نے مذکورہ کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ وہ دوسرے لیڈروں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں گے۔
عام طور پر اس بات پر بڑی حیرانی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد اور انور ابراہیم جو کہ ایک دوسرے کے سخت حریف تھے، آخر کیا ہوا کہ دونوں اتنے قریب ہو گئے کہ وزیر اعظم مہاتیر محمد نے انہیں اپنا جانشیں بنالیا اور اب وہ وزارت عظمی کا عہدہ خالی کرکے انہیں وزیر اعظم بنا سکتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ اس اتحاد کے پیچھے انور ابراہیم کی 65سالہ شریکہ حیات ڈاکٹر وان عزیزہ اسماعیل کی بڑی قربانی ہے۔دراصل جب انور ابراہیم جیل چلے گئے تو ان کی اہلیہ عزیزہ میدان سیاست میں اتریں۔انہوں نے انور ابراہیم کے نام پر سیاست جاری رکھا اور اپنے خاوند کا مقدمہ بھی لڑا۔

 

 

 

مہاتیرمحمد ان لیڈروں میں سے ہیں جنہوں نے ملیشیا میں لمبے عرصے تک حکومت کی۔ان کا کل دور کارتقریباً 22 سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران نجیب رزاق کی حکومت بنی۔نجیب رزاق پرکرپشن کے الزامات لگے۔یہ محض الزامات نہیں تھے۔امریکہ کے محکمہ انصاف نے بھی ا س کی تصدیق کی۔ لوگ ان سے ناراض تھے لیکن ان کے خلاف کوئی لیڈر مو جود نہیں تھا۔اسی دوران ایک دلچسپ پیش رفت ہوئی۔مہاتیر محمد نے15سال بعد ایک بار پھر سیاست میں سر گرم ہو نے کا اعلان کیا۔
مہاتیر محمد کے دوبارہ سیاست میں لوٹنے پراپوزیشن نے انہیں اپنا راہنما بنا لیا۔سیاست کے کھیل دیکھئے کہ ان کو قائد حزب ِاختلاف ،انور ابراہیم کی جماعت نے بنایا۔عزیزہ نے ایک اجتماع میں مہاتیر کے حق میں ایک شاندار تقریر کی اور اس طرح وہ متبادل لیڈر کے طور پر سامنے آگئے۔انتخابات میں ان کا اتحاد جیت گیا اور یوں وہ92 سال کی عمر میں ایک بار پھروزیراعظم بن گئے۔ مہاتیر محمد فی الوقت وزیر اعظم ہیں۔چونکہ یہ جیت وان عزیزہ کی سخت قربانیوں کا نتیجہ تھی اس لئے مہاتیر محمد نے سب سے پہلے انہیں ملک کی پہلی خاتون نائب وزیر اعظم بنایا اور خواتین ،خاندان و کمیونیٹی کے فروغ کے امور کے قلمدان سونپے اور پھر بادشاہ سے ان کے شوہر کی سزا معاف کروا کر اپنا جانشیں بنا لیا اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی مہاتیر محمد کے استعفیٰ کے بعد ان کی جگہ لے لیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *