غالب انسٹی ٹیوٹ کے غالب ایوارڈ کا اعلان 

selected-for-awards
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایوارڈکمیٹی کی ایک اہم میٹنگ 19نومبرکو ایوانِ غالب میں غالب ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین جسٹس آفتاب عالم کی صدارت میں ہوئی،جسٹس آفتاب عالم کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ، ڈاکٹر اطہرفاروقی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرمیٹنگ میں موجود تھے۔ اس اہم موقع پر تمام ممبران نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے پُروقارغالب انعامات 2018 کے 6؍اہم انعامات پر فیصلہ کیا۔ اردو کے ممتاز ناقد ودانشور،کئی اہم کتابوں کے مصنف اورشعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسرشین اختر کو اُن کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے اردو تحقیق و تنقید سے سرفراز کیا جائے گا۔
فارسی کے نامور اسکالر اورمولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسرشرفِ عالم کو فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید کے لئے منتخب کیا گیا۔ معروف تخلیق کار پروفیسر حسین الحق کا نام غالب ایوارڈ برائے اردو نثر کے لئے طے کیا گیا۔ عہدِ حاضرکے نامور شاعر اور بین الاقوامی شہرت کے حامل جاوید اخترکا نام غالب انعام برائے اردو شاعری کے لئے تجویز کیا گیا۔ ہم سب غالب انعام برائے اردو ڈرامہ کے لئے مشہور ڈرامہ نگاراوراپنی تحریروں کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے والے اہم ڈرامہ نویس پروفیسر دانش اقبال کے نام پر اتفاق ہوا۔ اورمجموعی علمی خدمات کے لئے ممتاز دانشور اورمولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسراخترالواسع کے نام پرمیٹنگ میں بیٹھے تمام لوگوں نے اتفاق کیا۔
یہ تمام ایوارڈ بین الاقوامی غالب تقریبات کے افتتاحی اجلاس میں 21دسمبر2018کو سرٹیفیکٹ،مومنٹو اور 75ہزار روپیہ نقدکے ساتھ ایوانِ غالب میں عطا کئے جائیں گے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ پچھلے40 برسوں سے 200سے زائد انعامات اردو وفارسی، ادب،ثقافت ، سائنس، اور مختلف علوم وفنون میں کام کرنے والے اہم دانشوروں کو اُن کی گرانقدر خدمات کے لئے نواز چکا ہے۔ غالب ایوارڈ کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ اردو اور فارسی کے اساتذہ، ادبا، شعرا اور نامور ہستیوں کے مشوروں کو مدِّ نظر رکھ کر ایوارڈ کمیٹی انعامات کافیصلہ کرتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *