چین میں جمہوریت کا جنازہ

چین ایک ایسا کمپیوٹر نظام (سوشل کریڈٹ سسٹم ) رائج کرنے جارہا ہے جو کہ انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو کنٹرول کرے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام سے چینی شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو اس سے جڑیں گے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس نظام کے عمل میں آجانے کے بعد حکومت کو کسی بھی شہری کی شخصی زندگی میں جھانکنے کا اختیار مل جائے گا ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ چین کے اس عمل پر سخت تنقید کررہا ہے۔
یہ ایک ایسا کمپیوٹر نظام ہے جس سے ہر شہری کو مربوط کیا جائے گا۔اس کے بعد اس شہری کی تمام نقل و حرکت اس میں قید ہوئے گی۔یہ نظام چینی شہریوں کے مختلف شعبہ حیات میں مداخلت کرے گا۔اسی لئے بہت سے چینی اسے پسند نہیں کرتے ہیں مگر چینی حکومت جہاں کسی کو حکومت کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں ہے ،وہاں کوئی بھی زبان کھولنے سے ڈرتا ہے ،اس ڈر کی وجہ سے بہت سے شہری خاموش ہیں توکچھ اس کی حمایت میں بول کر حکومت کی خوشنودی حاصل کررہے ہیں۔
2020 تک متوقع چین کا مجوزہ سوشل کریڈٹ سسٹم تمام شہریوں کی ’بھروسہ نبھانے کی صلاحیت‘ کی درجہ بندی کرے گا۔اسی طرح ایک سوشل کریڈٹ اسکور کمپنیوں اور تنظیموں پر بھی لاگو ہوگا۔یعنی حکومت نہ صرف یہ جانچ لے گی کہ کوئی کیا خریدتا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ سماجی طور پر کیا کرتے ہیں یا شاید سیاسی طور پر بھی۔شہریوں کے ہر عمل کا ایک پوائنٹ اسے ملے گا۔یہ پوائنٹ منفی اور مثبت شکل میں ہوں گے۔سگریٹ نوشی کی جاتی ہے جہاں اس کی ممانعت ہے، تو ایسی صورت میں اس شہری کے خلاف منفی اسکور ہوسکتا ہے اور اگر وہ کچھ فلاحی کام کرتا ہے تو اسے مثبت نمبر مل سکتا ہے۔حاصل کئے گئے اسکور کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ اس شہری کے ساتھ برتائو کیسا ہونا چاہئے۔اگر اس کا اسکور منفی ہے تو اسے بلیک لسٹ میں اور مثبت ہے تو لال فہرست میں شامل ہوگا۔

 

 

 

مثبت اسکور میں خون کا عطیہ کرنا،فلاحی کاموں کے لیے پیسے دینا یا فلاحی تنظیموں کے لیے کام کرنا،ایسی اشیا خریدنا جو کہ صحت مند ہیں بجائے ایسے کھانوں کے جنھیں غیر صحت مند تصور کیا جاتا ہے شامل ہو سکتا ہے جبکہ منفی اسکور میں بدعنوانی، فراڈ، ٹیکس نہ ادا کرنا، سماجی توازن کے لیے نقصان دہ سمجھی جانی والی معلومات پھیلانا وغیرہ شامل ہیں۔
چین نے اس نظام پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔بلکہ اس کے کچھ اضلاع میں اس کا تجربہ بھی ہورہاہے لیکن اس میں حاصل ہوئے نمبر کو ابھی اسکور میں شامل نہیں کیا جارہا ہے۔مغربی چین کا رونچینگ علاقہ ایک ایسی مثال ہے جہاں شہریوں کو ایک ہزار کا ابتدائی اسکور دیا گیا جو کہ لوگوں کی کارکردگی کے بعد کم (جیسے کہ ٹریفک چالان کی وجہ سے) یا زیادہ (جیسے کہ کسی ضرورت مند فیملی کی مدد کرنے سے) ہو سکتا ہے۔گذشتہ سال چین کی عدالتِ عظمیٰ کو بتایا گیا کہ سماجی غلطیوں کی وجہ سے 61 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فضائی سفر کرنے سے روک دیا گیا تھااور یہ صرف گذشتہ پروازوں پر مسئلوں کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ دہشت گردی کے بارے میں جھوٹی اطلاعات پھیلانے یا سگریٹ نوشی کی متعین جگہ کے باہر سگریٹ پینے کی وجوہات بھی شامل تھیں۔
بہر کیف ابھی کسی کو بھی یقین کے ساتھ پتہ نہیں ہے کہ چینی حکومت کن چیزوں پر منفی اسکور دے گی اور 2020 کے بعد یہ نظام کیسے چلے گا۔سٹاک ہوم یونیورسٹی میں چینی امور کے ماہر یوہان لیگروسٹ کا کہنا ہے کہ ’مبصرین کو اصل میں معلوم نہیں ہے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔تاہم لائڈن یونیورسٹی کے روگیئر کریمرز کا کہنا ہے کہ چینی حکومت انتہائی کنٹرول پسند ہے اور یہ نظام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک نظام ہونے کے بجائے مختلف قسم کے نظاموں کا جوڑ ہوگا۔شاید اس نظام میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے دوست کون ہیں اور آپ کن کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔اس سکور کا تعین کرنے کے لیے حکومت کو بہت زیادہ ڈیٹا کو چھاننا پڑے گا اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں چینی حکومت بے تحاشا مالی وسائل لگانے پڑیں گے۔اس نظام میں ہوٹلوں کے ریکارڈ، شاپنگ کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی کیمرے، فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی، سبھی کا استعمال کیا جائے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر چین کی حکومت اس نظام کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تووہان کے باشندوں کی زندگی میں کوئی ایسا پہلو نہیں ہوگا جو کہ سرکار کی نظر سے اوجھل ہو۔ظاہر ہے سرکار جو کرنے جارہی ہے ، وہ شہریوں کے حقوق کی پامالی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *