ایران اور سعودی عرب کے درمیان بر تری کی جنگ آماجگاہ بنا یمن

یمن میں کیا ہو رہا ہے؟ ہماری اکثریت اور خاص طور پر میڈیا کو تو یمن کی خانہ جنگی کوئی ایسی بڑی خبر نہیں معلوم ہوتی جس پر کچھ سوچا جائے اور تھوڑی دیر کے لئے ہی اپنی گفتگو کا موضوع بنا لیا جائے۔سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا یمن کے باشندے کوئی مختلف طرح کے انسان ہیں؟ کیا ان کا اتنا ہی قصور ہے کہ وہ ذرا مختلف عقیدہ رکھتے ہیں؟ کیا عقیدہ الگ ہونے سے آپ اگلے بندے کو انسان بھی نہیں سمجھیں گے؟ اور کیا اْس کے مرنے جینے سے آپ کی زندگی میں ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا۔یمن میں نہ صرف جان لیوا بیماری ہیضہ تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ غذائی اشیاء کی کمی کی وجہ سے بچے کی اموات کی شرح اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔امدادی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یمن میں پانچ ملین سے زائد بچوں کو قحط کی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حْدیدہ کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچایا گیا اور وہ بند ہو گیا تو اس کے نتیجے میںمزید سینکڑوں بچوں کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حْدیدہ وہ مرکزی ہوائی اڈہ ہے جہاں سے امدادی سامان کی آمد و رفت جاری ہے اور اس سلسلے میں رکاوٹ لاکھوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔تنظیم نے یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی ہے جب حْدیدہ کے ہوائی اڈے کے آس پاس تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔اگر اس جھڑپ کو نہیں روکا گیا اور ہوائی اڈے کو محفوظ نہیں کیا گیا تو اندازہ لگایا جارہا ہے کہ مزید دس لاکھ یمنی بچے قحط کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ادارے کامزید کہنا ہے کہ جنگ کی وجہ سے خواراک کی قیمتوں میں اضافہ اور یمنی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر مزید خاندانوں کو خوراک کی کمی کا شکار کرسکتا ہے ۔فی الوقت آثار ایسے نظر نہیں آرہے ہیں جس سے یمن کی حالت میں بہتری کی توقع کی جاسکے ۔ کیونکہ جن بندرگاہوں پر امدادی سامان پہنچتا ہے اور وہاں سے جنگ کے شکار علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے، ان بندرگاہوں کو جھڑپوں کی وجہ سے استعمال میں لانا دشوار ہورہا ہے۔
یمن میں حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان لڑائی کا آغاز 2015 کے اوائل میں ہوا تھا۔ پھر اس جنگ میں سعودی عرب اور اتحادی ممالک بھی شامل ہوئے۔اس کے بعد سے ملک کی حالت اتنی ابتر ہوتی چلی گئی کہ اب حالت یہ بن گئی ہے کہ نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے، کاشتکاروںکی کھیتیاں تباہ ہوچکی ہیں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں بھی وقت پر نہیں مل رہی ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں دو سال سے تنخواہ نہیں ملی۔جنگ کے بعد سے اب تک خوراک کی قیمتوں میں 68 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔اسی طرح یمنی ریال کی قدر میں اس عرصے کے دوران 180 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ جنگ زدہ یمن کو تیزی سے بڑھتے ہوئے ہیضے کے خوفناک بحران کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ میں اب تک 10 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے دو تہائی عام شہری تھے۔ جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 55000 بتائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اب تک ہونے والی ان ہلاکتوں کے ذمہ دار وہ سبھی فریق ہیں، جو اس جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق یمن میں 7.6 ملین انسان کم خوراکی کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے آدھے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
سچ بات تو یہ ہے کہ خطہ میں یمن دو بڑی طاقتوں ایران اور سعودی عرب کے بیچ برتری کی جنگ کی آماجگاہ یمن بناہوا ہے اور ان دونوں کی وجہ سے وہاں کے عوام پس رہے ہیں ۔ایسے میں اقوام متحدہ نے جو یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگ میں حصہ لے رہے فریقین یمن میں مصیبتوں کے ذمہ دار ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری ان دونوں یعنی ایران اور سعودی عرب پر ہی عائد ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *