کیوں بھول گئے ہم جے پی کو؟

11 اکتوبر بہت کم لوگوںکو یاد ہے۔ 11اکتوبر انھیں بھی نہیںیاد ہے، جن کی پہچان ملک میں11 اکتوبر کی وجہ سے ہی بنی۔ 11 اکتوبر لوک نائک جے پرکاش نارائن کا یوم پیدائش ہے اور اس یوم پیدائش کو سبھی بھول گئے۔ صرف کچھ لوگوں کو یاد رہا، کچھ چھٹ پٹ اداروںکو یاد رہا اور انھوںنے لوک نائک جے پرکاش نارائن کو اپنا خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ لیکن جنھیں خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے، وہ اس دنیا میںکہاںہیں؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک عام سا ٹویٹ کرکے اپنا فرض پورا ہوا مان لیا۔ اسی سرکار میںارون جیٹلی ہیں۔ وہ ارون جیٹلی نہیںہوتے، اگر جے پرکاش نارائن نہیںہوتے۔ ارون جیٹلی کو جے پرکاش نارائن یاد نہیںآئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) میںتقریباً پوری قیادت ، میںآج کی قیادت کی بات نہیںکر رہا ہوں،میںاٹل جی کے دور کی قیادت کی بات کر رہا ہوں، ناناجی دیش مکھ کے دور کی قیادت کی بات کر رہا ہوں، جن میںسب کی پہچان لوک نائک جے پرکاش نارائن کے ذریعہ بنی اور جنھیں جے پرکاش جی کی حمایت سے مرارجی دیسائی کی کابینہ میںجگہ ملی، ان سب کی ساکھ جے پرکاش جی کی وجہ سے ہی بنی۔ آج کے وزیر اعظم نریندر مودی ایمرجنسی میںجیل تو نہیںگئے تھے لیکن جیل میں بند اپنے ساتھیوںکو اخبار، ان کے خطوط اور کچھ کھانے پینے کا سامان پہنچانے ضرور جاتے تھے۔ اس لیے ان کا بھی ناطہ ترچھے ڈھنگ سے ہی سہی، جے پرکاش جی سے سیدھا جڑجاتا ہے۔ لیکن سرکار سے الگ جو سرکار کا حصہ ہے، جن میںرام ولاس پاسوان اہم ہیں، ان کی طرف سے کوئی خراج عقیدت 11 اکتوبر کو نظر نہیںآیا۔
بہار سرکار نے ضرور کچھ پروگرام بہار میںکیے۔ نتیش کمار بھی جے پرکاش آندولن کی پیداوار ہیں۔ وہ کچھ تقاریب میںگئے۔ سارے ملک نے 11 اکتوبر منایا لیکن 11 اکتوبر امیتابھ بچن کی وجہ سے منایا۔ انھیںجے پرکاش نارائن کا نام بھی یاد نہیںہے۔ انھیں امیتابھ بچن ، ان کی عظمت، ان کی اداکاری کے لٹکے جھٹکے ضرور یاد رہے۔ یہ اس ملک کا سب سے بڑا تضاد ہے، جہاںپر چندرشیکھر آزاد، بھگت سنگھ، راج گرو، جواہرلعل نہرو،لال بہادر شاستری، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، جے پرکاش نارائن سے زیادہ وہ یاد کیے جاتے ہیں، جنھوں نے ملک کو زندہ رکھنے میںکم، ملک کو انٹرٹینمنٹ کے مہانے تک پہنچانے میںسب سے زیادہ حصہ لیا۔ یہ صورت حال ہندوستان جیسے ملک میںہی ہوسکتی ہے۔

 

 

 

 

مجھے یاد ہے، ایک بڑے قلم کار نے لکھا تھاکہ اچھا ہواجو یہ سب ہمارے بیچ سے چلے گئے۔ اگر خدا انھیںدوبارہ ہندوستان دیکھنے کے لیے بلائے تو ایک بار کے بعد یہ دوبارہ کبھی ہندوستان آنا پسند ہی نہیںکریںگے۔ ہندوستان کے لوگوں کی ذہنیت کو دیکھ کر اور اپنے شاگردوں کے غیر انسانی بے حس برتاؤ کو دیکھ کر یہ اپنا سر پیٹ لیںگے اور خدا سے کہیںگے کہ اب ہمیںکم سے کم اس ملک میںمت بھیجنا۔ جو ملک جے پرکاش نارائن جیسے لوگوںکو بھول جاتا ہے، وہ ملک اسی طرح کے سماجی اور سیاسی خمیر کے جال میںپھنس جاتا ہے جیسے ہم پھنسے ہوئے ہیں۔
لیکن اس سے جے پرکاش نارائن کو کوئی فرق نہیںپڑتا۔ جے پرکاش نارائن نے اپنے دور میںناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ اس مردہ ملک کے لوگوں میںیہ جرأت نہیںتھی کہ وہ سورج کی روشنی کو، اس کی گرمی کو برداشت کرسکیں۔ اس ملک کے لوگوںکو جے پرکاش نارائن نے جلتی ہوئے آگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر دیا تھا۔ اس ملک کے لوگوں کو جمہوریت کے بنیادی عناصر کا علم جے پرکاش نے ہی کرایا۔ انھوںنے لوگوں سے کہا کہ اپنے نمائندوں کو کیسے قبضے میںرکھو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو بایولوجیکل اپوزیشن ہے یا شاستریہ اپوزیشن ہے، اس کے اوپر مت بھروسہ کرو بلکہ عوام کو خود کو اپوزیشن کا رول نبھانے کے لیے تیار رکھنا چاہیے۔ اسی کے لیے انھوں نے لفظ استعمال کیا تھا ایکسٹرا پارلیمنٹری اپوزیشن۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ صورت حال ملک میںنہیںبنتی، تب تک اس جمہوری نظام میںچنا ہوا ہر آدمی عوام کے مفاد کے خلاف ہی کام کرے گا۔ عوام کا کیا دباؤ ہوتا ہے، عوام کیسے اقتدار کو پلٹتے ہیں، اس کی مثال گاندھی کے بعد ملک میںجے پرکاش نارائن نے ہی پیش کی۔
کانگریس کے لوگ بھولنے میںبہت استاد ہیں۔ وہ یہ بھول گئے کہ 1977 میںجب جنتا پارٹی جیتی تھی اور کانگریس ہاری تھی اور اندرا گاندھی سابق وزیر اعظم بن گئی تھیں، اپنے گھر میںڈری سہمی بیٹھی تھیں، تب ان کے دروازے پر جو پہلا شخص پہنچا تھا، یہ کہنے کے لیے کہ اندو ڈرو مت، میںہوں، وہ جے پرکاش نارائن تھے۔ وہی جے پرکاش نارائن، جنھیںاندرا گاندھی نے 26 جون 1975کو جیل میںڈال دیا تھا، جہاںان کے دونوں گردے بیکار ہو گئے اور ساری زندگی انھیںڈائلیسس کرانا پڑا۔

 

 

 

آج کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یہ بھول گئے کہ کیسے ناناجی دیش مکھ کو جے پی کا پیار ملا اور ناناجی دیش مکھ نے اس پیار کے سہارے اٹل بہاری واجپئی جی اور لال کرشن اڈوانی کو جے پرکاش جی کے ساتھ کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ لالو پرساد یادو سمیت ملائم سنگھ یادو کا بھی نام میںلینا چاہوںگا۔ سارے سماجوادیوں کا میںنام لینا چاہوںگا کہ انھیںجے پرکاش نارائن کیوںنہیںیاد ہیں، یہ میںسمجھ نہیںپاتا۔ میںیہ سمجھ چکا ہوں کہ اکھلیش یادو، تیجسوی یادو کو جے پرکاش نارائن کا نام نہیںیاد ہوگالیکن ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد یادو کو تو ان کا نام یاد ہونا ہی چاہیے ، بیجو پٹنائک کے بیٹے نوین پٹنائک کو بھی جے پرکاش نارائن کا نام یاد نہیںہے جبکہ بیجو دا کو جے پرکاش نارائن بہت پیار کرتے تھے، وہ بھی ان سے ملنے اکثر جاتے تھے ۔
جے پرکاش نارائن سے طاقت لے کر آج اس ملک میںچمکنے والی پوری قیادت کہیںنہ کہیں لوک نائک جے پرکاش نارائن کی قرض دار ہے لیکن وہ اتنی ناشکری ہے کہ وہ اس بات کو مانتی نہیں۔ رام دھاری سنگھ دنکر نے لکھا تھا ، جے پرکاش ہے نام وقت کی کروٹ کی انگڑائی کا، بھونچال بونڈر کے خوابوںسے بھری ہوئی ترونائی کا۔ اس لا ئن کا مطلب آپ تلاش کیجئے اور سوچئے کہ یہ ’پنکتیاں‘کیسے جسم میںآگ پھیلادیتی ہیں۔ جے پرکاش کے بعد والی نسل کے لیے کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھونچال-بونڈر کے خوابوںسے بھری ہوئی ترونائی ہے۔
اچھا ہے ہم جے پرکاش نارائن کا نام بھول جائیں۔ اچھا ہے کہ ہم گاندھی کا بھی نام بھول جائیں ۔ کیونکہ ان کا نام یاد کرنے سے اپنی عدم تخیلی، اپنی کمزوری، اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ کیونکہ جے پرکاش نارائن نے حالات کے بیچ مداخلت کی تھی۔ وہ ایک بات کہتے تھے کہ اگر تم کچھ نہیںکرسکتے ہوتو تم ناانصافی کے خلاف اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اٹھا سکتے ہو۔ اختلاف کے لیے اپنا ہاتھ اٹھا سکتے ہو۔ آج کتنے ہیں اس ملک میںجو حالات کی افراتفری میںمداخلت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں یا غیر معمولی حالت کے خلاف اپنے اختلاف کا ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔ جو اس سچائی کو قبول کرکے آگے بڑھنے کی ہمت رکھے، اسی کو جے پرکاش نارائن کا نام لینے کا حق ہے۔ باقی سب کے لیے بہتر یہی ہے کہ جے پرکاش نارائن کا نام بھول جائیں اور یہ سوچ لیںکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میںہم جس سیاسی اوراقتصادی غلامی میںتھے، ہم اسی میںرہنے اور جینے کے لائق ہیں۔ آزادی کا ہمارے لیے کوئی مطلب نہیں ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *