مودی حکومت میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟

وزیر اعظم مودی اس معاملے میںسچ مچ بہت خوش قسمت ہیںکہ انھوںنے ملک میںایک ایسا حامی طبقہ تیار کر لیا ہے ، جس کی آنکھوںپر صرف اور صرف نریندر مودی کا چشمہ ہے۔ انھیں سرکار کے کیے گئے وعدے کبھی یاد نہیںآتے۔ سرکار نے کیا کیا کام کیے؟ اس کی فہرست انھیں یاد نہیںہے۔ سرکار کے کن اقدام کی وجہ سے مک میںکیا کیا مسائل پیدا ہوئے؟ اس پر وہ دھیان ہی نہیںدیتے اور سرکار کی وعدہ خلافی کے خلاف کسانوں، نوجوانوں، دلتوں،پسماندوں اور اقلیتوں کا غصہ ان کے لیے کوئی معنی نہیںرکھتا۔ ان کے لیے صرف اور صرف ایک ہی بامعنی لفظ ہے، نریندر مودی جنھیں وہ اگلے 50 سال تک فطرت کے قوانین کے خلاف جاکر وزیر اعظم بنانے کے لیے کمر کسے ہوئے ہیں۔ میںپہلی بار ایسا جوش یا انتہائی جوش دیکھ رہا ہوں کہ اگر وزیر اعظم مودی یہ اعلان کریںکہ مجھے اگلے 50 سال تک وزیر اعظم رہنا ہے اور آپ لوگ اپنی عمر میں سے دس دس سال مجھے دیجئے کیونکہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جو مجھے جتنے سال دے گا، اس کی عمر میں اُتنے ہی سال جڑ جائیںگے، تو میںمانتا ہوں انھیںکم سے کم ہزاروں سال عمر کا دان دینے والے لوگ پانچ منٹ کے اندر مل جائیں گے۔ ایسی قسمت بہت کم لوگوں کو ملتی ہے جیسی قسمت وزیر اعظم نریندر مودی لے کر پیدا ہوئے ہیں۔
تجزیہ ضروری
2018 انتخابی سال ہے،2019 تو ہے ہی۔ ان انتخابات سے قبل میڈیا کے توسط سے، دانشوروں کے توسل سے اور لوگوںکے ذریعہ اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ پچھلے ساڑھے چار سال میںہم نے کیا کھویا کیا پایا، کتنا آگے بڑھے؟ لیکن اس کا اندازہ تو دور کی بات ہے، ان سوالوںکے بارے میں بات ہی نہیںہوتی۔ گجرات انتخابات کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا ، اس کا پہلا پڑاؤ کرناٹک تھا۔ اس کے بعد کچھ ریاستوں کے انتخابات آنے والے ہیں، جہاںکی زمینی حقیقت کا جائزہ لینے پہلے شری امیت شاہ اور پھر شری نریندر مودی ان ریاستوں میںگئے۔ بنارس سے بات شروع کریں یا راجستھان سے ، راجستھان میںامیت شاہ جی کی سبھا میںکرسیاں خالی تھیں۔ جو لوگ سبھا میںآئے، وہ لائے گئے تھے۔ ان میںجوش نہیںتھا۔ بنارس میںامیت شاہ اور یوگی جی بیٹھے رہے۔خالی کرسیوںکو مخاطب کیا۔ ہر کرسی پر رکھا ناشتہ لوگوں کے منہ کی جگہ کسی اور کے پیٹ میں چلا گیا۔ کرسیاں بھی خالی رہیںاور ناشتے کے پیکٹ بھی بغیر استقبال کے وہاںپڑے رہے۔ خود وزیر اعظم مودی جب اپنے انتخابی حلقے میںگئے ،تب کرسیاںخالی تھیں۔ جیسے ہی انھوںنے حصولیابیوں کے بارے میںبیان شروع کیا ، ویسے ہی لوگ سبھا میںسے اٹھ کر جانے لگے۔ اگلی قطاروں کے بیٹھے لوگ بھی جانے لگے۔ خود وزیر اعظم صاحب کو اپیل کرنی پڑی، تھوڑی دیر اور بیٹھ جائیے لیکن لوگوںنے اسے بالکل نظرانداز کردیا۔
تازہ قصہ مدھیہ پردیش کا ہے۔ وہاںپر ملک کو اطلاع دینے والے ٹیلی ویژن چینل، اخبار، ماہرین تھے۔ وہ لگاتار ایک ہی بات کہتے رہے کہ لاکھوںلوگوں کی بھیڑ، تیرہ لاکھ لوگوں کا جم غفیر ہے لیکن کسی نے یہ نہیںبتایا کہ کتنے لوگ آئے اور کتنی کرسیاںخالی تھیں۔ خالی کرسیوں کے فوٹوگراف یا ویڈیو کلپنگ سوشل میڈیا پر دکھائی دیںلیکن ذمہ دار میڈیا، قومی میڈیا، مدھیہ پردیش کا شیو راج کا میڈیا ، ان سب نے اس کے بارے میںایک لفظ بھی نہیںبتایا کہ سچ مچ حالات کیا ہیں؟ اسٹیج پر وزیر اعظم نے کتنی بار شیو راج سنگھ سے بات چیت کی اور وہاں بیٹھ کر امیت شاہ سے کن مسائل پر وہ بات چیت کرتے رہے، اسے سبھا میںبیٹھے کارکنوں نے دھیان سے دیکھا۔ انھیںلگا کہ وزیر اعظم مودی ، شیو راج سنگھ چوہان کو کوئی ترجیح نہیںدے رہے تھے۔

 

 

 

 

شرکاء کم کیوں؟
آخر لوگ کیوں اب امیت شاہ جی اور وزیر اعظم کی سبھاؤں میںنہیںآرہے ہیں؟ اس کا تجزیہ کیے بغیر اعلان ہوتا ہے کہ میدان چھوٹا پڑگیا۔ آپ نے تاریخ بنادی، آپ نے کانگریس کو ہٹا دیا۔ سوال کانگریس کو ہٹانے اور کانگریس کو لانے کا نہیںہے۔ جس ایک بات کو امیت شاہ اور وزیر اعظم بار بار دوہرا رہے ہیں، جیسے لگتا ہے کہ ملک میںکانگریس کی حکومت ہے اور وہ کانگریس کی حکومت کو ہٹانے کے لیے کیمپین کر رہے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر لوگوںکو یاد نہیںدلاتے کہ لوگوںنے کانگریس کو اقتدار سے 2014 میںکیوںہٹایا تھا؟ 2014 میںاقتدار سے صرف اس لیے ہٹایا تھا کہ کانگریس کے کام کرنے کا انداز لوگوں کی زندگی پر اور پیٹ پر بہت بھاری پڑگیا تھا۔ یہیںپر وزیر اعظم نریندر مودی کی قسمت سامنے آتی ہے۔ ایک بولنے والا طبقہ، بھلے ہی چھوٹا ہو، لیکن وہ مؤثر ہے، جو سوشل میڈیا پر،اخباروں میں، ٹیلی ویژن پر صرف اور صرف وزیر اعظم مودی کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ جو مودی کو کامیابی کی علامت مانتا ہے۔ جو مودی کے رہتے ہوئے پاکستان پر جیت کا خواب دیکھتا ہے۔ 370 کو ختم کرنے کا خواب دیکھتا ہے، کشمیر کا حل بھی مودی کو ہی مانتا ہے۔
وزیر اعظم مودی جب کہتے ہیںکہ دنیا میںہندوستان کی آج اتنی زیادہ ساکھ ہے ، تب لوگ ساکھ کی تعریف نہیںپوچھتے۔ ساکھ اگر ہوتی تو ہمارے ملک میںغیر ملکی سرمایہ کاری آچکی ہوتی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم جن اعداد و شمار کو دیتے ہیں، دنیا کے اقتصادی ادارے اگلے دن ان اعداد و شمار کی تردید کردیتے ہیں۔ لیکن میںدوبارہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم مودی سب سے زیادہ خوش قسمت شخص کے طور پر ابھرے ہیں۔ کیونکہ ان کی کسی بھی نگیٹو چیز کو لوگ دیکھنا ہی نہیںچاہتے۔ قسمت ان کے ساتھ ہے۔ ایک بار مجھ سے مشہور اداکارہ اور سابق راجیہ سبھا رکن ریکھا نے کہا تھا کہ قسمت بہت بڑی چیز ہے۔ اگر قسمت آپ کے ساتھ ہو اور آپ کسی کو جوتے بھی ماریںتو لوگ کہیںگے واہ کیا ادا سے جوتے مار رہا ہے اور اگر قسمت ساتھ نہ ہوتو آپ پوجا بھی کریںتو لوگ کہیں گے کہ اس کو پوجا کرنے کا طریقہ بھی نہیں معلوم۔
آج وزیر اعظم کے ساتھ قسمت ہے۔ اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی ( بے جی پی) کے اندر اندرونی جنگ جس سطح پر چل رہی ہے، اس سطح پر تو کبھی کسی پارٹی میں دیکھی ہی نہیںگئی۔ جنرل بی سی کھنڈوری ، جو پارلیمانی کمیٹی کے چیئر مین تھے ، انھیںبی جے پی نے ہٹا دیا ہے۔ بے مثال کام ہوا کیونکہ جنرل کھنڈوری نے فوج کے حق میں رپورٹ دی ۔ اب شری مرلی منوہر جوشی کو ہٹانے کی تیاری ہورہی ہے کیونکہ مرلی منوہر جوشی نے جس طرح سے ’پراکلن سمیتی‘ کو ایمانداری کے ساتھ چلایا ہے، غیر جانبداری سے چلایا ہے، اس کی چاروں طرف تعریف ہورہی ہے۔ لیکن وہ تعریف بی جے پی کو یا اس کی قیادت کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ اب انھیںبھی ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پارٹی کے اندر کون کیا بنایا جاتا ہے، اس کاتجربہ ہے یا نہیں ہے، وہ پارٹی میںکس طرح کی ثقافت بڑھانا چاہتا ہے؟ یہ سارے حقائق اپنے آپ میںسوالیہ دائرے میںہیں۔ لیکن بی جے پی میں اندرونی انتشار ، اندرونی جھگڑا، ریاستوں کی قیادت کی کامیابی – ناکامی بحث کا موضوع نہیںہے۔ بحث کا موضوع صرف ایک ہے اور وہ ہے وزیر اعظم نریندر مو دی اور ان کی ہر ناکامی کو کامیاب بنانے کے لیے بہترین کیمپین، خاص طور سے سوشل میڈیا پر، کیونکہ جسے ہم مین اسٹریم میڈیا کہتے ہیں،وہ تو پیر چھونے والا ہوگیا ہے، ایسا دکھائی دے رہا ہے۔
ملک کے کسی لیڈر کی قسمت ایسی نہیںہے کہ اس کے کارکن اس کے لیے اتنے زیادہ وقف ہوں۔ اسی لیے بی جے پی بہت زیادہ جوش میںہے۔ بھلے ہی لوگوںکی تھالی میںروٹی نہ پہنچے، انھیںنوکری نہ ملے، داخلی یا خارجی طاقتیں کنٹرول میںنہ ہوں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیر اعظم مودی کا آبھا منڈل اس طریقے سے چمک دے رہا ہے کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی عوامی طور پر کہتے ہیںکہ’ بہار کے مہان اپرادھیو، اس پتریپکش میںتھوڑا سا اپرادھ کم کردو۔ ویسے تو آپ لوگ اپرادھ کرتے ہی رہتے ہو۔‘ اس جملے کو جس فخر کے ساتھ سشیل مودی نے کہا ہے، اس سے اب تک تو کسی کو شرم نہیںآئی ہے۔ نہ بی جے پی کو اور نہ ہی باقی سیاستدانوں کو۔ ایسا لگتا ہے کہ بہار کے بی جے پی لیڈر مجرموں کے سرپرست ہیںیا سارے جر ائم ان کے علم میںہوتے ہیں۔ جب میںیہ لکھ رہا ہوں تب تک سشیل مودی نے اس پر کسی افسوس کا اظہار نہیںکیا اور نہ ہی یہ کہا کہ وہ بولنا کچھ اور چاہتے تھے لیکن بول کچھ اور گئے۔ سشیل مودی ایسے آدمی ہیںنہیں لیکن جب ملک میںنظام ہی ایسا ہو تب سشیل مودی اگر یہ کہیںتو اس سے ہمیں ملک میں شروع ہوئے نئے ثقافتی تیور کو پہنچاننے میںکوئی بھول نہیںکرنی چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *