امریکہ – سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ کے اشارے

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اگر امریکی کردار کی بات کی جائے تو اس کے ساتھ کہیں نہ کہیں سعودی عرب کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور اس کی وجہ دونوں کے خطے میں ایک دوسرے کے مفادات سے جڑا 70 سالہ اتحاد ہے۔لیکن رواں ماہ میں ایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنے کے لیے اعلیٰ سفارتی دوروں کے بجائے میڈیا کے ذریعے بیانات دینے پڑے۔اس ماہ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو کہا تھا کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر ’دو ہفتے‘ بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے جس کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا وجود امریکہ کے بغیر بھی رہا ہے۔
البتہ اس بار سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کا معاملہ زیادہ سنگین ہوگیا ہے۔ کیونکہ اس بار معاملہ سعودی بادشاہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان نہیں رہا بلکہ یہ ایک سفارتی تنازع بن گیا ہے جس میں امریکہ کے اندر سے دباؤ آ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ دیگر یوروپی ممالک بھی سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ترکی کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انہیں قونصلیٹ کے اندر قتل کردیا گیا ہے ۔ترکی اس کے لئے کچھ شواہد بھی پیش کرر ہا ہے۔
جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوگیاکہ سعودی صحافی جمال خشوگی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے’سخت سزا‘ دیں گے۔اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی جس میں میڈیا کے ذریعے اطلاعات سامنے آئیں کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر تیل کی ترسیل روک سکتا ہے جس سے قیمتوں میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اسٹریٹیجک اعتبار سے اہم علاقے تبوک میں روس کو اڈہ دینے پر تیار ہو سکتا ہے، ایران سے بات چیت شروع کر سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ سے اسلحے کی خریداری روک سکتا ہے۔

 

 

 

خیال رہے کہ امریکی اسلحے کے سب سے زیادہ خریدار مشرق وسطیٰ میں ہیں اور مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے۔سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کی جانب سے جوابی دھمکیوں کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جمال خشوگی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ ’بدمعاش قاتل‘ بھی ہو سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے دو دن پہلے کے سخت موقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خشوگی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔
نفسیاتی جنگ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ میڈیا پر بیانات کے ذریعے مخالفین کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اپنے عوام کو اپنی حمایت میں لیا ۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتوں کی طرف سے اس طرح کے بیانات میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ اب تک میڈیا میں بیان بازی کرکے ٹرمپ سعودی عرب پر نفسیاتی دبائو بناتے رہے ہیں ۔ویسے ایک بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو بہت زیادہ ناراض بھی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ امریکہ کا خطے میں سب سے بڑا اسلحہ کا خریدار ہے۔امریکہ سعودی عرب کو آئندہ آنے والے سالوں میں 120 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کے سعودی عرب سے معاشی مفادات جڑ ے ہوئے ہیں۔
خطے کی صورتحال میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے اور اس وقت جب امریکہ کے ایران سے جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد معاملات خراب ہیں تو امریکہ نہیں چاہے گا کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کو بھی اس کا بخوبی علم ہے کہ اگر امریکہ کی تیل کی ترسیل میں دلچسپی تھوڑی کم ہو بھی گئی ہے لیکن دوسرے سیاسی اور اسٹریٹجیکل مفادات برقرار ہیں۔حالانکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے امریکہ کے کسی بیان کے خلاف کھل کر اسٹینڈ لیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی پالیسی میں کچھ تبدیلی آرہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی عرب روس سے تعلقات میں بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ مکمل طورپر اپنے دفاعی معاملوں میں امریکہ پر ہی منحصر نہیں ہوگا۔

 

 

 

امریکہ کے، انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز میں، جنوبی ایشیا کے امور کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کا معاملہ ایک بڑا سفارتی مسئلہ بن گیا ہے اور لگتا ہے کہ یہ آسانی سے حل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اسے حل کرنا کافی مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں گے لیکن اس کے ساتھ امریکہ نے سعودی عرب پر دباؤ ڈالا ہے جس کی وجہ سے معاملہ اس طرف جا رہا ہے جس میں سعودی عرب کو اب کچھ نہ کچھ تسلیم کرنا پڑے گا۔صدر ٹرمپ کے سعودی عرب کے خلاف سخت لہجہ کے پیچھے کی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ امریکہ میں اگلے ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔اب ٹرمپ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کا سعودی عرب کے ساتھ رویہ نرم نہیں ہے ۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز میں مشرق وسطیٰ کے امور پر کام کرنے والی آرحمہ صدیقی بھی صدر ٹرمپ کے سخت رویے کو کانگریس اور میڈیا کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ دونوں ممالک کے خطے میں مشترکہ مفادات کی وجہ سے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ دونوں ملکوں میں کسی طرح کا کوئی بگاڑ آئے گا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو نہیں بلکہ اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے اور خطے میں ایران کی وجہ سے امریکہ کو سعودی عرب کی صورت میں اتحادی چاہیے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *