یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فار نے ہندوستان کاکیا ہفتہ بھر طویل دورہ

Unicef
نوجوانوں اور بچوں کیلئے فوری طور پر سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دینے کے ساتھ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر ہینریٹا فار نے ہندوستان کا اپنا پہلا دورہ ختم کیا۔نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں اختتامی گھنٹی بجا کر فار نے اپنی آخری عوامی مصروفیت کا آغاز کیا۔ ممبئی میں بچوں کیلئے سرمایہ کاری کرنے کے اقتصادی فوائد پر تبادلہ خیال کرنے اور مشترکہ قدر شراکت داروں کو تلاش کرنے کے لئے انہوں نے اعلیٰ کارپوریشنوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ہندوستان اور دیگرترقی پذیر ممالک کو چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے ہاتھ ملا کر کام کرنے کے نقطہ نظر کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے ہینریٹا فارنے کہاکہ نوجوانوں کو مل کر کام کرنے کے ساتھ ہمیں کاروبار، حکومتوں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ کارپوریشنز ہندوستان اور دنیا بھر میں نوجوانوں کے لئے منفرد صلاحیتیں اور مہارت رکھتی ہیں۔ چاہے یہ بڑے پیمانے پر تعمیر اور سماجی موبلائزیشن ہو جیسے ‘سوچھ بھارت’ یا مستقبل کے رہنماؤں اور انوویٹرس (نیا آئیڈیا دینے والا) کی تیاری کی کاروائی۔
مہاتما گاندھی انٹرنیشنل صفائی کنونشن نئی دہلی میں ہینریٹا فار نے یکم اکتوبر کو اہم کلیدی خطبہ کے ساتھ اپنے دورے کا آغاز کیا، اس تقریب میں 45 وزراء اور دنیا بھر کے ماہرین شامل تھے ۔ انہوں نے ملک کے پرچم بردار سوچھ بھارت (کلین انڈیا) مشن کی تعریف کی، جس مہم کا مقصد ملک بھر میں گلیوں کو صاف کرنا، ہندوستان کے شہروں، سڑکوں اور دیہی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو صاف ستھرا کرنا ہے۔
نئی دہلی میں نیتی آیوگ کے ساتھ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہاکہ نوجوانوں کو حکومت کے ساتھ کام کرنے کی غرض سے طویل مدتی پہل کو متحرک کرنے کے لئے یو واہ!، کو برتری حاصل ہو، نو عمروں اور نوجوان لوگوں کو ہنر مند بنانے اور معیشت میں شرکت، سکھانے میں سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔
دہلی سے مرزاپور( اتر پردیش) کے ایک گاؤں کا یونیسیف نمائندہ نے دورہ کیا جہاں وہ یونیسیف کے تعاون سے چلائے جا رہے زچہ،بچہ کی صحت، غذائیت، حفظان صحت، صاف صفائی اور نوجوانوں کے پروگراموں کا جائزہ لیا۔اس دوران انہوں نے آنگن واڑی کے بچوں سے بات چیت بھی کی۔یونیسیف کی مدد سے چلائے جا رہے گھریلو نوزائیدہ دیکھ بھال پروگرام کے تحت ایک نوزائیدہ اور ماں کی اپنے دورے کے دوران جانچ پڑتال کی اور دیہی بچے کی دیکھ بھال، مرکز اور ایک معتبر سماجی صحت کارکن کے ساتھ گفتگو کی۔
اس سلسلے میں انہوں نے ایک لڑکی سے بھی بات کرنے کے علاوہ اپنے سماج میں کام کر رہے نو عمروں کے گروپ کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پرفار نے کہا کہ وہ لڑکیاں قیادت کرنے کے لئے تیار ہیں، بچوں اور خواتین کے خلاف ہو رہے تشدد کی مخالفت میں اپنی آواز اٹھائیں گی، کیا یہ کم عمر شادی کو روکنے اور دوسروں کی کم عمر میں شادی نہ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گی، یا روزمرہ کے چیلنجوں سے نپٹنے کیلئے اپنے طور پر حل تلاش کریں گی۔انہوں نے کہاکہ مرزاپور کی نوجوان خواتین سے مل کر مجھے احساس ہوا کہ تبدیلی کی یہ حقیقی چیمپئنز ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *