ریپ وتشددمعاملہ:رکن پارلیمنٹ پپویادوپہنچے گجرات،جانیں کیاکہا

pappu-yadav
جن ادھیکارپارٹی کے سربراہ اوربہارکے مدھے پورا سے رکن پارلیمنٹ پپویادو گجرات سے بھگائے جارہے لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے گجرات پہنچے ۔انہو ں نے سابرکانٹھا ضلع کے ہمت نگر میں ریپ متاثرہ بچی کے کنبہ سے ملاقات کی اورانہیں ایک لاکھ روپے دیکرمدد کی ۔
پپویادونے گجرات میں جمعہ کوکہاکہ اب وقت آگیاہے کہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کے خلاف جنگ شروع کی جائے۔ملک میں خودغرضی اورووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے بہارکے لوگوں کونشانہ بنایاجارہاہے۔اب ایسی سیاست کرنے والوں کوبہارمیں نہیں گھسنے دینے کوچیلنج کرتے ہوئے کہاکہ بہارمیں دلت ،انتہائی پسمانددلت ، اگڑااورپچھڑا کے نام پرسیاست سے چھٹکاراملناچاہئے۔
رکن پالیمنٹ پپویادو نے ریپ کے معاملے میں میڈیکل جانچ کوعام کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اگرمبینہ طور پر بچی کے ساتھ ریپ ہواہے توقصوروار کوپھانسی دی جانی چاہئے ۔لیکن اس کے نام پربہارکے سارے لوگوں کونشانہ نہیں بنایاجاسکتا۔واقعہ کے بعد بہار اوراترپردیش کے لوگوں پرہوئے حملے کیلئے بی جے پی سرکارکوذمہ دارٹھہراتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ اس معاملے کی عدالتی جانچ ہونی چاہئے۔پپویادو نے مزیدبتایاکہ ’’اس واقعہ کے جوبھی ملزم ہیں اس کا متاثرہ کے گھرآنا جانا کئی سالوں سے تھا،اس کی بھی جانچ ہونی چاہئے کہ کیاملزم کے پیچھے کوئی دشمنی یا کوئی اوروجہ تونہیں ہے‘‘۔ انہو ں نے سوالیہ لہجے میں کہاکہ واقعہ کے بعد تین دنوں تک ملزم اورتشدد دونوں کے ویڈیووائرل ہوتارہا لیکن انٹرنیٹ کوبند کیوں نہیں کروایاگیا۔انہو ں نے الزام لگایاکہ بی جے پی کے لوگ الپیش ٹھاکر کوبی جے پی میں لانا چاہتے تھے۔وہ جب اس میں کامیاب نہیں ہوئے توایک سازش کے تحت اسے بدنام کرایاگیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *