یوپی میں فیل ہے حکومت و انتظامیہ

علی گڑھ مڈبھیڑ، لکھنؤ میں پولیس کے سپاہی کے ذریعہ کیے گئے قتل اور بی جے پی لیڈر کے تحفظ میںچلنے والے ڈرگ سنڈیکیٹ کو پکڑ نے والی موہن لال گنج کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (سی او) کا 24 گھنٹے کے اندر تبادلہ۔۔۔حال میں ہوئے واقعات کے یہ تین ٹیسٹ کیس ہیں جو تقریر، حکومت اور انتظامیہ کے تضادات کی تلخ مثالیں ہیں۔ مجرم، لیڈر اور پولیس کا تعلق یہ ہے کہ ڈرگ سنڈیکیٹ بی جے پی کے لیڈر اور یوگی سرکار کے ایک وزیر مملکت کے تحفظ میںچلتا ہے۔ اہم ملزم دعویٰ کرتا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر سی او کا تبادلہ ہو جائے گا اور تبادلہ ہوجاتا ہے۔ اہم ملزم پکڑا نہیںجاتا اور سی او کو پولیس ہیڈکوارٹر میںڈمپ کیے جانے کا ڈی جی پی کا حکم جاری ہو جاتا ہے۔
ڈرگ سنڈیکیٹ اجاگر کرنے کے 24 گھنٹے کے اندر خاتون پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کے واقعے سے بات شروع کرتے ہیں ۔ خبر آئی ہے کہ موہن لال گنج کی پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (سی او) بینو سنگھ نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر گوسائیںگنج کے جوکھنڈی گاؤںمیںڈرگ سنڈیکیٹ کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میںاسمیک اور دیگر نشیلی اشیاء برآمد کیں۔ پو لیس کو جس شاطر ڈرگ اسمگلر موہت شکلا کی تلاش تھی، وہ تو بھاگنے میںکامیاب ہوگیالیکن اس کا بھائی انکورشکلا رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا۔ اصلی واقعہ اس کے بعد شروع ہوا۔ کلیدی ملزم موہت شکلا نے پہلے تو سی او کو بھاری رشوت دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی پیش کش کی، پھر یوگی سرکار کے دو تین وزیروں سے سی او کو فون کرایا گیا لیکن سی او کے ذریعہ انکار کردینے پر ان ہی وزیروں کے ذریعہ اس نے 24 گھنٹے کے اندر سی او کا تبادلہ کراد ینے کی دھمکی دلوائی۔ علاقے کے لوگ ڈرگ اسمگلر اور بی جے پی لیڈر کے تعلق کو جانتے ہیں، اس لیے وہ تبادلے کو لے کر پہلے مطمئن تھے۔ لکھنؤ پولیس کے ایس ایس پی یا ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے خاتون سی او کو تعریف ملنے کی جگہ تبادلے کا حکم حاصل ہوگیا۔ سی او بینو سنگھ کو موہن لال گنج کے سی او کے عہدے سے ہٹاکر انھیںڈی جی پی ہیڈ کوارٹرسے اٹیچ کردیا گیا۔
تین مہینے کے اندر سی او کا تبادلہ کرنے سے موہن لال گنج علاقے کے لوگ ناراض ہو گئے اور پورے علاقے میں سی او کی پھر سے بحالی کی مانگ ہونے لگی۔ تبادلے کی وجہ کے بارے میںجانکاری ملنے پر موہن لال گنج کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے فوراً وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی اور انھیں ڈرگ سنڈیکیٹ سے جڑے حقائق اور وزیر مملکت کی سطح کے بی جے پی لیڈر کے ذریعہ دیے جارہے تحفظ کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعلیٰ نے سی او کا تبادلہ روکنے کا حکم دیالیکن اس کے باوجود پولیس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے سی او کو موہن لال گنج سی او کی پہلی تعیناتی پر نہیںبھیجا۔ ڈی جی پی نے بس اتنا کیا کہ پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ہیڈ کوارٹر میںاٹیچ نہ کرکے انھیں ٹریفک پولیس میںٹرانسفر کرنے کا فرمان سنادیا۔ رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے ڈی جی پی سے بات کی اور انھیںاس بات کے لیے آڑے ہاتھوں لیا کہ ڈرگ اسمگلروں کا ساتھ دے کر پولیس مقامی لوگوںکو سرکار کے تئیںناراضگی پیدا کر رہی ہے۔ میڈیا نے بھی اسے طول دیا۔ راقم الحروف نے بھی ڈرگ اسمگلروں کے خلاف چھاپہ ماری سے لے کر سی او کے تبادلے کے بیجا حکم کو لے کر ڈی جی پی سے سوال پوچھے لیکن ڈی جی پی نے ان سوالوںکے جواب دینے کی ضرورت نہیںسمجھی۔ ڈی جی پی نے سی او کے ٹرانسفر کا حکم ایک بار پھر بدلا اور انھیںبخشی کا تالاب علاقے کا سی او بناکر بھیج دیا۔

 

 

 

موہن لال گنج کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کہتے ہیں کہ وہ اس پارلیمانی حلقے کے رکن پارلیمنٹ ہیں، لہٰذا اپنے پارلیمانی حلقے کے شہریوں کا دھیان رکھنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ڈرگ اسمگلروں کے پھیلتے دھندے اور انھیں ریاستی وزیر سطح کے بی جے پی لیڈر کے ذریعہ مل رہے تحفظ اور پولیس کی ملی بھگت کے سبب علاقے کے لوگوں میںکافی غصہ ہے۔ ڈرگ کے سبب نئی نسل برباد ہو رہی ہے۔ڈرگ اسمگلروں کو پکڑنے والی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بینو سنگھ کا 24 گھنٹے کے اندر تبادلہ پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کا اصلی کردار اجاگر کرتا ہے۔ کوشل کہتے ہیںکہ انھوںنے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مل کر ساری صورت حال بتائی اور یہ بھی بتایا کہ پولیس کا سلوک سرکار مخالف اور بی جے پی مخالف ثابت ہورہا ہے۔ آنے والے الیکشن میں اس کا خمیازہ کون بھگتے گا۔ المیہ یہ ہے کہ رکن پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرانے اور سی او کا تبادلہ روکنے کا حکم دینے کے باوجود ڈی جی پی نے وزیر اعلیٰ کی نہیںسنی اور انھیںواپس پہلی تعیناتی پر نہیںبھیجا ۔ قابل ذکر ہے کہ فرار ڈرگ اسمگلر موہت شکلا اور یوگی سرکار کے وزیر مملکت (چیئرمین پیکسفیڈ) ویریندر تیواری کی ’انت رنگ‘ تصویر سوشل نیٹ ورک پر بھی خوب وائرل ہوئی۔ اس کے باوجود حکومت و انتظامیہ کی کھال پر کوئی اثر نہیںہوا۔
سی اوکے تبادلے کے پیچھے وجہ کچھ اور بھی ہے
موہن لال گنج میںکالونیاں ڈیولپ کر رہے مشہور ایم آئی بلڈرس کوکلین چٹ نہیںدینے کی وجہ سے بھی اعلیٰ پولیس افسرسی او بینوسنگھ سے ناراض ہیں۔ سی او قانونی طور پر اس دلت خاندان کے ساتھ کھڑی ہیں، جس کی زمین پر بلڈر اپنا قبضہ چاہتا ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹر کے ہی ایک افسر نے کہا کہ ریاست کے کئی سینئر پولیس افسروں نے اس بلڈر کمپنی میں موٹی رقم کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، لہٰذا ان کی ناراضگی فطری ہے۔ اس ریئل اسٹیٹ کمپنی میںکچھ سابق پولیس ڈائریکٹر جنرل، موجودہ ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل سمیت کئی پولیس افسروںکا پیسہ لگا ہواہے۔ مضحکہ خیز المیہ یہ بھی ہے کہ ریئل اسٹیٹ کمپنی میںپیسہ لگوانے کا کام دو ریٹائرڈ پولیس افسربچولیوںکے طور پر کرتے ہیں۔
لکھنؤ: حفاظت کے بجائے قتل کر رہی ہے پولیس
اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میںپولیس کے سپاہی پرشانت چودھری کے ذریعہ ایپل کمپنی کے ایریا سیلز منیجر (نارتھ) وویک تیواری کو گولی مارکر قتل کردیے جانے کے واقعہ نے صرف لکھنؤ کیا پوری ریاست میںسنسنی پھیلا دی۔ پروڈکٹ لانچنگ تقریب کے کافی دیر تک چلنے کی وجہ سے وویک تیواری اپنی ساتھی خاتون ثناء خان کو اس کے گھر چھوڑنے جارہے تھے۔ سپاہی پرشانت چودھری اور سندیپ نے ان کی گاڑی روکنے کی کوشش کی اور نہیںماننے پر آگے سے گھیر کر سیدھے سر پر نشانہ لے کر وویک کو گولی مار دی۔ وویک کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد لکھنؤ پولیس نے قاتل سپاہی کو پکڑنے کے بجائے تمام نوٹنکیاں دکھانی شروع کردیں۔ واقعہ کی چشم دید ثناء خان سے منمانی تحریر لکھوائی اور سپاہی کو پہچاننے کے باوجود نامعلوم کے خلاف معاملہ درج کرلیا۔ بعد میں طول مچنے پر انتظامیہ کو نامزد ایف آئی آر درج کرنے اور ملزم سپاہیوں کو گرفتار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سرکار نے مرحوم وویک کے متعلقین کو معاوضہ اور بیوہ کو نگر نگم میںملازمت تو دی لیکن پولیس کی حرکت تھمی نہیں۔ لکھنؤ پولیس کے ایس ایس پی کلا ندھی نیتھانی یہی کہتے رہے کہ یہ نہیں پتہ چل رہا کہ وویک تیواری کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے یا گاڑی کا حادثہ ہونے سے۔جب پوسٹ مارٹم رپورٹ نے وویک کی گولی سے مرنے کی تصدیق کردی تب جاکر پولیس افسروں کا بڑبولا پن تھمالیکن معاملے کو الجھانے کا سلسلہ تھما نہیںہے۔

 

 

 

 

قتل کرنے کے بعد قاتل سپاہی پرشانت چودھری نے گومتی نگر تھانے میںجاکر جو وبال کیا،وہ بھی لوگوںکے لیے حیران کرنے والا واقعہ ہے۔ پرشانت چودھری کی بیوی راکھی چود ھری بھی پولیس میںکانسٹبل ہے۔ قتل کے ملزم سپاہی کی بیوی کے بینک کھاتے میں اچانک ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا جمع ہونا بھی مشکوک ہے۔ راکھی چودھری میرٹھ کی رہنے والی ہے۔ اس کا بینک کھاتہ کنونی شوگر مل میںواقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا میںہے۔ اس کے کھاتے میںپچھلے دنوں ساڑ ھے پانچ لاکھ روپے جمع ہوئے۔ اس سے پہلے راکھی کے کھاتے میں محض 447.26 روپے تھے۔ بینک کا کہنا ہے کہ راکھی کے کھاتے میںپیسہ جمع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ راکھی کا لکھنؤ سے بلیا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ دیگر مدعوں پر لکھنؤ پولیس کے افسر خاموشی سادھے ہوئے ہیں۔ سرکار نے اتنا ہنگامہ کھڑا ہونے کے باوجود وویک تیواری قتل کیس کی سی بی آئی جانچ کا حکم کیوں نہیںدیا، اس پر بھی سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔
علی گڑ ھ ’لائیو‘ مڈبھیڑ کی اصلیت کچھ اور ہے
علی گڑھ میںگزشتہ دنوں مڈبھیڑ میںدو ملزموں کے مارے جانے کی خبر اس بات کے لیے سرخیوں میںرہی کہ پولیس نے مڈبھیڑ دکھانے کے لیے پہلے سے میڈیا والوں کو جمع کررکھا تھا۔ سارے چینلوں پر لائیو مڈبھیڑ دکھائی گئی۔ ’لائیو‘ مڈبھیڑ کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھیں تو اس میں گولیاں چلاتے جانباز پولیس اہلکار فوٹو کے لیے پوز دیتے دکھائی دیں گے اور آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ پہلے سے ہی مارے جاچکے ملزمان کی لاشیںرکھ کر موقعہ پر مڈبھیڑ کی ایکٹنگ ہورہی ہے۔ پولیس کی کہانی یہ تھی کہ علی گڑھ ضلع کے ہردوا گنج میںپولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میںدو بدنام زمانہ بدمعاش مارے گئے۔ گولی لگنے سے یک پولیس افسر بھی زخمی ہوا۔ مضحکہ خیز حقیقت یہ بھی ہے کہ پولیس ملزموں کو مارنے کے ارادے سے گولی چلا رہی تھی لیکن ملزم پولیس افسر کے پیر پر نشانہ لے رہے تھے۔ پولیس کہتی ہے کہ پیچھا کرنے پر ملزم ہردوا گنج کی مچھوا نہر کے پاس بنی محکمہ آب پاشی کی کوٹھری میںگھس گئے۔ دونوںطرف سے ایک گھنٹے مڈبھیڑ چلی، جس میںنوشاد اور مستقیم مارے گئے۔ وہ دو سادھوؤں سمیت چھ لوگوں کے قتل میںمطلوب ملزم تھے۔
اس ’لائیو‘ مڈبھیڑ کا سچ یہ ہے کہ 18 ستمبر کو پریس کانفرنس کے ذریعہ پولیس نے ملزموںکو گرفتار کیے جانے کی جانکاری دی تھی۔ یہ پریس کانفرنس جلدبازی میں بلائی گئی تھی کیونکہ 16 ستمبر کو اترولی سے چھ لڑکوں کو پولیس کے ذریعہ اٹھائے جانے کے بعد سے ان کے متعلقین پریشان تھے اور انھیںتلاش کر رہے تھے۔ پکڑے گئے نوجوانوں میںشامل عرفان کو اس کی بیوی سمیرا نے ڈاکٹر یاسین کے ساتھ علی گڑھ ایس ایس پی دفتر میںدیکھ لیا۔ عرفان کی طرف سے وہ بڑھی لیکن پولیس نے اسے روک لیا۔ عرفان کی بیوی کو بھی پکڑ کر خواتین پولس کے حوالے کردیا گیا۔ اس کے بعد ہی پریس کانفرنس بلاکر پانچ لڑکوںکو گرفتار دکھایا گیا، جن میںعرفان اور یاسین شامل تھے۔ پولیس نے مستقیم، نوشاد اور افسر کو بھگوڑا قرار دیتے ہوئے ہر ایک پر 25 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔ مستقیم ، نوشاد کا رشتے میںبہنوئی تھا۔ دوسری طرف مستقیم اور نوشاد کے متعلقین کو پولیس نے ان کے گھروںسے باہر نہیںنکلنے دیا۔ اس پر سوال اٹھانے پر ’یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ‘ کی ٹیم پر اترولی تھانے میںحملہ ہوا۔ رہائی منچ کا کہنا ہے کہ حاجی عمران نام کے شخص کا اس معاملے میںمشکوک کردار ہے۔ اس نے ہی عرفان کو پولیس کے حوالے کرایا اور اسی نے مستقیم اور نوشاد کو بھی پولیس سے پکڑوایا۔ بعد میںمستقیم اور نوشاد دونوں ہی فرضی لائیو مڈبھیڑ میںمارے گئے۔
نوشاد کی عمر 17 سال تھی اور مستقیم 22 سال کا تھا۔ لاشوں کو مذہبی رسوم ادار کیے بغیر دفنا دیا گیا ار ان کے متعلقین کو ایف آئی آر کی کاپی اور پوسٹ مارٹم کی رٹ تک نہیںدی گئی۔ نوشاد اور مستقیم دونوں کا پولیس ریکارڈ میںکہیںکسی جرم میںنام نہیںہے۔ مستقیم کا 17 سال کا بھائی سلمان بھی پولیس کی گرفت میںہی ہے۔ اس کے علاوہ دماغی طور پر معذور 23 سال کے نفیس کو بھی پولیس نے پکڑ رکھا ہے۔ لڑکوںکے مشکوک طریقے سے اٹھائے جانے کی اطلاع ڈاکٹر یاسین کی بیوی نیہاناز نے فیکس کے ذریعہ وزیر اعلیٰ، آئی جی لکھنؤ، ڈی آئی جی علی گڑھ زون، علی گڑھ کے ایس ایس پی، اترولی کے تھانہ انچارج اور ہردوا گنج کے تھانہ انچارج کو بھیج دی تھی لیکن اس پر کوئی نوٹس نہیںلیا گیا۔ علی گڑھ کی ’لائیو‘ مڈبھیڑ اترولی اور ہردواگنج تھانے کے انچارج اور علی گڑھ ایس ایس پی اجے ساہنی سمیت حاجی عمران کی سازشوںکا نتیجہ ہے۔ مڈبھیڑ میںمارے گئے نوشاد کی ماں شاہین کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا مزدوری کرتا تھا۔ پولیس نے نوشاد اور مستقیم کو اترولی تھانہ علاقے سے کئی لوگوںکے سامنے جبراً اٹھالیا تھا۔ اس سے ہی مڈبھیڑ کی کہانی فرضی ثابت ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *