سرسید احمد خاں بین المذاہب مفاہمت اور رواداری کے علمبردار تھے: پروفیسر علی محمد نقوی

Prof-Ali-M-Naqvi
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے سنٹر برائے بین المذاہب مفاہمت کی جانب سے ایک سمپوزیم کا انعقاد سرسید اکیڈمی میں کیا گیا جس میں متعدد دانشوروں نے اظہار خیال کیا۔ ’بین المذاہب مفاہمت کی تحریک میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کردار اور مجوزہ انٹر فیتھ کانفرنس کے سلسلہ میں مشورے‘ موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر علی محمد نقوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانئ درسگاہ سرسید احمد خاں بین المذاہب مفاہمت اور رواداری کے علمبرداروں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے کہا ’اے ایم یو نے سو برس سے زائد عرصہ سے ہندوستانی عوام خاص طور سے مسلمانوں کی فکر کی تشکیل کی ہے اور جب بین المذاہب مفاہمت کی تحریک کی آواز اے ایم یو سے اٹھے گی تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے‘۔
پروفیسر نقوی نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب و عقائد کے باشندے ہیں جہاں راجہ رام موہن رائے، سرسید احمد خاں، سوامی وویکانند ، مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں نے بین مذہبی رواداری کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی تلقین کی، دستور ہند میں بقائے باہم اور سیکولرزم کے اصولوں کو شامل کیا گیا جو ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے۔
سنٹر برائے بین المذاہب مفاہمت کے مقاصد و عزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر نقوی نے کہا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لاکر قومی یکجہتی کو فروغ دینا، ہم خیال تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا، امن کی کوششوں کو فروغ دینا، خاص طور سے حساس علاقوں میں بین المذاہب بھائی چارہ کا فروغ،بہتر ہندو۔مسلم روابط کے راستے تلاش کرنا اور اس سلسلہ میں تحقیق و اشاعت کو اپنانا، سرسید اور علی گڑھ تحریک کے خیالات و افکار کی ترویج و اشاعت اور مختلف مذاہب کے اسکالرس کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر بین المذاہب مفاہمت کی راہ ہموار کرنا ہمارے مشن کا حصہ ہے۔
پروفیسر علی محمد نقوی نے بتایا کہ سنٹر کا قیام 6؍جنوری 2016کو کیا گیا تھا مگر اسے عملی شکل دینے کے اقدامات وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی مدت کار میں ہوئے ہیں جس کے لئے وہ مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ انھوں نے سنٹر کی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر مرزا اسمر بیگ نے کہاکہ سماج کے مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے لئے عزت و احترام کو فروغ دینے اور اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
شعبۂ دینیات کے پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہاکہ قرآن مجید نے بین المذاہب مفاہمت کی بنیاد رکھی ۔ انھوں نے پیغمبر اسلام محمد مصطفی ﷺ کی زندگی سے مختلف مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تعلقات کی بہتری کے لئے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مکالمہ اور گفت و شنید ناگزیر ہے۔
’رلیجن ورلڈ‘ کے بانی مسٹر بھوّیا شریواستو نے کہا کہ انتہاپسندی اور تعصب کے آج کے دور میں بین المذاہب مفاہمت وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ دنیا میں امن تبھی قائم ہوسکتا ہے جب مذہب کے پیروکاروں میں یہ صفت موجود ہو ۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی خاص مذہب کے پیروکار ہوسکتے ہیں مگر ہمیں دوسرے مذاہب کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ انھوں نے سنٹر کے قیام کے لئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کا بطور خاص شکریہ ادا کیا۔
بِرج کورس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشد شاز نے کہا کہ بین المذاہب مفاہمت کے ساتھ ساتھ ہمیں مسالک کے درمیان بھی گفت و شنید اور مکالمہ پر زور دینا چاہئے۔ ڈاکٹر فائزہ عباسی نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جس میں ڈائیلاگ اور مکالمہ ہوسکے اور مشترکہ قدروں کی شناخت کی جاسکے۔ سمپوزیم میں ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ و ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ، ڈاکٹر مفتی زاہد علی خاں، ڈاکٹر منیرہ ٹی، ڈاکٹر ظفر دارک، مسٹر رضا عباس، جناب جے کشن سمن اور دیگر معززین موجود تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شارق عقیل نے انجام دئے۔ انھوں نے مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *