اسمارک گھوٹالہ اب گھیری جارہی ہیں مایاوتی

ہندوستانی سیاست یونانی کہانی کی خوبصورت خاتون پینڈورا کی طرح ہے جس کے ہاتھ میںدستکاری کے دیوتا ایک باکس دے کر ہدایت دے رہے ہیں ، ’اسے کبھی کھولنا نہیں لیکن متجسس پینڈورا اس باکس کو کھول دیتی ہے اور باکس میں بند ساری برائیاںدنیا کو آلودہ کرنے کے لیے آزاد ہوجاتی ہیں۔ ہندوستان میںجب بھی الیکشن آتاہے، پینڈورا کی طرح سیاست کی دیوی گھوٹالوں اور بدعنوانیوںکا باکس کھول دیتی ہے اور جمہوریت کا تیوہار ہر بار بدبوسے بھر جاتا ہے۔ اس برائی کے بکسے کا استعمال سبھی کرتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں سے لے کر حکمراںپارٹی تک ،لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی برائی کا بکسا اگلے الیکشن کے لیے طاق پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ابھی کانگریس برائی کے بکسے سے حکمراں بی جے پی کا رافیل سودا نکال کر چمکارہی ہے تو بی جے پی لمبے عرصے تک اقتدار کے مزے لوٹ رہی کانگریس کے گھوٹالوں کی لمبی فہرست نکال کر دکھانے میںلگی ہوئی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے مانگی اسٹیٹس رپورٹ
اسی برائی کے بکسے سے اترپردیش کا پتھر گھوٹالہ بھی سامنے نکل آیا ہے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی کی بدعنوانی کی برائی کا بکسا کھول کر سماجوادی پارٹی اقتدار میںآئی تھی لیکن اقتدار میںآتے ہی سماجوادی پارٹی نے اتحاد کا رشتہ بھی بنا لیا۔ اب الہ آباد ہائی کورٹ نے اسمارک (پتھر) گھوٹالے کی جانچ (اسٹیٹس) رپورٹ مانگ کر بی جے پی کو برائی کا باکس کھولنے کا انتخابی موقع دے دیا ہے۔ اب تک بی جے پی سرکار بھی اس گھوٹالے کو لے کر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی لیکن الیکشن آیاتو ڈرانے، دھمکانے اوراوقات دکھانے میںپتھر گھوٹالہ اب اس کے کام آنے والا ہے۔
جب ملک و ریاست میںلوک سبھاانتخابات کا ماحول گرمایا، تبھی عین موقع پر مایاوتی دور کے اسمارک گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کے لیے کسی ششی کانت عرف بھاویش پانڈے کی طرف سے الہ آباد ہائی کورٹ میںعرضی داخل ہوجاتی ہے۔ اس عرضی پر فوری سنوائی کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما اترپردیش سرکار سے اس معاملے میںوجیلنس جانچ کی پیش رفت رپورٹ مانگ لیتے ہیں۔ اس عرضی پر ہائی کورٹ کے رخ سے سنسنی پھیل گئی۔ بی ایس پی بھی سنسنا گئی اور اس سے اتحاد کرنے پر آمادہ ایس پی بھی سنسناہٹ سے بھر گئی ۔

 

 

 

ایس پی کی سنسناہٹ تھوڑی زیادہ اس لیے بھی ہے کیونکہ مایاوتی دور کے گھوٹالے کی فائل اکھلیش سرکار نے ہی دبا رکھی تھی۔ کارروائی کرنے کی لوک آیکت کی سفارش کو طاق پر رکھ کر اس دورکے وزیر اعلیٰ بی ایس پی کی بدعنوانی کو غیر واجب طور پر نظرانداز کر رہے تھے۔ اسمارک گھوٹالے پر اس دور کی اکھلیش سرکار کی خاموشی اس بار بڑا قانونی جواب مانگے گی۔ ہائی کورٹ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بڑے ہی سخت لہجے میں کہا ہے کہ اسمارک گھوٹالے کا کوئی ملزم بچنانہیں چاہیے۔ گھوٹالے کی جانچ اتر پردیش سرکار کی اقتصادی جرم تحقیقی شاخ (ای او ڈبلیو) اور وجیلنس کر رہی تھی۔ اس معاملے میں یکم جنوری 2014 کو ہی لکھنؤ کے گومتی نگر تھانے میںایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ اس وقت یوپی میں اکھلیش یادو کی سرکار تھی۔
14 ارب سے زیادہ کا گھوٹالہ
مایاوتی سرکار کے دور میں راجدھانی لکھنؤ اور گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) میںامبیڈکر اسمارکوں اور پارکوں کی تعمیر میں14 ارب روپے سے بھی زیادہ کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس دور کے لوک آیکت جسٹس این کے مہروترہ کی رپورٹ اور کارروائی کی سفارش پر اکھلیش یادو سرکار نے کوئی کارروائی نہیںکی تھی۔ لوک آیکت این کے مہروترہ نے مئی 2013میںہی اکھلیش سرکار کو اپنی جانچ رپورٹ سونپ دی تھی۔ اسمارک گھوٹالے میںاس دور کے وزیر نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا سمیت 199 افراد اور کاروباری اداروں کے مالکان ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ ملزمان میںدو وزیر، ایک درجن اراکین اسمبلی، دو وکیل،کانکنی شعبے کے پانچ افسر، اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹرسی پی سنگھ سمیت 59 افسروں اور پانچ جنرل منیجروں، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پانچ افسروں، 20 کنسورٹیم چیف، 60 کاروباری اداروں فرموںکے مالک اور اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے 35اکاؤنٹ افسروں کے نام شامل ہیں۔
ملزمان کی فہرست میںاس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی یا وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے ان کے خاص نوکر شاہوں کے نام شامل ہیں۔ لوک آیکت این کے مہروترہ نے اپنی رپورٹ میںاس دور کے وزیر نسیم الدین صدیقی، بابو سنگھ کشواہا، اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے اس دور کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سی پی سنگھ،کانکنی شعبے کے اس دور کے جوائنٹ ڈائریکٹر سہیل احمد فاروقی اور 15 انجینئروں کے خلاف اس وقت ایف آئی آر درج کراکر اس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرنے اور گھوٹالے کی رقم وصول کرنے کی سفارش کی تھی۔
لوک آیکت نے یہ بھی سفارش کی تھی کہ مجرمان کی آمدنی سے زیادہ پائی جانے ولی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی جائے اور اسمارکوں کے لیے پتھر کی سپلائی کرنے والی 60 فرموںاور 20 کنسورٹیم سے بھی وصولیابی کی کارروائی کی جائے۔ لوک آیکت کی رپورٹ ملنے پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کارروائی کی بات تو کہی لیکن سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کرنے کے بجائے وجیلنس کو جانچ سونپ دی۔ اس معاملے کو گھال میل کرنے کے ارادے سے اس دور کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کارروائی کے لیے لوک آیکت کی رپورٹ کے کچھ حصے الگ کرکے اسے داخلہ محکمے کو سونپ دیے۔ اسی رپورٹ کے کچھ حصے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو سونپ دیے گئے اور کچھ حصے جیولوجی اینڈ مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردیے گئے۔ یعنی داخلہ محکمہ کو چھوڑکر ، پتھرگھوٹالے میںجو محکمے شامل تھے ، انھیںہی کارروائی کرنے کی اکھلیش سرکار نے ذمہ داری دے دی۔
کیا رہا اکھلیش کا رول؟

 

 

 

 

المیہ یہ ہے کہ اکھلیشیادو سرکار نے لوک آیکت کی رپورٹ کو نقصان پہنچانے کی غیر قانونی حرکت کی جبکہ لوک آیکت نے پتھروں کی خریداری میںگھوٹالہ کرکے سرکار کو 14.10 ارب روپے کی نقصان پہنچانے کی مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف کریمنل لاء امنڈمنٹ 1944 کی دفعہ 3 کے تحت سبھی ملزمان کی جائیداد قرق کرکے گھوٹالے کی رقم وصول کرنے کی سفارش کی تھی۔ لوک آیکت نے اپنی سفارش میںسرکار کو یہ بھی تجویز دی تھی کہ اس وقت کے وزیر نسیم الدین صدیقی اوربابوسنگھ کشواہا سے کل رقم کا ہر ایک سے 30 فیصد، اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر سی پی سنگھ سے 15 فیصد، کانکنی محکمے کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر سہیل احمد فاروقی سے 5 فیصد اور نرمان نگم کے 15 انجینئروں سے 15 فیصد رقم وصول کی جائے۔ لوک آیکت نے یہ بھی سفارش کی تھی کہ نرمان نگم کے اکاؤنٹ افسروں کی آمدنی سے زیادہ املاک پائے جانے پر ان سے سرکاری خزانے کو پہنچے نقصان کی باقی رقم 5 فیصد وصول کی جائے لیکن اکھلیش سرکار اس فائل پر ہی آسن لگاکر بیٹھ گئی۔
اس دور کے لوک آیکت این کے مہروترہ کے ذریعہ ای او ڈبلیو سے کرائی گئی جانچ میںسرکاری طور پر تصدیقہوئی کہ پتھر (اسمارک) گھوٹالے کے ذریعہ 14.10 ارب روپے یعنی سواچودہ ہزار کروڑ روپے ہڑپ لیے گئے۔ اسمارکوں اور پارکوں میں تعمیر کے لیے مایاوتی سرکار نے کل 42 ارب 76کروڑ 83 لاکھ 43 ہزار روپے جاری کیے تھے ۔ اس میںسے 41 ارب 48 کروڑ 54 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ باقی ایک ارب 28 کروڑ 28 لاکھ 59 ہزار روپے سرکاری خزانے میںواپس کردیے گئے۔ اسمارکوں کی تعمیر پر خرچ کی گئی کل رقم کا تقریباً 34 فیصد زیادہ خرچ کرکے سرکار کو 14 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ 63 ہزار 200 روپے کا سیدھا نقصان پہنچایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2007 سے لے کر 2012 کے بیچ اس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کے حکم پر لکھنؤ اور نوئیڈا میںامبیڈکر اور کانشی رام کے نام پر کئی پارک اور اسمارک بنوائے گئے تھے۔ اسمارکوں اورپارکوں کے تعمیراتی کام میںخاص طورسے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن، ہاؤسنگ اینڈ اربن پلاننگ ، پی ڈبلیو ڈی، نوئیڈا اتھارٹی،لکھنؤ ڈیولپ منٹ اتھارٹی اور ثقافت و آب پاشی محکمے کو لگایا گیا تھا۔
اسمارکوںاور پارکوںکی تعمیر میںلگائے گئے پتھر مرزا پور کی کانوںکے تھے۔ان پتھروںکو راجستھان (بھرتپور) بھیج کر وہاںکٹائی (کٹنگ اینڈ کارونگ) کرائی جاتی تھی۔ پھر جے پور بھیج کر ان پتھروںپر نقاشیاں ہوتی تھیں۔ اس کے بعد ان پتھروں کو ٹرکوں سے واپس لکھنؤ اور نوئیڈا بھیجا جاتا تھا۔ کاغذوں پر جتنے ٹرک مرزا پور سے راجستھان گئے اور وہاںسے واپس نوئیڈا اور لکھنؤ آئے، وہ اصلیت میں اتنے نہیںتھے۔ پتھرکی ڈھلائی میںبھی سرکار کی اناپ شناپ دولت ہڑپ کی گئی۔ ادائیگی بھی طے شدہ رقم سے دس گنا زیادہ منمانے طریقے سے کی جاتی رہی۔ ای اور ڈبلیوکی جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ سال 2007 سے لے کر 2011 کے بیچ کل 15 ہزار 749 ٹرک پتھر کٹائی اور کشیدہ کاری کے لیے راجستھان بھیجے گئے۔ ان میںسے محض 7,141 ٹرک پتھر لکھنؤ آئے اور 322 ٹرک نوئیڈا پہنچے۔ باقی کے 7,286 ٹرک اور ان پر لدے پتھر کہاںلا پتہ ہوگئے جبکہ ان کی ادائیگی اونچی قیمتوں پر ہوگئی۔ گھوٹالے کی جانچ رپورٹ میںاس طرح کے عجیب وغریب نمونے بھرے پڑے ہیں۔
چلی گئی چال
جانچ میںیہ بھی پایا گیا تھا کہ آٹھ جولائی 2008 کو میٹنگ کرکے کنسورٹیم بنایا گیا اور کنسورٹیم سے پتھروں کی سپلائی کا کنٹریکٹ کیا گیا۔ اس میٹنگ نے اتر پردیش سب منرل (پریہار) رولز 1963 کی سیدھی سیدھی خلاف ورزی کی۔ پتھروں کی خرید کے لیے بنی مشترکہ خریداری کمیٹی کی میٹنگ میںسارے قاعدے قانون درکنار کرکے بغیر ٹینڈر کے بازار سے اونچے ریٹ پر مرزا پور سینڈ اسٹون کے بلاک خریدنے اور سپلائی کرانے کا فیصلہ لے لیا گیا۔ فیصلہ کاروںنے منمانی شرطیں طے کرکے کروڑوں کا گھپلہ کیا۔ دام زیادہ کھانے کے لیے پتھروںکی خرید کہیںسے ہوئی،کٹان کہیںاور ہوئی، پتھروں پر نقاشی کہیںاور سے کرائی گئی اور سپلائی کہیںاور سے دکھائی گئی۔ اسمارکوںاور پارکوںکی تعمیر میںلگے منصوبہ سازوں نے پہلے یہ طے کیا تھا کہ پتھر کی کٹنگ اور کارونگ مرزا پور میںہی ہواور اس کے لیے مرزا پور میںہی مشینیںلگائی جائیں لیکن بعد میںاچانک یہ فیصلہ بدل گیا۔
پتھر کو ٹروکوںپر لاد کر راجستھان بھیجنے اور کٹنگ کارونگ کے بعد اسے پھر ٹرکوں پر لاد کر لکھنؤ اور نوئیڈا واپس مانگنے کا فیصلہ بڑے پیمانے پر گھوٹالہ کرنے کے ارادے سے ہی کیا گیا تھا۔ہزاروںٹرک مال مرزا پور سے راجستھان بھیجے گئے لیکن وہ واپس لوٹے ہی نہیں۔ اس کی ادائیگی بھی ہوگئی۔ یہ بدعنوانی کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ ای او ڈبلیو کی جانچ میںساری کرتوتیں مستند طور پر ثابت ہوچکی ہیں۔
ای او ڈبلیو کی جانچ نے اترپردیش کے مرزاپور اور سون بھدر کے پتھر کٹائی والے علاقے کے ساتھ ساتھ راجستھان کے بیانہ (بھرتپور) اور جے پور کو بھی اپنی جانچ کے دائرے میںرکھا تھا۔ ای او ڈبلیو نے لکھنؤ اور نوئیڈا کے ان مقامات کا بھی فزیکل ویریفکیشن کیا، جہاںپتھر لگائے گئے تھے۔ بنیادی حقیقت یہ بھی ہے کہ پتھروں کی خرید کے لیے قیمت طے کرنے والی سرکار کی اعلی سطحی مشترکہ خریداری کمیٹی نے بازا ر کے بھاؤ کا پتہ لگائے بغیر کمرے میںبیٹھے بیٹھے ہی 150 روپے کیوبک فٹ قیمت طے کردی تھی اور اس پر 20 روپے فی کیوبک فٹ کی شرح سے لدان کی قیمت بھی مقرر کردی تھی۔

 

 

 

اچانک بدلا گیا فیصلہ
پہلے کان کے پٹہ ہولڈروںسے سیدھے پتھر خریدا جانا طے ہوا تھا لیکن اچانک یہ فیصلہ بھی بدل دیا گیا۔ افسروں نے اتر پردیش سب منرل (پریہار) رولز 1963کے رول 19 کے پروویژنس کو طاق پر رکھ کر کان ہولڈروں کا ایک گروہ بنا دیا اور اسے کنسورٹیم نام دے دیا۔ پٹہ ہولڈروں کو سیدھے بھگتان نہ دے کر کنسورٹیم کے ذریعہ بھگتان کیا جاتا تھا۔ جانچ میںیہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ کنسورٹیم کے ذریعہ پٹہ ہولڈروں کو 75 روپے فی کیوبک فٹ کی شرح سے پیمنٹ ہوتی تھی جبکہ نرمان نگم ڈیڑھ سو روپے فی کیوبک فٹ کی شرح سے سرکار سے پیمنٹ لیتا تھا۔ اسمارک کی تعمیر کا پورا عمل زبردست افراتفری میںپھنسا ہوا تھا۔ میٹنگیںہوتی تھیں، فیصلے لیے جاتے تھے، ادائیگی ہوتی تھی لیکن ای او ڈبلیو نے جب جانچ کی تو میٹنگوں کا کہیںکوئی سرکاری طور پر بیورا نہیںملا۔ میٹنگوںکا کوئی ریکارڈ کسی سرکاری دستاویز میں درج نہیں پایا گیا۔ جیولوجی اینڈ مائننگ محکمے کے ڈائریکٹر سہیل احمد فاروقی کے ریٹائر ہونے کے بعد بھی مایاوتی سرکار نے انھیںپتھر کے دھندے میںلگائے رکھا۔ اس دور کی وزیر اعلیٰ مایاوتی نے فاروقی کو مشیر مقرر کردیا اور وزیر نسیم الدین صدیقی اور مشیر سہیل احمد فاروقی وزیر اعلیٰ کی طرح ہی فیصلے لیتے رہے۔ جانچ میںیہ بات سامنے آئی کہ زیر تعمیر اسمارک کی جگہوں اور پارکوں کی مایاوتی نے کبھی ’آن ریکارڑ ‘ جانچ نہیںکی۔ تعمیری کام دیکھنے کے لیے مایاوتی کبھی موقع پر آئیںبھی تو وہ سرکار ی دستاویزوں پر درج نہیںہوئی ہے۔ مایاوتی کی طرف سے نسیم الدین صدیقی ہی مانیٹرنگ کرتے تھے اور یہ حقیقت سرکاری دستاویز پر درج بھی ہے۔ لوک آیکت کی رپورٹ پر ایک جنوری 2014کولکھنؤ کے گومتی نگر تھانے میں وجیلنس نے آئی پی سی کی دفعہ 409،120 بی، 13(1)ڈی اور 13(2)کرپشن پرینونشن ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرایا تھالیکن چارج شیٹ آج تک داخل نہیںہو سکی۔
ای او ڈبلیو کی جانچ میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ نرمان نگم نے کل 19,17,870.609کیوبک فٹ مرزا پور سینڈ اسٹون 150 روپے فی کیوبک فٹ کی شرح سے خریدا تھا، جس پر 28 کروڑ 76 لاکھ 80 ہزار 591 روپے کی ادائیگی ہوئی۔ عجیب، لیکن سچائی یہ ہے کہ جو پتھر 150 روپے فی کیوبک فٹ کی شرح سے خریدا دکھایا گیا ، وہ محض 50 سے 75 وپے فی کیوبک فٹ کی شرح پر خریدا گیا تھا۔ لہٰذا 19,17,870.609 کیوبک فٹ سینڈ اسٹون پر اگر 50 روپے فی کیوبک فٹ بھی زیادہ لیا گیا تو چرائی گئی رقم 9 کروڑ 58 لاکھ 93ہزار 530 روپے ہوتی ہے۔ اس طرح نرمان نگم کے افسروں نے سرکار کے 10 کروڑ روپے یوںہی جھاڑ لیے۔
کیسے چلتا رہا مایاوتی کا ’پوتر کاریہ‘ ؟
اسمارک گھوٹالہ کہیںیا پتھر گھوٹالہ ،ا س میںہوئی قانونی رسموں میںکہیںبھی وزیر اعلیٰ مایاوتی کا ذکر نہیںہے۔ جیسا آپ کو اوپر بتایا گیا کہ اس گھوٹالے کے معاملے میںلوک آیکت کی رپورٹ پر وجیلنس نے جو ایف آئی آر دج کرائی ، اس میںبھی مایاوتی سرکار کے دو وزیروںاور ایک درجن اراکین اسمبلی سمیت قریب دو سولوگ ملزم بنائے گئے ،لیکن مایاوتی کو ملزم نہیںبنایا گیا۔ لوک آیکت نے پتھر گھوٹالے کی تفصیلی جانچ ای او ڈبلیو سے کرائی تھی۔ ای او ڈبلیو کی پوری جانچ رپورٹ ’چوتھی دنیا‘ کے پاس ہے۔ ای اوڈبلیو کی جانچ رپورٹ امبیڈکر اور کانشی رام کے نام پر بنے اسمارکوں اور پارکوں کو مایاوتی کے ذریعہ ’پوتر کاریہ‘ بتائے جانے پر سنجیدہ طنز کرتی ہے ۔ جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایا وتی نے ’پوترکاریہ‘ کے لیے 42 ارب 76 کروڑ 83 لاکھ 43 ہزار روپے کا بجٹ دیا لیکن ان ہی کی سرکار کے دو وزیروں اور ان کے ماتحت محکموں اور نگموں کے افسروں نے ’پوترکاریہ‘ کے لیے خرچ ہوئی رقم کا 34 فیصد حصہ غڑپ کر جانے کا ناپاک کام کیا۔ کل رقم کا 34 فیصد حصہ بدعنوانی کرکے کھاجانے کے کام میںمایاوتی سرکار کے دو وزیر نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا راست طور پر ملوث بتائے گئے، جن کی سرپرستی اور ہدایت میںنرمان نگم اور مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے افسروں نے جم کر بدعنوانی کی او رسرکاری رقم کوہڑپ کیا۔
کس کا کتنا کردار؟
بدعنوانی نے مہاپروشوں کے نام پر بن رہے اسمارکوں اور پارکوں کو بھی نہیںبخشا۔ حالانکہ ای او ڈبلیو کے ایک اعلیٰ افسر کہتے ہیںکہ بدعنوانی کرنے کے لیے ہی مہا پروشوں کے نام کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسمارک اور پارک شردھا کے لیے نہیں بلکہ سرکاری پیسہ لوٹنے کے لیے بنوائے گئے تھے۔ اسمارکوں اور پارکوں کے تعمیری کام کے لیے مایاوتی سرکار نے 42 کاارب 76کروڑ 83 لاکھ 43 ہزار روپے دیے تھے۔ اس رقم میںسے 41 ارب 48 کروڑ 54 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ سرکاری خزانے میںصرف ایک ارب 28 کروڑ 28 لاکھ 59 ہزار روپے ہی واپس جمع کیے گئے۔ یعنی کل خرچ کی گئی رقم میں اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے علاوہ ہاؤسنگ اینڈ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ، پی ڈبلیو ڈی، کلچر ڈیپارٹمنٹ، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی وغیرہ شامل تھے۔
اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کے قریبی نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا ان محکموںکے وزیر تھے۔ بابو سنگھ کشواہا مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے وزیر ہو ا کرتے تھے جبکہ نسیم الدین صدیقی اسمارکوںاور پارکوںکی تعمیر کے ’پوتر کاریہ‘ سے متعلق دیگر سبھی محکموں کے وزیر ہوا کرتے تھے۔ نامعلوم وجوہات سے اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کی نظروںسے گرے کشواہا این آر ایچ ایم گھوٹالے میںجیل چلے گئے لیکن مایاوتی جب تک اقتدار میںرہیں، نسیم الدین ان کی آنکھوںکا تارہ بنے رہے۔ اقتدار جانے کے بعد مایاوتی اور نسیم الدین میںرقم کے لین دین کو لے کر ہی تنازع ہوا، خوب تو تو میںمیںہوئی ، الزام تراشیاں ہوئیں اور بی ایس پی سے نسیم الدین کا اخراج ہوا۔ مایاوتی اب اکھلیش کے ساتھ ہیں اور نسیم الدین اب اکھلیش کے دوست راہل کے ساتھ ہیں۔ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اب بھی سب ساتھ ہیں۔ ان پر ’راجنیتی- دیوی‘کی مہربانی قائم رہے۔

 

 

مہا گٹھ بندھن ہوسکتا ہے متاثر

 

مایاوتی کے دور حکومت میںہوئے پتھر گھوٹالے پر مٹی ڈالنے کی اکھلیش یادو سرکار کی کارگزاری ایس پی اور بی ایس پی دونوں پر بھاری پڑنے والی ہے۔ ہائی کورٹ کے تیور کو سیاسی نظریہ سے دیکھیںتو یہ مہا گٹھ بندھن کی کوششوںپر پانی پھیرے گا۔ مایاوتی دباؤ میںہیں، اس سے کوئی انکار نہیںکرسکتا۔ چھتیس گڑھ میںکانگریس کو دھتکار کر اجیت جوگی کی جنتا کانگریس سے ہاتھ ملانے کے مایاوتی کے فیصلے نے یہ جتایا کہ مایاوتی دباؤ میںہیں۔ انھوںنے نہ تو مدھیہ پردیش میںکانگریس سے ہاتھ ملایااور نہ ہی راجستھان میں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اتر پردیش میںبھی لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایسا ہی ہونے والا ہے۔ اکھلیش یادو کے لیے اسمارک گھوٹالہ پریشانی کا سبب بننے والا ہے۔ 2012میںاقتدار پر بیٹھنے سے قبل سماجوادی پارٹی بی ایس پی کے گھوٹالے کی پائی پائی وصولنے کا انتخابی جملہ اچھال رہی تھی،وہی پارٹی حکومت پاتے ہی اسمارک گھوٹالے کو ہضم کر گئی۔ لوک آیکت کی رپورٹ اور وجیلنس کی طرف سے درج ایف آئی آر بھی کسی قانونی انجام تک نہیںپہنچ پائی۔ سرکاری دباؤ میںوجیلنس چارج شیٹ تک داخل نہیںکرسکی۔
پھر کھلے گی سماجوادی پارٹی کے کمبھ میلا گھوٹالے کی فائل
اقتداری گلیارے کے اعلیٰ افسر بی ایس پی دور کے اسمارک گھوٹالے کے بعد ایس پی دور کے کمبھ میلا گھوٹالے کی فائل کے کھلنے کے بھی امکان جتاتے ہیں۔ ایس پی سرکار کے دور میںہوئے کمبھ میلا گھوٹالے کی بھی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ ہوتی رہی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میںبھی کمبھ میلا گھوٹالے کی سرکاری طور پر تصدیق ہوچکی ہے۔ کمبھ میلے کے کرتا دھرتا اس دور کے وزیر اعظم خان تھے۔ ایس پی سرکار کے دور میں14 جنوری 2013 سے 10 مارچ 2013 تک الہ آباد کے پریاگ میںمہا کمبھ ہوا تھا۔ کمبھ میلے کے لیے اکھلیش سرکار نے 1,152.20 کروڑ روپے دیے تھے۔ کمبھ میلے پر 1,017.37 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یعنی 134.83 کروڑ روپے بچ گئے۔ اکھلیش سرکار نے اس میںسے قریب ایک ہزار (969.17) کروڑ روپے کا کوئی حساب (یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ)ہی نہیںدیا۔ اکھلیش سرکار نے کمبھ میلے کے لیے ملی رقم میںسینٹرل اینڈ اسٹیٹ شیئر کا گھپلہ کرکے بھی کروڑوں روپے ادھر ادھر کر دیے۔
مایاوتی کے دور کے اسمارک گھوٹالے کے بارے میںکیگ نے اسی طرح کے سوال اٹھائے تھے۔ بی ایس پی کی اسمارک تعمیر کی اسکیم میں 3614.28 کروڑ روپے کی بڑھت ہوئی۔ اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ذریعہ باربار ڈیزائن میںتبدیلی کرانے اور پکی تعمیر کو بار بار توڑے جانے کی وجہ سے بھی خرچ کافی بڑھا۔ کیگ نے اس پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ اسمارک کی جگہ پر لگائے گئے پیڑ عام شرح سے کافی زیادہ شرح پر خریدے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی قانون کے برعکس 44.23 فیصد جیولوجی ڈیپارٹمنٹ پر پتھر کا کام کیا گیا تھا۔ دلتوںاور کمزور طبقے کے تئیں کاغذی لگن دکھانے والی مایاوتی نے ان اسمارکوںکے سنگ بنیاد پر ہی 4.25 روپے پھونک ڈالے تھے۔ اسمارک گھوٹالے میںاہم رول نبھانے والی سرکاری نرمان ایجنسی اتر پردیش نرمان نگم پر مایاوتی سرکار کی اتنی نظر عنایت تھی کہ 4558.01 کروڑ روپے کی مالی منظوری کی رسم سے پہلے ہی نرمان نگم کو 98.61 فیصد دولت الاٹ کردی گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *