ملک میں پسند کا معیار بدل گیا ہے

میں لگاتار دیکھ رہا ہوں کہ اب بہت ساری چیزوں کے مطلب بدل رہے ہیں۔ جب عوامی دلچسپی کا مطلب ہی بدل رہا ہے تو باقی لفظوں کے بارے میں فکر کرنا عجیب لگتا ہے۔ سب سے بڑا مطلب بدلا ہے صحافت کا۔ اگر آپ سچ بولنے کی یا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ فوراً ترقی کے خلاف مان لئے جاتے ہیں۔ ’یہ مان لئے جاتے ہیں ‘ لفظ کا ایک اور افسوسناک معنی ہے ۔وہ یہ ہے کہ جو چیز بازار میں تیزی سے اچھی پیکجنگ کے ساتھ نمائش کی جائے ،وہی سچ ہوتی ہے۔یہ مان لیا جاتا ہے کہ وہی بامعنی بھی ہے ، ساکھ والی بھی ہے ۔یہ بات ان دنوں ہمارے ملک میں چاروں طرف سو فیصد دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ اقتدار میں بیٹھے لوگ بازار کی طاقتوں کے نمائندے بن گئے ہیں۔اس لئے وہ ایک مخصوص پالیسی پر چل رہے ہیں۔ وہ پالیسی یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ترقی کے ایسے خواب میں الجھا دینا، جو کبھی پورے ہو ہی نہیں سکتے۔
ہندوستان میں یہ کام اب غیر ملکی طاقتیں سیدھے نہیں کر رہی ہیں۔ ان کے لئے سرکاریں فرنچائزی ایجنٹ کی شکل میں کام کررہی ہیں۔اسی لئے جب بھی کوئی صحافی اپنے مضمون میں، ٹیلی ویژن پر ہونے والی بحثوں میں، سوشل میڈیا پر اس سچ کو دکھانا چاہے تو فورا ًاسے ا یسا آدمی اعلان کردیا جاتا ہے جس کی آنکھیں ٹھیک نہیں ہیں یا جس کا چشمہ الگ طرح کا ہے۔ اس کی انتہا تب ہوتی ہے جب آپ کو کہا جاتا ہے کہ آپ ملک کی ترقی کے بڑھتے قدم کو نہیں دیکھ پاتے اس لئے آپ نااہل ہیں، آپ ملک مخالف ہیں۔ اگر آپ کی زبان چوٹ پہنچانے والی ہے تو آپ کہیں غدار وطن کے درجے میں بھی چلے جاتے ہیں۔

 

 

اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ اگر آپ ایک طبقہ کے ساتھ نہیں ہیں تو آپ غدار وطن ہیں ۔ لیکن یہاں پر ایک بڑا تضاد ہے کہ اس نظریہ خاص کو ماننے والے، بازار کو کنٹرول کرنے والے لوگ سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ جنہیں وہ اپنا حامی مانتے ہیں، وہ ان کے حامی ہیں ہی نہیں۔ جیسے ساون کے اندھے کو چاروں طرف ہرا ہی دکھائی دیتا ہے، اسی طرح ان لوگوں کو لگتا ہے کہ سارا ہندوستان سچ مچ بہت ترقی یافتہ ہوگیا ہے۔ یہ طاقتیں سمجھتی ہیں کہ ایسے سارے لوگ ان کے ساتھ ہیں اور وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ پچھلے سالوں میں کیا کیا ٹوٹا ہے، کیا کیا دھند صاف ہوئی ہے اور کن کن کے چہرے خول سے نکل کر باہر آئے ہیں۔
آج کل ایک چیز دیکھ کر ذہن کو بہت سکون ملتا ہے۔ جیسے آج سرکار میں بیٹھے بہت سارے لوگ اتنے دور اندیش کیسے ہو گئے تھے۔زبان تھوڑی الگ ہے لیکن صورتحال وہی ہے۔ 2012 اور 2013 میں انہی لوگوں نے یہ تصور کیا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل اتنے مہنگے کیوں ہو رہے ہیں؟اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟جنہوں نے یہ تصور کیا تھا کہ ڈالر مضبوط کیوں ہو رہا ہے؟روپیہ اپنی ساکھ کیوں کھو رہاہے؟ جنہوں نے راج گھاٹ پر ان سوالوں پر ٹھکمے لگائے تھے۔ جنہوں نے تب مہنگائی کی وجہ بتائی تھی۔جنہوں نے ہندوستان کی کمزوری کو، چاہے وہ پاکستان یا چین کے مسئلے میں رہے ہوں، نشان زد کیا تھا۔ وہی سارے لوگ اب چار سال بعد کی صورت حال کی توضیح کیسے کررہے ہیں؟صورت حال وہی ہے، دلیل بدل گئی ہے۔
آج اگر ہم ان کے پرانے ویڈیو دیکھیں تو لگے گا کہ سچ مچ یہ لوگ دور اندیش ہی تھے۔ آپ یو ٹیوب پر صرف نام ڈالئے اور آپ کے سامنے وہ ساری چیزیں سامنے آجائیں گی کہ کیسے ان بڑے لیڈروں نے تب جو کہا تھا، آج کیسے سچ ثابت ہورہا ہے۔ یہ دور اندیش آج ہمارے ملک کی حکومت چلا رہے ہیں اور اب یہ ان سوالوں پر بولنا ہی نہیں چاہتے، جن سوالوں پر انہوں نے 2012 سے لے کر 2014 تک ملک میں گھوم گھوم کر لوگوں کا ذہن بدلا تھا۔اب انہیں کسانوں کا درد، اس درد کو دور کرنے کے طریقے دکھائی نہیںدیتے۔ اب انہیں بے روزگاری کے اعدادو شمار میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔یہ صرف کہتے ہیں کہ 10 کروڑ لوگوں کو روزگار مل گیا۔ کس خطے میں اور کہاں ملا، نہ وہ بتاتے ہیں اور نہ ملک کے عوام کو وہ سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔
اس وقت تو پورے طور پر رام مندر کا ماحول ہے اور جو لوگ صحافت کی نبض جانتے ہیں، انہیں اس کا اندازہ ہو چکا ہے کہ اس بار شاید رام مندر کا ایشو لوگوںکو بھٹکانے میں کامیاب نہ ہو پائے۔ حالانکہ 2012 اور 2013 میں جس سوشل میڈیا نے اس وقت کے حکمرانوں کو بے رحمی سے اقتدار سے ہٹا دیا تھا، وہی سوشل میڈیا آج کے حکمرانوںکے چہرے پر پڑے ہوئے نقاب کو بے رحمی سے کھینچ رہاہے۔ شاید اسی لئے اس بار سوشل میڈیا اتنا اہم رول ادا نہیں کر رہا ہے، جتنا ملک کے ٹیلی ویژن چینل اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ چاہے علاقائی چینل ہو یا نیشنل چینل ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہوں۔ حالت یہاںتک پہنچ گئی ہے کہ اسٹار ٹیلی ویژن اینکر اپنا نام بولتے ہوئے اپنے نام کے آگے مودی لگا دیتے ہیں۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ کیسی ہوا چل رہی ہے۔
ان تمام حالات کے درمیان ، دہلی میں گاندھی جینتی اور لعل بہادر شاستری کی جینتی کے دن ٹیلی ویژن چینلوں پر ایک خبر چل رہی تھی کہ جوان اور کسان آمنے سامنے ہیں۔جس نے بھی یہ ہیڈلائن پورے دن چلائی، اس نے مستقبل کا ایک اشارہ دے دیا کہ اب کسان بھی دہشت گرد ہیں۔ یہ باتیں ٹیلی ویژن چینل کی اینکر بول رہی تھی کہ دہشت گرد کسانوں کو دہلی میں گھسنے دیا تو دہلی کا لاء اینڈ آرڈر ختم ہو جائے گا۔ ایسے لفظ ٹیلی ویژن چینلوں کے اینکر کے دماغ سے نکلے ہوئے ایماندار لفظ ہیں۔ کیونکہ پچھلے چار سال میں ان کے سوچنے سمجھنے کا طریقہ اسی ماحول میں مکمل ہوا ہے۔ ان کے ٹیلی ویژن چینل کے مالک یا ان کے ایڈیٹر اس سارے قواعد کے کنٹرولر ہیں۔ انہوں نے اپنے چینل میں کام کرنے والے لوگوں کو یہ بتایا ہی نہیںکہ رپورٹنگ کیا ہوتی ہے، زبان کیا ہوتی ہے،ذمہ داری کیاہوتی ہے اور ملک کیا ہوتا ہے؟ملک کا مطلب ،ملک کے لوگ کیا ہوتے ہیں؟

 

 

 

یہ 2018کا سال چل رہاہے۔ ہندوستان میں یہ جوش و خروش کا سال ہونا چاہئے تھا۔ لیکن یہ سال ان لوگوں کے لئے کیوں ایسا سال بن رہا ہے، جن کے اوپر سب سے زیادہ بھروسہ تھا اور اب انہی کا سب سے زیادہ مذاق سوشل میڈیا پر اڑ رہا ہے۔ ایسے میں ایک ہندوستانی کمپنی کے پروڈکٹ کو غیر ممالک میں زیادہ کیمیکلز ہونے کی وجہ سے ممنوع کیا جارہاہے، حکم دیا جارہا ہے کہ فوری طور سے تمام پروڈکٹ کو تباہ کر دیا جائے، لیکن نہ ہندوستانی سرکار اور نہ عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں ہمارا نام کتنا خراب ہو رہا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اپنے ملک میں خبروں کو روک کر چہرے کی چمک بنائے رکھیں گے، لیکن شاید فی الحال یہ ممکن نہ ہو پائے۔
کسانوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ ہورہا ہے، جتنی ان کی اندیکھی کی گئی اور توہین کی گئی وہ افسوسناک ہے، قابل مذمت ہے اور تصور سے پرے ہے۔ کسانوں کے لئے یہ بہت بڑا جھٹکا ہے کہ انہوں نے جن لوگوںکو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اچھے مستقبل کو گڑھنے کے لئے بھیجا، ان لوگوں نے کس طرح ان کے خوابوں کو توڑا، ان کی امیدوں کو دھندلی کیا، یہ سچ مچ افسوسناک ہے۔
اب پٹرول ، ڈیزل یا رسوئی گیس کے سوال اٹھانے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ ڈیزل ، پٹرول اور رسوئی گیس کے دام بڑھے تاکہ قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کرنے والے لوگ اقتدار میں اور پانچ سال تک بنے رہیں۔ اس کے خلاف کہیں سے بھی آواز منظم طور سے نہیں اٹھ رہی ہے۔ کیونکہ لوگوں نے مان لیا ہے کہ پٹرول ، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت کچھ پیسے ہی تو بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کی سمجھ ایسی بن گئی ہے کہ اگر قیمتیں نہیں بڑھیں گی تو ترقی کیسے ہوگی اور ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ملک میں مہنگائی تھوڑے بڑھتی ہے۔ ایسی سمجھ جب اس مڈل کلاس میں رائج ہوجائے گی ،جو اس مہنگائی کا سب سے بڑا شکار ہے تو پھر کہنے کے لئے کچھ رہ نہیں جاتا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *