سرکار کھلے عام رافیل معاملے پر وہائٹ پیپر لائے

پچھلے ہفتے کی خبروںمیںپہلی اہم خبر حکومت ہند اور فرانس سرکار کے بیچ ہوئے رافیل فائٹر جیٹ سودے سے متعلق ہے۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ایک کے بعد ایک بیان دیے جارہی ہیں کہ سودے میںکوئی گڑبڑی نہیںہوئی ہے، بالکل صاف ستھرا سودا ہوا ہے۔یوپی اے سرکار نے پہلے جو سودا طے کیا تھا، اس سے سستا پلین ہم نے خریدا ہے۔ لیکن ان بیانوں پر یقین نہیںہوتا کیونکہ اگر پلین سستے خریدے گئے ہوتے تو 36کیوںخریدے گئے؟ یوپی اے سرکار نے 126 پلین کاسودا کیا تھا، کم سے کم اتنے ہی خرید لیتے۔ اعداد وشمار مل نہیں رہے ہیں اور بی جے پی کے ٹرولر ہیں، اسے لے کر ہنسی اڑا رہے ہیں کہ راہل گاندھی نے کہیں پانچ سو کہہ دیا ، کہیںکچھ اور کہہ دیا۔ ان بچکانی باتوں سے کچھ نہیںہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سودے میںشفافیت ہونی چاہیے۔ راجیو گاندھی نے سویڈش سرکار سے بوفورس کا سودا کیا تھا۔ اس سودے میںکوئی بچولیا نہیںتھا۔ بعد میںپتہ چلا کہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اس سودے میںکچھ گڑبڑی تھی۔ اس کا خمیازہ راجیو گاندھی کو بھگتنا پڑا ۔ وہ الیکشن ہار گئے۔ یہ معاملہ بھی اسی طرف جارہا ہے کیونکہ اگر عوام کو سودے کی جانکاری نہیںدی جائے گی تو پھر اسے شک ہو جائے گا کہ کچھ نہ کچھ چھپایا جارہا ہے۔ کسی کے پالے میںکوئی ثبوت تو ہے نہیں اور نہ کسی بچولیے کا نام آیا ہے لیکن سرکار نے ایک انڈسٹری گروپ کے نام کی سفارش کی تھی۔ اس بات کو چھپانے یا اسے لے کر شرمانے کی کیا ضرورت ہے؟ سرکار کسی نام کی سفارش کرے گی، تو کسی کرانہ اسٹور والے کے نام کی سفارش تو نہیں کرے گی، جس میںاہلیت ہوگی، اس کا نام دے گی۔ بہرحال اس معاملے میںکچھ نہ کچھ شک ہے۔ وزیر دفاع ملک کے ڈیفنس کے بجائے بی جے پی کا ڈیفنس کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم کا ڈیفنس کر رہی ہیں۔ وہ فرانس گئی ہیں۔ شاید ڈیمیج کنٹرول کے لیے گئی ہیں تاکہ وہاںسے کوئی اور خلاصہ نہ آجائے۔

 

 

 

ظاہر ہے، یہ اشارے اچھے نہیںہیں۔ مجھے عارف محمد خاں یاد آتے ہیں۔ جب راجیو گاندھی شاہ بانو معاملے میںسپریم کورٹ کے فیصلے کو الٹنے کے لیے قانون لائے، اس پر ملک بھر میںبہت چرچا ہوا۔ عارف محمد خاںنے اس وقت راجیو گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوںلٹا،مجھے رہزنوںسے گلہ نہیںتیری رہبری کا سوال ہے۔‘ وہ بات ایک بار پھر آج سامنے آگئی ہے۔ جس گڈول کے ساتھ نریندرمودی 2014 میںاقتدار میںآئے تھے، وہ گڈول تو آج 20 فیصد بھی نظر نہیںآرہی ہے۔ مودی لہر تو دور کی بات ہے،کوئی ان کے حق میںبولنے کو تیار نہیں ہے۔ الیکشن نزدیک آرہے ہیں۔ یہ سرکار کے حق میںہے کہ وہ کھلے عام اس معاملے پر وہائٹ پیپر لائے۔ سپریم کورٹ نے ا س معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور اتنا ہی کہا ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ عمل کی پیروی کی گئی ہے یا نہیں۔ چلئے یہی غنیمت ہے۔ اسی سے شاید بات بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل کی خلاف ورزی کے بغیر اس طرح سے سودے ہوتے نہیںہیں۔ یشونت سنہا، ارون شوری اور پرشانت بھوشن تین مشہور شخصیت ہیں،دو کیبنٹ وزیر رہے ہیں،ایک مشہور وکیل ہیں۔ انھوںنے اس معاملے کی جانچ کے لیے سی بی آئی سے لے کر سی اے جی تک سے درخواست کی ہے۔ اب کیا ہو پائے گا، کیا نہیں، یہ پتہ نہیںہے۔ لیکن لب لباب یہ ہے کہ ملک کے لیے یہ بہت اچھی بات نہیںہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے؟
دوسری تشویشناک بات یہ ہے کہ گجرات سے اترپردیش اور بہار کے لوگوں کو بھاری تعداد میںاپنے گاؤں کی طرف واپسی کرنی پڑ رہی ہے۔ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ اقتصادی حالت خراب ہے۔ سب کے لیے خراب ہے۔ لیکن ان کو چن چن کر واپس بھیجنا کہ آپ باہر سے آئے ہیں، یہ گجرات سرکار کی ہی نہیں بلکہ گجرات کی روایات کے بھی خلاف ہے۔ وہاںکی سرکار چپ ہے۔ دراصل وہاںکی سرکار کی کوئی خاص اہمیت ہے ہی نہیں کیونکہ جین سماج سے تعلق رکھنے والے وجے روپانی کی بالکل ہی کوئی عوامی حمایت نہیںہے۔ وہ امیت شاہ کے ذریعہ نامزد ہیں، اس لیے جواب امیت شاہ کو دینا ہے۔ مودی خود گجرات کے ہیں۔ ان کو بھی جواب دینا ہے۔ یہ پہلی سرکار ہے، جس نے چپی کو بھی ایک ہتھیار بنا یا ہے۔ ہر چیز میںچپی ہے۔ رافیل کے سودے میںچپی ہے، گجرات میںتشدد ہورہا ہے،اس پر چپی ہے۔ کسی بھی متنازع معاملے پر وزیر اعظم جواب نہیں دیتے۔ 2014 کے عام انتخابات میںوہ کہہ رہے تھے کہ ڈالر 58 روپے تک پہنچ گیا ہے یعنی آئی سی یو میںہے۔ اب تو 73-74 پر پہنچ گیا ہے۔ نتن گڈکری آر ایس ایس کے قریبی مانے جاتے ہیں، اس لیے مودی سے ڈرتے نہیںہیں۔ انھوںنے ایک ٹی وی پروگرام میںکہا ہے کہ ہمیںبھروسہ ہی نہیںتھا کہ ہم اقتدار میںآئیںگے، تو بڑے بڑے وعدے کر دیے کہ ہم سے کون حساب مانگنے والا ہے۔ پاور میںآئے، اب وہی ان کو بھاری پڑ رہا ہے۔ جب کوئی انھیںیاد دلاتا ہے تو ہنس کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس بات کو نتن گڈکری نے قبول کیا ہے۔
حال ہی میںمیںکشمیر گیا تھا۔ میںوہاںگورنر ستیہ پال ملک سے ملا۔ وہ چودھری چرن سنگھ کے ساتھی رہے ہیں۔ مغربی اترپردیش کے جاٹ ہیں۔ سلجھے ہوئے شخص ہیں۔ وی پی سنگھ سرکار میںوہ وزیر تھے۔ ملک کی سیاست کی ان کی اپنی ایک سمجھ ہے۔ بی جے پی نے انھیںکشمیر بھیج کر عقل مندی کا کام کیا ہے۔ لیکن گورنر کی اپنی حدود ہیں۔ گورنر وہی کرسکتا ہے، جو مرکزی سرکار چاہے گی۔ کشمیر میںگورنر راج ہے لیکن مرکزی سرکار کے چاہے بغیر وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ دو سال پہلے بھی میںاور میرے ساتھ ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ وہاںسے ہوکر آئے تھے۔ ہم گیلانی صاحب، میر واعظ مولوی عمر فاروق سمیت حریت کے سبھی لیڈروں سے ملے تھے۔ حالانکہ ان کی اعلان شدہ پوزیشن رائے شماری کرانے کی تھی لیکن وہاںکے لیڈروںسے بات چیت کا لب لباب یہ تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو امن ہو جائے گا۔ کشمیریوں کو شکایت نہیں ہوگی۔ کشمیر ایک پالیٹکل پرابلم ہے۔ اس کا قابل قدر حل نکلنا چاہیے۔ جب بھی کوئی وزیر اعظم بنتا ہے، وہاںجاکر ایک پیکیج کا اعلان کردیتا ہے، جس سے ان کے سیلف ریسپکٹ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

 

 

 

 

آج بھی کشمیری چاہتے ہیںکہ ہندوستان پاکستان کا کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔ جب مشرف آگرہ آئے تھے، تو وہ سمجھوتہ کرنے کو تیار تھے لیکن آر ایس ایس نے وہ سمجھوتہ نہیںہونے دیا۔ مودی خود آر ایس ایس کے نمائندے ہیں، وہ بھی چاہتے ہیںکہ کوئی سمجھوتہ ہو لیکن پاکستان کی طرف بھی کچھ لوگ ہیں جو کبھی پٹھان کوٹ کر دیتے ہیں،کبھی کارگل کر دیتے ہیں۔ دراصل بات چیت کے بغیر کوئی حل نہیںہے۔آپ پڑوسی ہیں،پڑوسی رہیں گے۔ نہ آپ اپنی زمین ان کو دیں گے،نہ وہ اپنی زمین آپ کو دیں گے۔ دونوںکے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو جنگ بھی نہیںہوسکتی ۔ ایسے میںجو حل دکھائی دیتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسا سمجھوتہ ہو، جو دونوںفریقوں کے لیے قابل قدر ہو اور ریاست کو خود مختاری دی جائے۔ 1953 کی صورت حال کو دوربارہ قائم کیا جائے۔ کشمیر کی خود مختاری چھیننے کی قصوروار کانگریس ہے، بی جے پی نہیں۔ یعنی جس آرٹیکل 370 کو کمزور کیا گیا ہے، اسے بحال کیا جائے اور وہاںجو وزیر اعلیٰ بنے، اس کے پا س حق ہوں کا م کرنے کے لیے۔ سرکار آئین کے دائرے میںکام کرے گی تو خود مختاری دینے میںمرکزی سرکار کو کوئی کمزوری محسوس کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ بی جے پی کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے کہ وہ اپنے پرانے موقف سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد میںایسا قدم اٹھائے جو لوگوںکو منطقی لگے۔ اگر بی جے پی یہ طے کرلے کہ ہم 1953 سے پہلے کی حالت قائم کر رہے ہیں تو بی جے پی کی عزت بڑھے گی اور عام جنتا کو بھی لگے گا کہ آپ مین اسٹریم کی پارٹی ہیں۔
پہلے بی جے پی ہندو پارٹی کہلاتی تھی، اب سورن ہندو پارٹی کہلاتی ہے۔بات اب دلتوں اور مسلمانوںکی کر رہے ہیں لیکن معتربیت نہیںبن رہی ہے۔ اگر لمبے وقت میںاس ملک میںدو دھارائیں (ایک کانگریس اور سیکولر پارٹیاں اور ایک بی جے پی) بننی ہیں تو اس کے لیے کچھ لبرل پالیسی اپنانی پڑے گی۔ بالکل ویسے ہی جیسے ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس امریکہ میںہیںیا لیبر اور کنزرویٹو برطانیہ میںہیں۔ دونوںملکوں میںدونوںپارٹیوں کی پالیسیاںالگ الگ ہیں لیکن ملک کے مفاد میںایک لکشمن ریکھا ہے، جس کے آگے کوئی نہیںجاتا، وہی صورت حال ہندوستان میںہوجائے تو اچھا ہوگا۔ ملک کے مفاد کے لیے متفقہ طور پرہی کام کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *