سنگین صورتحال میں ہے ملک

کیا ملک کی پالیسیاں ٹاٹا، بڑلا، امبانی ، اڈانی کے کہنے پر بنیں گی؟کیا کررہی ہے سرکار؟این پی اے کو لے کر، دیوالیہ قانون کو لے کر سرکار نے سب گھال میل کردیا ہے۔ کسی کا قرض 70 ہزار کروڑ روپے کا ہے، تو سرکار کیا کررہی ہے؟سرکار کہتی ہے کہ اس نے حل کردیا۔ کیسے ؟دیوالیہ قانون کے ذریعہ یہ جس کی کمپنی تھی اس سے چھین کر کسی بڑے صنعتی گھرانے کو دے دیا32 ہزار کروڑ روپے میںلیکن 38ہزار کروڑ تو گیا۔ اگر رائٹ اف کرنا ہی حل ہے تو پھر اتنے سارے سسٹم کی ضرورت کیا ہے؟لیکن دوسری طرف کسانوں کا قرض آپ رائٹ اف نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے ملک کو چلانے کے لئے جتنی سوچ ہونی چاہئے، اتنی سوچ ہے نہیں سرکارکے پاس، سوچ کا فقدان ہے۔ یا تو آپ کے پاس سوچنے والے لوگ نہیں ہیں یا سوچنے والے لوگوں کو آپ نے اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اپنی صحیح صلاح بتا نہیں پاتے ۔
پانچ سال میں سب سے بڑا نقصان بی جے پی کو ہی ہوا ہے۔ بی جے پی اب وہ ہے ہی نہیں جو پانچ سال پہلے تھی۔ آر ایس ایس وہ ہے ہی نہیں جو پانچ سال پہلے تھی۔ یہ ملک وہ نہیں ہے جو پانچ سال پہلے تھا۔ خیر یہ سیاسی باتیں ہیں۔ میں ایک سنجیدہ بات کہنا چاہتاہوں، سرکار کی اقتصادی پالیسی خراب ہو گئی ہے۔ آج 72-73 روپے فی ڈالر ہو گیا۔ اس کے لئے سرکار کو بلیم نہیں کررہاہوں کیونکہ یہ سرکار کے ہاتھ میں ہے ہی نہیں۔ سرکار کی نئی بچکانی حرکت کیا ہے؟وجے مالیہ، وہ نہ تو اس ملک کے سب سے بڑے ڈیفالٹر ہیں، نہ چور اچکے ہیں، نہ انڈر ورلڈ ڈان ہیں۔ ان کی دو غلطیاں ہیں۔ ایک کینگ فیشر ایئر لائن میں بنگلور سے دہلی کتنے اراکین پارلیمنٹ کو فری ٹرپ دیتے تھے،یہ غلط تھا۔ میں نے ٹویٹ کیا ہے کہ جتنے ایم پی ہیں کسی بھی پارٹی کے اور جنہوں نے ایک بار بھی فری رائڈ لیا ہے وجے مالیہ سے، وہ حلف نامہ دیں۔ آج گالی دے رہے ہیں، کیونکہ وہ آدمی کمزور ہو گیا۔

 

 

 

 

ایسی اس ملک کی ذہنیت نہیں تھی۔ کنٹرول میں رکھئے۔نہ تو کسی کو اتنا بڑا ہونے دیجئے اور نہ اس کو اتنا نیچے گرنے دیجئے۔ یہ سرکار سمجھدار ہے تو وزیر اعظم خود وجے مالیہ کو فون کرکے بولیں کہ ہندوستان آئو تم۔یہ رقم تم ادا کرو۔ آپ کر کیا رہے ہیں؟ڈرا رہے ہیں اور اب پریشان ہورہے ہیں کہ اس کو بھگایا کس نے راتوں رات؟سبرامنیم سوامی، انہیں ارون جیٹلی پسند نہیں ہیں، روز کہتے ہیں کہ جیٹلی نے بھگایا۔ ارون جیٹلی کہتے ہیں کہ مالیہ نے رکن پارلیمنٹ ہونے کا بے جا استعمال کرتے ہوئے مجھ سے ملاقات کی۔ پارلیمنٹ میں 800 ایم پی ہیں۔ کیا ان کو وزیروں سے ملنے کے لئے اپوائنمنٹ لینا پڑے گا۔ میں بھی رہ چکا ہوں وزیر۔سینٹرل ہال میں،وہاں سب ملتے ہیں۔
جیٹلی کو بولنا چاہئے تھا کہ اسٹیٹ بینک کا معاملہ ہے ،وہاں جاکر بات کرو۔ میں وزیر خزانہ ہوں لیکن وہ کہتے ہیں کہ مالیہ نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا ملنے کے لئے۔ مغل دربار ہے کیا؟مودی جی اور ان کے وزیر کیا ہیں؟بیربل ، تان سین، ٹوڈرمل ہیں آپ ؟ڈیموکریٹک وزیر ہیں آپ؟ سنتری سے تھوڑا اوپر منتری ہوتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اگر آج آپ کا پورٹ فولیو چینج ہو جائے تو پھر آپ کچھ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم اگر انتخاب کے بعد ہار جاتے ہیں تو جیٹلی صاحب کیا رہیںگے؟گھمنڈ کم کیجئے۔یہ گھمنڈ آپ کو لے ڈوبے گا۔
اب انتظامیہ کی بات کرتے ہیں۔ انتظامیہ ایک سانچے میں چلتا ہے۔ چاہے آئی اے ایس ہو، آئی پی ایس ہو، ڈیفنس ہو، آپ نے ہر جگہ الٹا پلٹا کردیا ہے۔ سی بی آئی میں نمبر 2 ڈائریکٹر آپ نے اپوائنمنٹ کر دیا، جس کے خلاف ایف آئی آر ہے۔ آپ کیا پیٹرن ڈال رہے ہیں؟آپ ڈائریکٹ انٹری کی بات کررہے ہیں انتظامیہ میں ، جوائنٹ سکریٹری لیول پر۔ کیا سب جگہ آر ایس ایس والوں کو ڈالنا چاہتے ہیں۔ سسٹم سے چلئے آپ۔ آج کل آرمی چیف تھوڑا شانت ہیں۔ آرمی چیف آرمی کا کام کرے۔ آرمی کا کام کرنے کے بجائے سیاسی پارٹی کی بھی بات کرتے ہیں، ایجوکیشن کی بھی بات کرتے ہیں۔ تو استعفیٰ دے کر ایجوکیشن منسٹر بن جائیں، کس نے روکا ہے؟
اس سرکار نے ہندوستان کے سسٹم کو بھی برباد کر دیا۔ آج پیوش گوئل ٹویٹ کررہے ہیں کہ ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنے والے کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیں گے ۔ یہ ملک کیا کانچ کا بنا ہے کہ کوئی ٹکڑا ٹکڑا کر دے گا؟طلباء ایسی باتیں کرتے ہیں تو یہ ایک دَور ہوتا ہے۔ نعرے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت کیا ہے؟ سرکارکے نعروں کاکیا؟آپ نے کہا تھا کہ ہر کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کر دیں گے۔کیا ہوا؟آپ کے نعرے تو بوگس ہیں۔ طلباء کے نعرے جذبات میں ہوتے ہیں۔ کشمیر میں آپ کیا کررہے ہیں؟ابھی بھی چاہتے ہیں کہ وہاں آپ کی سرکار بن جائے۔ کرناٹک میں سرکار گرا کر سرکار بنالیں۔ سرکار بنانا، سرکار کے سسٹم سے پیسہ اینٹھنا، یعنی بدعنوانی کا عروج ،یہ سارے کام تو بی جے پی کر ہی رہی ہے۔
مودی جی نے کہا کہ کانگریس کے وزیر فون کرتے تھے اور بینک قرض دے دیتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تھا تو غلط تھا۔ آپ اس پر پابندی لگا دیے ہیں لیکن فرق اتنا ہی ہے کہ سسٹم میں کوئی چینج نہیں ہے۔ بینک آفیسر کو آپ نے اتنا ہی ڈرا رکھا ہے جتنا کانگریس نے ڈرا رکھا تھا۔ سسٹم میں چینج کرنے کے لئے پہلی چیز کی ضرورت ہے کہ ہم کسی کے لئے فون نہیں کریں گے۔ بینک اپنا پیسہ وصول کرے۔ آپ ایسا قانون این سی ایل ٹی بنائے ہیں۔ این سی ایل ٹی کے جج کو فون جاتاہے، وہ اسی حساب سے چالو کردیتا ہے۔ یعنی آپ نے اگر کانگریس سے کوئی اچھا کام کیا ہے تو یہ کیاہے کہ اپوا ئنٹمنٹ آف کنٹرول کم کردیا ہے۔ کانگریس کے دور میں کام کے لئے دس جگہ جانا پڑتا تھا لیکن آپ کی سرکار میں ایک جگہ جانے سے ہو جاتا ہے۔ کیا کر رہے ہیں آپ ؟

 

 

 

 

میرا مطلب یہ ہے کہ ملک خطرے میں ہے۔ وکاس کا ایجنڈا ختم ہو گیا۔ نئی صنعتیںلگ نہیں رہی ہیں۔ پرانی صنعتیں ، درمیانی صنعتیں تو ٹریڈر ہو جائیںگی یا ملک سے بھاگ جائیںگی۔ سب کو آپ جیل میں ڈال رہے ہیں۔جو بھاگ گئے وہ واپس آئیں گے نہیں اور اب یہ جھگڑا ہوگا کہ مالیہ کو کس نے بھگا دیا، سی بی آئی نوٹس کس نے چینج کر دیا وغیرہ۔ یہ سب بچکانی بات ہے۔ مودی جی کو چاہئے اپنے ہاتھ میں سلطنت واپس لیں۔انہیں اسٹیٹ بینک کو بولنا چاہئے کہ وجے مالیہ کو بلوائو، اس سے روپے وصول کرو اور کیس ختم کرو۔ آپ کے ڈر سے ہندوستانی بھاگ جائے اور امریکہ آکر ملک چلائے، اس کا نتیجہ جانتے ہیں کیا ہوگا؟
وہ دن زیادہ دور نہیں ہے، جب یہاں کی جمہوریت بھی ڈھکوسلہ ہو جائے افریقی ملکوں کی طرح، پاکستان کی طرح ۔ پانچ سال میں ہندوستان کا کیا نمونہ آپ چھوـڑ کر جانا چاہتے ہیں، اس بات کی توضیح دیں ۔یہ اب فکر چھوڑیئے کہ الیکشن جیتے گا کون اور ہارے گا کون۔ ہار جیت لگی رہتی ہے۔ آپ یہ وعدہ کیجئے کہ سسٹم بچا رہے گا۔ فریڈم آف پریس رہے گی، اسٹوڈنٹس یونین فری رہے گا، ان باتوں کو یقینی کیجئے۔ صنعتکاروں کو پریشان کرنا چھوڑیئے ۔ چھوٹے اور درمیانی صنعتکار حیران ہیں آپ سے،پریشان ہیں آپ سے۔کیا دس صنعتکاروں کے بھروسے آپ ملک چلا لیں گے؟ملک نہیں چلے گا۔ میں بھی امید کرتا ہوں مودی جی سے اور موہن بھاگوت جی سے ، غور کیجئے۔ اب ملک خطرے میں ہے۔ آپ کی پارٹی کا طرز بیان بہت ہی نچلی سطح کا ہے۔وہ آپ کو خوش کرنے کے لئے بولتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو چاہئے کہ آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سنجیدگی سے اس ملک کے بارے میں غور کریں۔ روپے کی قدر گرتی جائے گی، ایکسپورٹ گرتا جائے گا،نوکریاں ملیں گی نہیں۔ نیتن گڈکری میں ہمت تھی جس نے کہا کہ کون سی نوکریاں، نوکریاں ہیں ہی نہیں۔آپ کو کسی اور کا بولنا پسند نہیں ہے۔ آپ لوگ کیا کہتے ہیں۔ کرنسی قرض اتنا دیا۔ کون سا دیا؟کانگریس کی پرانی اسکیم کا محض نام بدل دیا۔ آپ نے کوئی نیا قرض نہیں دیا ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نہ نئی نوکریاں مل رہی ہیں، نہ پروڈکٹیویٹی بڑھ رہی ہے۔ ملک سنگین صورت حال میں ہے۔ بیٹھ کر سوچنے کا وقت ہے۔ نیتی آیوگ کے راجیو کمار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک رگھو رام راجن جی کی پالیسیوں کا نتیجہ بھگت رہا ہے۔ رگھو رام راجن ریزرو بینک کے گورنر تھے، وزیر خزانہ نہیں تھے وہ۔ کیا بات کررہے ہیں آپ۔ نوٹ بندی آپ نے کیا۔ بغیر سوچے سمجھے کیا۔ بولئے کہ غلطی ہو گئی۔ غلطیاں تو انسان سے ہی ہوتی ہیں، بھگوان تو نہیں ہیں آپ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *