نوازالدین صدیقی کی اداکاری:منٹوکی کہانی فلم کی زبانی

manto
اردو کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی پرآشوب زندگی پر مبنی بنائی جانے والی فلم ’منٹو‘21 ستمبر2018کوریلیز کردی گئی۔منٹو ایک ہندوستانی سوانحی (بایوپک) ڈرامہ فلم ہے جس کی مصنفہ اور ہدایت کارہ نندتا داس ہیں۔ فلم میں نواز الدین صدیقی، سعادت حسن منٹو کے کردار میں ہیں، جو بیسویں صدی کے انتہائی مشہور ہندوستانی افسانہ نگار تھے۔ طاہر راج 1940ء کی دہائی کے اداکار شیام چڈھا کا کردار نبھا رہے ہیں۔ شیام چڈھا منٹو کے اچھے دوست تھے اور انکی لکھی کہانیوں سے متاثر تھے۔ جبکہ رسیکا دگل منٹو کی بیوی صفیہ کے کردار میں ہیں۔
فلم منٹو کی کہانی 1940ء کی دہائی پر مبنی ہے جب تقسیم ہند ہوا تھا۔منٹوکی کہانی تقسیم سے پہلے اوراس کے بعد کی ہے۔ منٹوکی زندگی اورتقسیم کے بعد ان کا لاہورچلے جانا اہم موضوع ہے۔تقسیم کا منٹوکی زندگی پراثر اوران کی کہانیوں پرفحش کاالزام ، یہ سب بھی فلم میں پیش کیاگیاہے۔ فلم میں ’کھول دو‘ ،’ ٹھنڈا گوشت‘ اور ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ جیسی کہانیوں کومنٹوکی زندگی کے ساتھ بہترطریقے سے پرویا گیا ہے۔ فلم میں منٹو کے مختلف پہلوؤں کو دکھایا گیا ہے ،جس میں وہ کبھی پولیس تو کبھی عدالتوں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ کبھی اپنی تحریروں کی وجہ سے لوگوں اور اہلیہ کے طعنے بھی سنتے نظر آتے ہیں۔یادرہے کہ یہ فلم افسانہ نگار کی پوری زندگی پر نہیں بنائی گئی ہے بلکہ حیات کے آخری چند سال اور خاص طور پر تقسیم برصغیر کے بعد کچھ مناظر کو فلم میں شامل کیا گیا ہے۔
تقسیم ہند سے قبل سعادت حسن منٹو کی کہانیوں نے ان کی پہچان کروائی۔سماج کی برائیوں کے خلاف منٹو نے قلم اٹھایا،حالانکہ ان پرفحش اورسماج کوبگاڑنے کے الزامات لگے ۔انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال اپنے لکھنے کے حقوق کے دفاع کرنے میں لگا دیے۔ آج بھی بڑے بڑے افسانہ نگار ان کی تصانیف کو بہت پسند کرتے ہیں۔منٹو کی زندگی اور تحریروں سے انہیں پیش آنے والی مشکلات کو نہایت خوبصورتی سے دکھایاگیاہے جبکہ نواز الدین صدیقی سعادت حسن منٹوکی طرح معاشرے کی حقیقت بیان کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
بے مثال اداکارنوازالدین صدیقی
نوازالدین صدیقی بالی ووڈ میں ایک سنجیدہ اداکارکے طورپرجانے جاتے ہیں۔وہ ہرفن مولا اداکارہیں، اپنی سخت محنت اورہنرسے ہررول میں جان ڈال دیتے ہیں۔منٹوکے کردار میں نوازالدین صدیقی بے مثال ہیں ۔نوازالدین کودکھایاگیاہے کہ وہ اول درجے کے اداکار ہیں۔پھرانہوں نے جس طرح سے منٹوکے کردارکی باریکیاں پکڑی ہیں اوراسے اسکرین پر پیش کیا ہے، وہ بے مثال ہے۔یوں کہہ سکتے ہیں کہ منٹو بننا یا منٹو جیسا دکھنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے، جس کونوازنے بخوبی نبھایاہے۔نوازکئی موقعوں پرپہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس کردارمیں اترنے کیلئے انہوں نے بہت محنت کی، منٹوکو پڑھا اور سمجھا۔ منٹوکی بیوی صفیہ کے کردارمیں رسیکا دگل نے بھی کمال کی ایکٹنگ کی ہے۔ ویسے انہو ں نے منٹوکوپڑھنے اورسمجھنے کیلئے ایک وقت اردوتک سیکھ لی تھی۔ شیام کے کردارمیں طاہرراج نے بھی دل جیتاہے۔
نوازالدین سپورٹنگ رول کے ہیں بادشاہ
نوازالدین صدیقی کی اداکاری کوفلم ناظرین اورمداحوں کے ذریعے بہت زیادہ پسند کیاجاتاہے۔ نواز ہرکردار میں جان پھونک دیتے ہیں۔ انہوں نے فلم میں ہرکردارمیں خود کوثابت کیاہے۔یہ الگ بات ہے کہ نوازالدین صدیقی کومرکزی کردار میں ایک فلم کے علاوہ باقی فلموں میں پسندنہ کیاگیاہولیکن وہ اپنے کردارمیں مسلّمہیں۔ پہلے روز فلم منٹو نے ایک اندازے کے مطابق،صرف 40سے 45 لاکھ روپے کا بزنس کیا، فلمی پنڈتوں نے نندتا داس کی ہدایت کاری کو فلاپ قرار دیا۔
بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی فلم’ منٹو‘ کی تعریفیں بھلے ہی دنیاکے فلم فیسٹول میں ہوئی ہولیکن ہندوستانی سنیماگھروں کے پردے پر ریلیز ہونے کے بعد کچھ خاص رسپانس نہیں مل سکا۔ فلم اوپننگ ڈے یعنی جاری ہونے کے دن بیحد کم بزنس کیا۔یوں کہہ سکتے ہیں کہ نوازالدین صدیقی کوبھی یقین نہیں ہواہوگا کہ ان کی پوری دنیامیں تعریف بٹورنے والی فلم ’منٹو‘ ہندوستانی فلم ناظرین کومایوس کرے گی۔
نوازالدین صدیقی کی فلموں کی بات کریں تودیگرکئی فلموں نے پہلے ہی دن باکس آفس پرمایوس کیاہے۔ان کی فلاپ فلموں میں ایک فلم ان کے نام بھینٹ چڑھ گئی۔نوازالدین کی ’بابوموشائی بندوق باز‘ کے علاوہ کوئی بھی فلم ہندوستانی سنیماگھروں پرکمال نہیں کرسکی۔ان کی فلم ’پھریکی علی‘، ’حرام خور‘، ’ مانسون شوٹ آؤٹ‘ بھی پردے پربری طرح فلاپ ثابت ہوئیں ۔
نوازالدین صدیقی ابھی تک بالی ووڈ میں سپوٹنگ رول(معاون کردار ) یاپھرویلن کے کردارمیں ہٹ رہے ہیں، لیکن لیڈرول(مرکزی کردار) میں زیادہ تر فلموں میں فلاپ ہوئے ۔حالانکہ یہ فلم ملک بیرون ملک فلم فیسٹول میں سپرہٹ بھی ہوئی۔فی الحال دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ان کی فلم ’منٹو‘ باکس آفس پر کیا کارنامہ کرپاتی ہے؟۔
نندتا داس حساس اور باشعور فنکار ہیں
Nandita-Das
نوازالدین صدیقی بالی ووڈ میں سنجیدہ اداکار ہیں۔ان کی فلم ’منٹو‘ 21 ستمبر2018کو سنیماگھروں کی زینت بنی۔فلم کی ہدایت کار اداکارہ مصنفہ نندتا داس ہیں جن کی فلمیں ہمیشہ سے الگ ہوتی ہیں۔اس بار انہو ں نے اردوادیب وشاعرمنٹو کی با یوپک پرکام کیاہے۔ نندتا داس حساس اور باشعور فنکار ہیں۔فلم میں منٹوکا رول نوازالدین نے اداکیا ہے۔ منٹو کی زندگی کے چارسالوں کونندتاداس نے فلم میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ نندتا نے منٹوکی بایوپک کوشاندار طریقے سے دکھایاہے۔فلم کی کہانی 1946کی ہے۔شروعات ممبئی سے ہوتی ہے۔
نندتاداس نے ایک شارٹ فلم ڈائریکٹ کی تھی جس کا عنوان ان ڈیفنس آف فریڈم تھا۔ اس فلم کا مرکزی کردار بھی نواز الدین صدیقی نے نبھایا تھا۔ یہ فلم 23 مارچ، 2017ء کو یوٹیوب پر جاری ہوئی۔ سال 2008میں نندتانے بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم ’فراق‘ بنائی۔ اس فلم کی کہانی سال 2000 میں ہوئے گجرات فسادات کے مختلف واقعات پرمبنی ہے۔اس فلم میں بھی نوازالدین صدیقی، رگھوویریادو، نصیرالدین شاہ وغیرہ نے کام کیاہے۔منٹوکے چارسالوں کونندتا داس نے دوگھنٹے کی فلم میں بخوبی دکھایاہے۔جومنٹوکے بارے میں جانتے ہیں، انہیں یہ فلم زیادہ اچھی لگے گی۔بہر کیف آج کے اس دور میں منٹو کو پردہ پر کھینچ کر لانا بڑی ہمت کا کام ہے۔ اس کیلئے نندتا داس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
بہرکیف بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور نوازالدین صدیقی کا کہنا ہے کہ اداکاروں کے لئے متنوع کرداروں کو نبھانا اہم ہے۔نوازالدین صدیقی منابھائی ایم بی بی ایس، بلیک فرائیڈے، نیویارک، آتما، کک، بدلاپور، رئیس، مام ، تلاش جیسی فلموں میں مختلف کردار اداکئے ہیں ۔ نوازالدین صدیقی کا ’گینگس آف واسیپور‘ میں فیضل خان کا کردار ہو یا پھر ’بجرنگی بھائی جان‘ میں مزاحیہ صحافی کا کردار، انہوں نے اپنے ہر کردار کو نئی جہت دی ہے ان کا خیال ہے کہ بالی ووڈ کے ہیرو وقت کے ساتھ لکیر کے فقیر ہوجاتے ہیں لیکن حقیقی اداکار ایسا نہیں کرتا اور اس کا کام چلتا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ایک اداکار کے لئے مختلف کرداروں کو نبھانا بہت اہم ہے۔ میں نے سنجیدہ فلمیں کرنے کے ساتھ ساتھ پھریکی علی اور لنچ باکس جیسی فلمیں بھی کیں ہیں جو بہت ہلکی پھلکی تھیں۔
باکس
سعادت حسن منٹوایک نظرمیں
saadat-hasan-manto
منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے۔ دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہمے اورڈرے ہوئے بچہ تھے جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنے آپ کوظاہر نہیں کرپاتے تھے۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921میں ان کا ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گیا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم اے او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے یہ بہت کمزور ہوگئے اورپھر18 جنوری 1955 کو ان کا انتقال ہوگیا۔ان کے والد غلام حسن منٹو قوم اور برادری کے کشمیری تھے اورامرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔
سعادت حسن منٹو اردو کے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک ایسے افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی۔افسانہ مجھے لکھتا ہے، منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود انسانی جدوجہد، بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی ۔ منٹو نے جانی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا لوگوں کی تھی جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ۔ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے ۔اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ ان کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ،ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ اورمعاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔
منٹوکے افسانوی مجموعے ہیں دھواں،منٹو کے افسانے،نمرود کی خدائی، برقعے، پھندے، شکاری عورتیں،سرکنڈوں کے پیچھے،گنجے فرشتے،بادشاہت کا خاتمہ، شیطان، اوپر نیچے درمیان میں،نیلی رگیں،کالی شلوار،بغیر اجازت،رتی ماشہ تولہ، یزید، ٹھنڈا گوشت، بڈھاکھوسٹ، آتش پارے،خالی بوتلیں خالی ڈبے، سیاہ حاشیے،گلاب کا پھول، چغد، لذت سنگ،تلخ ترش شیرریں، جنازے، بغیر اجازت وغیرہ ہیں۔
ویسے منٹو پر پاکستان میں بھی فلمیں بنیں اور کئی سیریلس بھی۔ منٹو کو سمجھنے کے لیے اسے پڑھنا اورسمجھنا ضروری ہے۔پاکستان میں فلم ’منٹو ‘11 ستمبر، 2015ء کو سنیما گھروں میں پیش کی گئی تھی۔منٹو ایک اردو سوانحی ڈراما فلم تھی۔ اس کی کہانی شاہد ندیم نے تحریر کی ہے جبکہ فلم کی کہانی میں خود منٹو کی اپنی تیرہ کہانیوں سے بھی اخذ کردہ مناظر ہیں، فلم میں مرکزی کردار سرمد کھوسٹ کا ہے جو اس فلم کے ہدایت کار بھی ہیں۔دیگر اداکروں میں فیصل قریشی، ہمایوں سعید، صبا قمر، نمرہ بْچہ، ثانیہ سعید، نادیہ افگن اور ماہرہ خان شامل ہیں۔ فلم میں بہت سے افسانوں کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے لیکن سب سے بہترین عکاسی ٹھنڈا گوشت، اوپر نیچے درمیان میں اور ہم زاد میں پیش کی گئی ہے۔
بہر کیف نواز الدین صدیقی نے نامور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار کیا ہے ۔ فلم بینوں نے ان کی اداکاری کوبے حد سراہا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ فلم ’منٹو‘ کو رواں سال کے ’کانز فلم فیسٹول‘ میں بھی پیش کیا گیا ہے جہاں فلم کو بے حد پسند کیا گیا لیکن اب اس فلم کے لیے نواز الدین کے معاوضے نے سب کو حیران کردیا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق،فلم ’منٹو‘ کی ہدایت کارہ نندتا داس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلم ’منٹو‘ کے لیے رشی کپور اور جاوید اختر نے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا ہے جب کہ فلم میں سعادت حسن منٹو بننے والے نواز الدین صدیقی نے اس کردار کے لیے صرف ایک روپیہ معاوضہ لیا ہے۔بہرکیف بالی ووڈ اداکار نواز الدین صدیقی نے فلمی کیرئیر میں اب تک جتنے کردار کیے ہیں ، مداحوں نے انہیں بیحد پسند کیاہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *